”حسن نثار کی خصوصی تحریر“

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار حسن نثار اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔14اگست ہے لیکن کیا واقعی ’’یومِ آزادی‘‘ بھی ہے؟ یا پھر پرندوں سمیت پنجرہ کمرے سے نکال کر صحن میں رکھ دیا گیا تھا؟آج کے اِس نیم آزاد، نیم غلام کالم کا … انتساب ہے۔جھوٹ بولنے والوں کے نام کم تولنے والوں کے نام ملاوٹ کرنے

 

 

 

 

 

والوں کے نام جعلی دوائیں بنانے والوں کے نام کمیشن، کک بیک، رشوت کھانے والوں کے نام گھوسٹ اسکولوں، گھوسٹ ملازمین، گھوسٹ پولنگ اسٹیشنوں کے نام ریلوے، اسٹیل مل تا پی آئی اے کے نام معزز قبضہ گروپوں کے نام کتوں اور گدھوں کا ’’مٹن‘‘ بنانے والوں کے نام مردہ جانوروں کی انتڑیوں سے کوکنگ آئل بنانے والوں کے نام اسپتالوں کی ویسٹ سے بچوں کے فیڈر بنانے والوں کے نام۔ پیشہ ور گواہوں اور جھوٹے حلف اٹھانے والوں کے نام ذخیرہ اندوزوں اور بلیک کرنے والوں کے نام چوہے کے قیمے سے سموسے بنانے والوں کے نام آئین کی شق 62-63کے نام ضمیر فروش قلم کاروں اور فتویٰ فروشوں کے نام جعلی کلیموں، جعلی ذاتوں اور جعلی ڈگریوں کے نام نیلام شدہ امتحانی مراکز کے نام اسکولوں سے باہر دھکے کھاتے شاہینوں کے نام بیروزگاری و بیکاری کے نام اپنوں کے ہاتھوں غیرمحفوظ بچوں اور عورتوں کے نام گھروں کی دہلیز پر ملتے فوری انصاف کے نام معزز چوروں، بہروپیوں، جیب کتروں، ٹھگوں، راہزنوں، لٹیروں، نقب زنوں اور ڈبل شاہوں کے نام۔یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی قارئین!اب چلتے ہیں برسوں پرانے دو کالموں کی طرف جو ’’یومِ آزادی‘‘ پر ہی لکھے تھے (اقتباسات) بیروزگاری اور بھوک سے تنگ آکر خودکشی

 

 

 

 

 

کرنے کی …آزادی فٹ پاتھوں، پارکوں میں سونے کی …آزادی انصاف کی جگہ ’’تاریخ‘‘ لینے کی …آزادی کمسن بچوں کیلئے ’’چائلڈ لیبر‘‘ کی …آزادی جہیز کے انتظار میں بوڑھا ہونے کی …آزادی عوامی نمائندوں کیلئے قرضوں، پلاٹوں بیرون ملک علاج کی … آزادی اکثریت کیلئے مخصوص اقلیت کو ووٹ دینے کی …آزادی سرعام رشوت حرام کھانے کی …آزادی غنڈوں کے نرغہ میں سربازار لٹنے کی …آزادی کروڑوں پاکستانیوں کو خط غربت پر رینگنے کی …آزادی قدم قدم پر میرٹ کی دھجیاں اڑنے کی …آزادی آدھے پاکستان کا پورا قومی ترانہ سننے کی …آزادی’’آٹا آٹا کردی نی میں آپے آٹا ہوئی‘‘ گانے کی …آزادی اور اب دوسرے کالم سے اقتباس جس کا عنوان ہی کسی ہزار داستان سے کم نہیں۔’’جنگِ آزادی جاری ہے‘‘14اگست 1947ء کو ہم آسمان سے گرے اور …کھجور میں اٹک گئے۔ آگ سے نکلے اور چولہے پہ دھرے فرائنگ پین میں جا گرے۔ حاکم تو رہے، ذرا رنگ روپ، نام بدل گئے اور تھوڑی سی تبدیلی جغرافیہ میں آئی یا پاسپورٹ تبدیل ہوا لیکن عام آدمی کی تو نہ تاریخ تبدیل ہوئی نہ تقدیر۔ مہاجروں، پناہ گزینوں کے جن لٹے پٹے قافلوں نے 47ءمیں جس جان لیوا سفر کا آغاز کیا تھا، وہ آج تک جاری ہے اور جن قافلوں پر مختلف جتھے دھاوا بول رہے تھے، آج بھی ہو

 

 

 

 

 

رہے ہیں۔ بچے عورتیں تب بھی غیر محفوظ، آج بھی غیر محفوظ، البتہ دھاوا بولنے والوں کے حلیے اور نام ضرور مختلف ہیں۔ اِسی سفر میں قافلے کا ایک حصہ کٹ کر علیحدہ ہو گیا یعنی آزادی کے اندر سے اک اور آزادی برآمد ہو گئی …باقیماندہ پر نقب زنی و سنگ زنی جاری ہے۔ طاعون کی طرح پھیلتے ہوئے قرضے، کوڑھ کی طرح رستی بدعنوانی ، نظریہ پاکستان کی مسلسل تلاش، افغان مہاجرین، طبقات ہی نہیں ذات برادری، فرقے، رنگ، نسل، قوم کی شکل میں قوم کی کامیاب تقسیم، جہالت کی آسان قسطوں میں فروخت، ہتھیار کلچر، مہنگائی کی موسیقی، سفید جھوٹوں کا کالا دھندا اور جشنِ آزادی؟ اس المیہ ڈرامہ کا کلائمکس تبدیل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ اس کے آخری مناظر نئے سرے سے لکھے جائیں اور …جشنِ آزادی کی جگہ آزادی کے لیے لڑائی شروع کی جائے کہ عوام تو آج بھی مظلومیت، محرومیوں، استحصال کے غلام ہیں‘‘۔آزادی …میرے سپنوں کی شہزادی

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.