کاروبار میں‌ ترقی کے لیے خاص وظیفہ

درج ذیل وظیفہ کو اپنا معمول بنا لیں جس سے اللہ تعالی وسعت رزق سے نوازے گا اور فقر و فاقہ سے محفوظ رکھے گا۔اول و آخر 11 مرتبہ درود شریف پڑھ کر ’’یارزاق‘‘ کا ورد 41 مرتبہ کریں۔ اس وظیفہ کو حسب معمول 3 یا 11 دن یا اس سے بھی زیادہ عرصے تک جاری رکھ سکتے ہیں۔ اس وظیفہ کے ساتھ ساتھ

نماز کی پابندی کریں اور تلاوت قرآن کا معمول بنائیں اور بکثرت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجیں۔واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔ اسکے ساتھ آپ ایک اور وظیفہ بھی جاری رکھیں جو شخص کاروبار میں مندی اور ملازمت کی وجہ سے پریشانی کا شکار ہو یا ملازمت میں ترقی کا خواہش مند ہو ، اگر کسی مشکل میں پھنسا ہو تو یہ وظیفہ خاص اس کیلئے ہے۔ایسے شخص کو چاہئے کہ وہ آٹے کی سو گولیاں جو انگور کے دانہ کے برابر ہوں بنا لے، اور انہیں دھوپ میں سکھا لے یا بغیر سکھائے ہر جمعرات کے دن عشا کی نماز پڑھنے کے بعد ان آٹے کی ہر ایک گولی پر ایک مرتبہ آیت کریمہ لا الہ الا انت سبحٰنک ان کنت من الظلمین پڑھے۔اس طرح سو مرتبہ آیت کریمہ پڑھنے کی تعداد ہو جائے گی، اس عمل کے اول و آخر گیارہ مرتبہ درود ابراہیمی پڑھے۔ اس کے بعد ان گولیوں کو دریا میں یا صاف بہتےپانی میں بہاد یں۔ اس عمل کی بدولت بہت سے افراد نے اپنی مراد پائی ہے اور اللہ نے انہیں اپنے خزانوں سے غنی بنا دیا۔ اکثر لوگوں کے زبان یہ گلہ و شکایت رہتی ہے کہ ان ہاتھوں میں پیسے ٹکتے نہیں بلکہ خرچ ہو جاتے ہیں ۔ ایسے لوگ جن کےپیسوں میں یا رزق میں برکت نہیں تو پریشان نہ ہوں بلکہ اس مسئلے میں مبتلا افراد روزانہ نماز فجر اور عشا کی نماز کے بعد گیارہ ،گیارہ سو مرتبہ ’’یا غنی ‘‘ کا ورد کریں ۔ اللہ تعالی کے فضل کرم سے ان کے رزق میں بے پناہ اضافہ اور برکت آجائے گی ۔ یہ مجرب وظیفہ رزق اور بندش کے خاتمہ کیلئے نہایت بہترین ہے ،کوئی بھی دکاندااور تاجر دفتر کھولنے سے پہلے ستر مرتبہ ’’یا غنی‘‘ پڑھے گا تو انشااللہ اللہ پاک کاروبار میں برکت اور رزق میں اضافہ ہو گا اور کبھی بھی کسی نقصان کا خوف نہیں رہے گا ۔ جمعرات اور جمعہ کی شب اس اسم مبارک ’’یا غنی ‘‘ کو انیس ہزار مرتبہ پڑھنے اور عمل کو جاری رکھنے سے انسان کو غیب سے دولت ملتی ہے ۔اوربہت جلد کاروبار میں ترقی ہوگی اور رزق حلال کہاں کہاں سے آئے گا کہ عقل دنگ رہ جائے گی ‎‎

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *