جہانگیرترین گروپ ان دنوں کیوں خاموش ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک ) نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔وزیراعلیٰعثمان بزدار نے پچھلے تین سال میں اتنی کامیابی تو حاصل کی ہے کہ اب مسلم لیگ(ن) اُنہیں ہدفِ تنقید نہیں بناتی،اُس کی ساری توپوں کا رُخ وزیراعظم عمران خان کی طرف ہے۔ ایک زمانہ تھا مسلم لیگ(ن) نے وسیم اکرم پلس کا روزانہ

 

 

 

 

 

نام لینا اپنا معمول بنا رکھا تھا، صبح و شام پنجاب کو ایک اناڑی کے سپرد کرنے کی گردان کی جاتی تھی۔ یہ بھی کہا جاتا تھا عمران خان شریف برادران کی حمایت پر پنجاب کے عوام سے بدلا لے رہے ہیں۔ یہ مطالبے بھی داغے جاتے تھے، عثمان بزدار کو ہٹا کر کسی اہل آدمی کو پنجاب کا وزیراعلیٰ بنایا جائے، صوبے کو اس طرح برباد نہ کیا جائے،مگر ایک طرف وزیراعظم عمران خان دُھن کے پکے تھے اور دوسری طرف عثمان بزدار بھی ٹک ٹک کر کے اپنی محتاط اننگ جاری رکھے ہوئے تھے۔پھر ایک طوفان اُس وقت بھی عثمان بزدار کے خلاف آیا جب خود تحریک انصاف کے اندر سے اُنہیں ہٹانے کے آوازیں آنے لگیں۔ان کے پیچھے کچھ امیدواروں کی خواہشیں بھی تھیں،جو کپتان کو وزیراعلیٰ بنانے پر راضی کرنے میں ناکام رہے تھے اور کچھ کو عثمان بزدار کی بے نیازی پسند نہیں تھی، سازشیں اس حد تک بڑھیں کہ وزیراعظم کو بار بار لاہور آ کر عثمان بزدار کی پیٹھ پر تھپکی دینی پڑی اور صاف صاف بتانا پڑا کہ پنجاب میں اُن کی عثمان بزدار کے سوا کوئی چوائس نہیں۔آج یہ حال ہے عثمان بزدار کا کلہ پوری طرح مضبوط ہے اور اب اُن کا ذکر بھی کوئی نہیں کرتا کہ انہیں تبدیل کر کے پنجاب کو بچایا جائے،ہم جیسے مبصرین بھی اب یہ نہیں کہتے عثمان بزدار کا اقتدار کسی وقت بھی قصہ ماضی بن سکتا ہے۔سب کو یقین آ گیا ہے جب تک تحریک انصاف کی حکومت ہے پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار ہی رہیں گے۔

 

 

 

 

 

گویا شہباز شریف کے بعد وہ بھی پنجاب کے ایسے وزیراعلیٰ ہوں گے،جنہوں نے اپنی آئینی مدت پوری کی ہو گی۔ہم ملتان والوں کو تو شروع میں یہ کہا گیا، شاہ محمود قریشی چونکہ صوبائی نشست پر ہار گئے ہیں،اِس لئے وقتی طور پر کپتان نے وزیراعلیٰ تونسہ شریف سے لیا ہے،جونہی ضمنی انتخابات میں شاہ محمود قریشی کسی نشست سے جیت کر ایم پی اے بنیں گے وزارتِ اعلیٰ انہیں مل جائے گی۔اس دُکھ کی وجہ سے بھی شاہ محمود قریشی ایک عرصے تک عثمان بزدار سے دور رہے،وہ یہ بھی سمجھتے تھے عثمان بزدار کو لانے والے جہانگیر خان ترین ہیں،اِس لئے یہ دوری برقرار رہی۔ جب تحریک انصاف کی پنجاب میں حکومت بنی تو اس کے بعد ایک عرصے تک عثمان بزدار نے ملتان کا دورہ نہ کیا۔ مَیں نے اس بارے میں ایک دو کالم بھی لکھے۔ کہا یہی جاتا تھا کہ جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی گروپوں کی وجہ سے وزیراعلیٰ ملتان نہیں آتے، ڈیرہ غازی خان چلے جاتے ہیں۔ گویا عثمان بزدار نے ہر محاذ پر قدم پھونک پھونک کر ر کھے، وہ کسی گروپ کا حصہ بننا چاہتے تھے اور نہ ہی کسی گروپ کو ناراض کرنا چاہتے تھے، وہ یہ جان گئے تھے صرف عمران خان ہی ایسے مرشد ہیں جن سے اُن کا تعلق مضبوط رہنا چاہئے۔اُن کی یہ پالیسی کامیاب رہی، درمیان میں کچھ چھوٹے چھوٹے گروپ سامنے آئے، جن کا مقصد دباؤ ڈال کر اپنے کام کرانا تھا، ایسے گروپوں کی وجہ سے یہ افواہیں اُڑیں کہ عثمان بزدار کے اقتدار کا سورج غروب ہونے والا ہے،

 

 

 

 

مگر کپتان کی مکمل آشیر باد اور اپنی عمدہ سیاسی چالوں سے عثمان بزدار ایسے بحرانوں سے بھی نکل گئے۔جہانگیر ترین نے ہم خیال گروپ بنایا تو ایک حکمت عملی کے تحت یہ شوشہ چھوڑا گیا،اُس کا ہدف وزیراعظم عمران خان نہیں،بلکہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار ہیں،چونکہ اس گروپ میں زیادہ تر ارکان پنجاب اسمبلی کے تھے،اِس لئے مسلم لیگ(ن) نے تو یہ تک کہہ دیا پنجاب اسمبلی میں حکومت کی اکثریت ختم ہو گئی ہے اور عثمان بزدار اعتماد کھو چکے ہیں۔یہ وہ دن تھے جب عثمان بزدار کی سیاسی صلاحیتیں سامنے آئیں۔انہوں ن ہم خیال گروپ کے ناراض ارکان سے فرداً فرداً اور گروپ کی شکل میں ملاقاتیں کیں،اُن کے مسائل و شکایات سنیں اور اُن کے ازالے کے لئے فوری اقدامات کئے، اِن ملاقاتوں کے بعد ہم خیال گروپ کے موقف میں تبدیلی آ گئی۔ اُس نے یہ بیانیہ واپس لے لیا کہ وزیراعظم عمران خان پنجاب میں تبدیلی لائیں اور یہ کہا ہم صرف جہانگیر ترین کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے خلاف اکٹھے ہوئے ہیں۔ یوں ایک بار پھر وسیم اکرم پلس نے پی ٹی آئی اور پنجاب حکومت کو بحران سے نکال لیا۔ اب صورتِ حال بالکل تبدیل ہو چکی ہے، عثمان بزدار کی تبدیلی کی افواہیں جنم نہیں لیتیں، سب مان گئے ہیں پنجاب میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے ہی رہنا ہے۔ حتیٰ کہ چودھری پرویز الٰہی بھی اب عثمان بزدار کو بااختیار اور باصلاحیت وزیراعلیٰ تسلیم کرتے ہیں، جس طرح وزیراعظم عمران خان کے بارے میں اپوزیشن کا یہ کہنا تھا انہیں سیاست اور اقتدار کا کوئی تجربہ نہیں،

 

 

 

 

مگر انہوں نے سیاست بھی کر کے دکھائی اور اقتدار کے تین سال بھی کامیابی سے گزر چکے ہیں،اُسی طرح عثمان بزدار کے بارے میں بھی یہی کہا جاتا تھا،لیکن اب شاید اُن کے سیاسی مخالفین کو اندازہ ہو گیا ہے، تونسہ شریف کا یہ نوجوان بڑی تیزی سے سیاست و اقتدار کی بساط کو سمجھ چکا ہے اور بڑی مہارت سے چالیں چل رہا ہے۔ہم جنوبی پنجاب میں رہنے والوں کو وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے آنے سے بڑا فائدہ ہوا ہے۔ کل ڈیرہ غازی خان سے دیرینہ دوست عارف کمال اور ماجد لودھی ملنے آئے تو انہوں نے بتایا وہاں بے شمار ترقیاتی کام ہو رہے ہیں،وہ علاقے بھی ترقی کے ثمرات سے بہرہ مند ہو رہے ہیں، جنہیں ستر برسوں میں نظر انداز کیا گیا۔پنجاب کے بجٹ کا 35فیصد جنوبی پنجاب کے لئے مختص کر کے بزدار حکومت نے ایک تاریخی کام کیا ہے۔ شہباز شریف پر اعتراض یہی کیا جاتا تھا وہ سارا بجٹ لاہور پر خرچ کر دیتے تھے،اب باقاعدہ35 فیصد بجٹ کو اس پابندی کے ساتھ مختص کر کے اسے کسی اور جگہ منتقل نہیں کیا جا سکتا، ایک بڑا قدم اٹھایا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا ایک گھر ملتان میں بھی ہے، اُن سے یہی کہنا ہے،جس طرح وہ ڈیرہ غازی خان پر توجہ دے رہے ہیں،اُسی طرح ملتان پر بھی دیں، یہاں بھی افسروں سے باز پرس کریں اور اسے شاہ محمود قریشی کی صوابدید پر نہ چھوڑیں، جنہوں نے سیاسی گروپ بندی کی وجہ سے ملتان کو محرومیوں کا شکار کر دیا ہے۔ اپنے اگلے دو سال عثمان بزدار پنجاب میں گڈ گورننس کو یقینی بنانے پر توجہ دیں،اس شعبے میں بہتری لا کر وہ ایک کامیاب وزیراعلیٰ کا مرتبہ پا سکتے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.