””بروز جمعہ والدین کی قبروں کی زیارت کا ثواب““

یہ روایت بیان کرکے حافظ ابن عدی رحمہ اللہ نے فرمایا: “اور یہ حدیث اس سند کے ساتھ باطل ہے اس کی کوئی اصل نہیں، اور اس کے علاوہ عمروبن زیاد کی بیان کردہ اور روایتیں بھی ہیں جو اس نے ثقہ راویوں سے چرائی ہیں اور ان میں موضوع روایات بھی ہیں جن کے گھڑنے میں یہی متہم ہے۔افظ ابن عدی نے

فرمایا: “منکر الحدیث، یسرق الحدیث و یحدث بالبواطیل” منکر روایتیں بیان کرتا تھا، حدیثیں چوری کرتا تھا اور باطل روایات بیان کرتا تھا۔ (الکامل لابن عدی: ۱۸۰۰/۶، ۲۵۹/۶)امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے صفوان رحمہ اللہ سے بيان كيا ہے وہ كہتے ہيں مجھے مشائخ نے بيان كيا كہ وہ غضيف بن الحارث الثمالىجو كہ صحابى ہيںكى موت كے وقت ان كے پاس حاضر ہوئے تو وہ كہنے لگے: كيا تم ميں سے كوئى يٰس كى تلاوت كرتا ہے ؟ تو صالح بن شريح السكونى نے سورۃ يٰس كى تلاوت شروع كى اور جب وہ چاليس آيت كى تلاوت كر چكے تو ان كى روح قبض ہوگئى، راوى كہتے ہيں: تو مشائخ كہا كرتے تھے: جب ميت كے پاس سورۃ يٰس كى تلاوت كى جائے تو اس كى بنا پر اس سے تخفيف ہو جاتى ہے. صفوان رحمہ اللہ كہتے ہيں: اور عيسىٰ بن معتز نے ابن معبد كے پاس سورۃ يٰس

كى تلاوت كى تھى . حضرت ابي هريرة رضی الله عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بے شک الله تعالی نے آسمانوں اور زمین کی پیدائش سے ایک ہزار پہلے (سورت ) طه اور (سورت ) يٰس کو پڑها ، ( یعنی ان کی قراءت کو ظاہرکیا اوران کی تلاوت کے ثواب کوبیان کیا ) جب فرشتوں نے قرآن سنا تو کہا کہ خوشخبری ہے اس امت کے لیئے جس پر یہ ( قرآن یا طه ويس ) نازل ہوگا ، اور خوش قسمت ہیں وه سینے جو اس کو محفوظ ( یعنی حفظ ) کریں گے ، اور خوش قسمت ہیں وه زبانیں جو ( زبانی یا دیکهہ کر ) اس کی تلاوت کریں گی حضرت ابن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے فرمایا کہ رسول الله صلى الله وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : میں پسند کرتا ہوں کہ ( سورت یٰس ) میری امت کے ہر إنسان کے دل میں ہو ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *