”ذات باری تعالیٰ کس طرح عمران خان کے فیصلوں کی لاج رکھ رہی ہے ؟“

لاہور (ویب ڈیسک) نامور مضمون نگار اور پاک فوج کے سابق افسر لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔جب 2018ء کے الیکشنوں میں پاکستانی عوام نے عمران خان کو وزیراعظم منتخب کیا تھا تو اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ پاکستان کی روائتی سیاست سے بیزار ہو چکے تھے۔ عمران

 

 

 

 

 

خان کے تو خاندان میں کوئی سیاستدان نہیں تھا۔ وہ خود ایک کرکٹر تھا۔ تسلیم کہ اس نے پاکستان کی جھولی میں ورلڈکپ ڈال دیا تھا لیکن کہاں کرکٹ اور کہاں سیاست؟…… لیکن کرکٹ کا کپتان، پاکستانی سیاسیات کا کپتان بنا تو یہ اس کے روائت شکن مزاج کی ابتدا تھی…… اور اس کے بعد تو اس مزاج کی خوشبو ہر طرف پھیل گئی۔اس خوشبو کا پہلا جھونکا اس وقت دیکھنے میں آیا جب عمران نے عثمان بزدار کو پنجاب کا وزیراعلیٰ نامزد کیا۔ عثمان ایک وکیل ضرور تھے اور چھوٹے موٹے سیاسی کارکن بھی تھے لیکن پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کا سب سے بڑا عہدیدار بن جانا ایک حیرت انگیز بات تھی۔ پنجاب کے روائت پرست سیاستدان گویا سکتے میں آ گئے کہ یہ ”نیا سوہنا“ کہاں سے آ ٹپکا ہے۔ سب نے پیشگوئی کی کہ یہ حضرت جلد ہی تھک ہار کے بیٹھ جائیں گے۔ دوسری طرف عمران خان کی ضد ان کی انا کی آزمائش بن گئی۔ کئی سیاسی بزرجمہروں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور میڈیا کے کئی اکابرین نے بھی اپنی طلاقتِ لسانی کا بھرپور مظاہرہ کر ڈالا لیکن خان صاحب نے ببانگِ دہل اعلان کر دیا کہ جب تک میں وزیراعظم ہوں، عثمان بزدار ہی وزیراعلیٰ پنجاب رہیں گے!بعدازاں جوں جوں دن گزرتے گئے، عمران کی روائت شکن طبیعت کے جوہر مزید کھلتے چلے گئے۔ کئی وزراء، بیورو کریٹس اور پارٹی وڈیروں نے اس طبیعت کا کڑوا کسیلا مظاہرہ دیکھا لیکن وزیراعظم کو معلوم تھا کہ ”اھدناالصراط“ سے روگردانی، پاکستان کے حق میں نہیں۔ چنانچہ گزشتہ 3برسوں میں انہوں نے کئی بار روایاتی سیاست سے انحراف کیا۔

 

 

 

 

 

پاکستان کے بعض دانشوروں نے اگرچہ اس کی مخالفت کی لیکن جو انحرافی راستہ عمران نے چن لیا تھا اسی کو ’صراطِ مستقیم‘ سمجھا اور خدا نے بھی ان کی روائت شکنی کی لاج رکھے رکھی۔ابھی گزشتہ دنوں انہوں نے تین ایسے اقدامات اٹھائے جو بعض حلقوں میں باعثِ تنقید بنے۔ مثلاً ایک امریکی صحافی کو جو ’شٹ اپ کال‘ دی اور Absolutely Notکا نعرہ لگایا تو کئی فوجی مبصرین نے بھی ان سے اتفاق نہ کیا۔ جنرل امجد شعیب (ر) کو بالعموم فوج کے اعلیٰ طبقات کا پیام بر سمجھا جاتا ہے۔انہوں نے بھی مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا میں کھل کر Absolutely والے جواب پر تنقید کی اور عمران کو سیاسی بصیرت سے ناآشنائی کا مرتکب گردانا۔ ہفتوں تک کئی ٹاک شوز میں اس لہجے کو ”راستی ء فتنہ انگیز“ کا نام دیا جاتا رہا۔ لیکن اس کے مقابلے میں شیخ سعدی کے ”دروغِ مصلحت آمیز“ کی بھرپور نفی کا مظاہرہ عمران خان کی طبعِ روائت شکن کا نقیب تھا!اس طرح کا ایک اور مظاہرہ ہمیں CPEC اتھارٹی کے چیئرمین جنرل عاصم سلیم باجوہ کی Replacement میں نظر آیا۔ ابھی گزشتہ ہفتے ارشد شریف کے Power Playپروگرام میں جنرل باجوہ نے اس اتھارٹی کے کارناموں کا ایک زبردست پروگرام پیش کیا۔ یہ پروگرام دو گھنٹوں (مع کمرشلز) پر محیط تھا اور دو دن تک ٹی وی پر چلتا رہا۔ اس سے پہلے بھی باجوہ صاحب کئی بار ملکی اور غیر ملکی صحافیوں کو اس موضوع پر زبردست بریفنگز دیتے رہے ہیں۔ وہ خود چار برس تک ڈی جی ISPR رہے اور فوج کے کامیاب ترین ترجمانوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ اس کے بعد ان کو لیفٹیننٹ جنرل کے رینک میں پروموشن دے

 

 

 

 

 

کر سادرن کمانڈ (کوئٹہ) کا کمانڈر مقرر کیا گیا۔ جب ان کو بعداز ریٹائرمنٹ CPEC اتھارٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا تو ظاہر ہے اس میں فوج کی مرضی (Nod) بھی شامل تھی۔ لیکن جب اگلے روز ان کی جگہ منصور خالد کو اس عہدے پر متمکن کیا گیا اور جنرل باجوہ نے استعفیٰ دے دیا تو یہ ایک حیرت انگیز خبر تھی۔ اس ادلا بدلی / استعفے کی وجوہات کیا تھیں، اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔عمران خانی روائت شکنی کا ایک بڑا مظاہرہ آزادکشمیر کے وزیراعظم کے طور پر سردار عبدالقیوم خان نیازی کی تعیناتی ہے۔ آزاد جموں و کشمیر میں سردار اور راجے بہت سے ہیں۔ پنجاب میں ’سردار‘ کا مفہوم اور ہے اور اس کے ساتھ بہت سی ناگفتہ بہ روایات اور لطائف وابستہ ہیں۔ شائد یہی وجہ ہے کہ آزادکشمیر کے سوا باقی پاکستان میں ’سردار‘ لوگ کم کم پائے جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ سردار قیوم نیازی، ذات پات کے حوالے سے نیازی نہیں۔ خود عمران خان نے جب ان کے نام کے ساتھ نیازی کا لاحقہ سنا تو حیران ہوئے کہ یہ کشمیر میں نیازی چہ معنی دارد؟…… کہا جا سکتا ہے کہ اب پاکستان میں ایک کی بجائے دو نیازی وزیراعظم پائے جاتے ہیں۔پاکستان میں سیاسی اپوزیشن والے ”عمران خان“ کو ”عمران نیازی“کہہ کر پکارنے میں اپنی انتقامی انا کی تسکین ڈھونڈتے ہیں۔ یہ شاید مریم نواز کو مریم صفدر کہہ کر پکارنے کا جواب ہے۔ یا شائد بلاول زرداری کو بلاول بھٹو زرداری نہ کہنے کا ”شاخسانہ“ ہے۔

 

 

 

 

 

پاکستان کی خاندانی / وراثتی روایات میں نواز اور بھٹو کو اگلی نسل میں استعمال کرنا پاکستان کے ”عوام کل الانعام“ کی روائت پرستی کی ذہنیت کا آئندہ دار ہے۔گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے آزادکشمیر کے وزیراعظم کا انتخاب کرنے کے لئے چار ممکنہ امیدواروں کا انٹرویو کیا تھا۔ ان میں بیرسٹر سلطان محمود، سردار تنویر الیاس، خواجہ فاروق احمد اور اظہر صادق شامل تھے۔ میڈیا اور عوام یہی سمجھ رہے تھے کہ ان چار درویشوں میں کوئی ایک درویش کشمیر کی وزارتِ عظمیٰ کے عہدے پر سرفراز کر دیا جائے گا۔ لیکن کسی کو بھی یہ خبر نہیں تھی کہ یہاں بھی پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے انتخاب کی روائت کا اعادہ ہو گا جو عمران خان کی روائت شکن طبیعت کا ایک اور ثبوت فراہم کر دے گا۔سردار عبدالقیوم نیازی کا خاندان ”آل جموں اینڈ کشمیر کانفرنس“ سے وابستہ ہے۔ مسٹر نیازی نے 23برس کی عمر میں 2001ء میں پہلے الیکشنوں میں بطور آزاد امیدوار حصہ لیا تھا کیونکہ مسلم کانفرنس نے ایک اور شخص کو ٹکٹ دے دیا تھا۔ ان انتخاب میں نیازی صاحب ناکام ہو گئے تھے لیکن 5برس بعد اگلے انتخابات میں (2006ء میں) ان کو مسلم کانفرنس کی طرف سے ٹکٹ مل گیا اور وہ کامیاب ہو گئے…… اب سردار عبدالقیوم خان نیازی پر ایک گرانقدر ذمہ داری آن پڑی ہے۔ تعلیم، رسل و رسائل، صحت، بے روزگاری اور علاقے کی عمومی تعمیر و ترقی کا بوجھ ان کو اگلے 5برسوں تک بے حد مصروف رکھے گا:دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.