قرآن مجید کی ایک آیت جو اللہ کو بہت پسند ہے! اس کو پڑھتے ہی انسان تمام دلی مرادیں پوری! سچے معجزات! آزما کر دیکھ لو فائدہ ہو گا

حضرت عثمان (بن عفان) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن حکیم سیکھے اور سکھائے۔اور ایک روایت میں ان ہی سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک تم میں سے افضل شخص وہ ہے

جو قرآن سیکھے اور سکھائے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو قرآن مجید سیکھیں اور سکھائیں۔ عاصم کہتے ہیں: مصعب نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اس (اعلیٰ) مقام پر بٹھایا کہ میں (اسے) قرآن پڑھاؤں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنھا روایت فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن مجید کا ماہر معزز و محترم فرشتوں اور معظم و مکرّم انبیاء علیہم السلام کے ساتھ ہوگا اور وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہو لیکن اس میں اٹکتا ہو اور (پڑھنا) اس پر (کند ذہن یا موٹی زبان ہونے کی وجہ سے) مشکل ہو اس کے لئے بھی دوگنا اجر ہےایک دوسری روایت میں ہے کہ وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہے حالانکہ یہ پڑھنا اس کے لئے سخت مشکل ہو، اس کے لئے دو اجر ہیں حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو بندہء مومن قرآن مجید پڑھتا رہتا ہے اس کی مثال مالٹا کی طرح (عرب کے ایک) لذیذ پھل کی سی ہے جس کی خوشبو بھی اچھی اور مزہ بھی خوب اور پاکیزہ ہوتا ہے۔ اور وہ بندہء مومن

جو قرآن نہیں پڑھتا اس کی مثال خشک کھجور کی سی ہے جس میں خوشبو تو نہیں ہوتی البتہ ذائقہ شیریں ہوتا ہے۔ اور وہ منافق جو قرآن مجید پڑھتا ہے اس کی مثال ریحانہ (گلاب کے پھول) کی سی ہے کہ اس کی خوشبو اچھی اور ذائقہ کڑوا ہوتا ہے۔ اور اس منافق کی مثال جو قرآن پاک کی تلاوت نہیں کرتا حنظلہ (تمہ) کی سی ہے کہ اس میں خوشبو بالکل نہیں ہوتی اور ذائقہ بھی کڑوا ہوتا ہےایک اور روایت میں منافق کی بجائے فاجر (یعنی بدکار) کے الفاظ ہیں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ مومن بندہ جو تلاوتِ قرآن کرتا ہے اس کی مثال مالٹا کی طرح (عرب کے ایک) لذیذ پھل کی سی ہے کہ اس کی خوشبو بھی خوش کن اور مزہ بھی اچھا ہوتا ہے۔ اور وہ مومن بندہ جو قرآن نہیں پڑھتا اس کی مثال سوکھی کھجور (چھوہارہ) کی طرح ہے جس میں خوشبو تو نہیں ہوتی لیکن ذائقہ شیریں ہوتا ہے۔ اور فاجر (بدکار) جو قرآنِ پاک پڑھتا ہے اس کی مثال ریحانہ (گلاب کے پھول) کی سی ہے کہ اس کی خوشبو اچھی اور ذائقہ کڑوا ہوتا ہے۔ اور قرآن پاک کی تلاوت نہ کرنے والے فاجر کی مثال حنظلہ (تمہ) کی سی ہے کہ اس کا ذائقہ بھی کڑوا ہوتا ہے اور خوشبو بالکل نہیں ہوتی

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *