نمبرماننگنے کی سزا، خاتون نے نوجوان پر تھپڑوں کی بارش کرکے اس کی درگت بنا دی،ویڈیودیکھنے کیلئے یہاں کلک کریں ،مزہ نہ آئے توپیسے واپس

لاہور (نیوز ڈیسک)لاہور کے شاپنگ مال میں اوباش نوجوان کو خاتون سے نمبر مانگنا مہنگا پڑ گیا، خاتون نے نوجوان پر تھپڑوں کی بارش کرکے اس کی درگت بنا دی، ویڈیو وائرل- تفصیلات کےمطابق اکثر اوقات شاپنگ مال میں آوارہ نوجوان خواتین سے چھیڑ چھان کرنے کیلئے آجاتے ہیں، ایسے میں بعض نوجوان پکڑے

 

 

 

 

 

جانے پر سکیورٹی اہکاروں کی جانب سے مال یا دیگر عوامی مقامات سے باہر نکال دیے جاتے ہیں، تو وہیں ایسے نوجوان بھی ہوتے ہیں، جو خواتین کے ہتھے چڑ جاتے ہیں اور پھر خواتین انہیں موقع پر ان کے غیر مناسب عمل کی سزا دے دیتی ہیں، گزشتہ دنوں لاہور کے معروف امپوریم مال میں بھی ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا، جب ایک نوجوان شاپنگ مال میں خاتون سے نمبر مانگتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا، جس کے بعد خاتون نے اس نوجوان پر تھپڑوں کی بارش کرکے اس کی درگت بنا دی- اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے- ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نوجوان اپنی غلطی ماننے سے انکار کر رہا ہے جبکہ خاتون مسلسل اسے تھپڑ رسید کر رہی ہے- اس ویڈیو پر سوشل میڈیا صارفین کا دلچسپ ردعمل بھی سامنے آیا ہے- اکثر اور بیشر صارفین نے خاتون کو اس کی بہادری پر شاباش دی اور دیگر خواتین کو بھی یونہی بہادری کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی- واضح رہے کہ پاکستان میں خواتین کو ہراسا کرنے اور ان کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں بڑھوتری دیکھنے میں آئی ہے، تاہم پولیس اور دیگر حکام اس حوالے سے کوئی اہم اقدامات اٹھانے میں ناکام ٹھہرے ہیں، حال ہی میں کراچی میں خاتونپروفیسر کو ہراساں کرنے پر جامعہ کراچی کے سابق اسسٹنٹ پروفیسر کو 10سال قید بامشقت کی سزا سنادی گئی۔ نجی ٹیلی ویژن چینل کی رپورٹ کے مطابق کراچی سٹی کورٹ میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شرقی کی عدالت نے خاتون

 

 

 

 

 

پروفیسر کو ہراساں کرنے کے مقدمہ کا فیصلہ سنا دیا۔ گزشتہ سماعت پر فریقین کے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ استغاثہ کے مطابق جامعہ کراچی کے سابق اسسٹنٹ فرحان کامرانی نے خاتون پروفیسر کے نام سے جعلی فیس بک اکاؤنٹ بنایا، اور اس جعلی اکاؤنٹ میں نازیبا تصاویر اپلوڈ کی تھیں، ان تصاویر اور اکاؤنٹ کے ذریعے وہ خاتون پروفیسر کو بلیک میل کر رہا تھا۔ ملزم جامعہ کراچی کے شعبہ نفسیات کا پروفیسر تھا، خاتون پروفیسر نے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی سائبر کرائم میں مقدمہ درج کروایا تھا۔ استغاثہ عدالت میں ملزم کا جرم ثابت کرنے میں کامیاب رہا، جس کے بعد عدالت نے مجرم کو مجموعی طور پر 10 سال قید کا حکم دے دیا۔ عدالت نے ملزم کو 50 ہزار روپے جرمانہ بھی ادا کرنے کا حکم دے دیا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل خیبر پختونخوا میں محتسب برائے انسدادِ ہراسانی نے اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور میں طالبہ سے ہراسانی کے الزام میں یونیورسٹی کے پروفیسر امیر اللہ کو ملازمت سے برطرف کرنے کی سفارش کی تھی۔ محتسب کی جانب سے انتظامیہ کو اس معاملے میں مناسب اقدامات نہ کرنے پر غفلت کا مرتکب قرار دیا گیا تھا۔ پروفیسر نے تمام الزامات کی تردید کی تھی اور اپنے دفاع میں خیبرپختونخوا کے محتسب کے دائرہ اختیار پر سوال اٹھائے۔ اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور میں طلبا اور طالبات نے گذشتہ سال نومبر میں ہراسانی کے واقعات کے خلاف احتجاج کیا تھا جس کے بعد یہ کارروائی

 

 

 

 

 

شروع کی گئی تھی۔صوبے میں جنسی ہراسانی کے واقعات کی روک تھام کے لیے تعینات صوبائی محتسب رخشندہ ناز نے اس مقدمے کی سماعت کی جس میں انھوں نے دونوں جانب سے دلائل سنے اور تمام متعلقہ افراد کے بیانات قلم بند کیے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے نہ صرف جنسی ہراسانی بلکہ طالبہ کے خلاف سوشل میڈیا پر جاری مہم رکوانے کے لیے بھی کوئی مناسب اقدامات نہیں کیے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.