”جاوید چوہدری کا حیران کن اعتراف ، ماضی کا حیران کن واقعہ بیان کردیا“

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔میں سائنس کا طالب علم تھا‘ میں نے جی بھر کر رٹے لگائے لیکن ایف ایس سی میں فیل ہو گیا۔مجبوری کے عالم میں آرٹس کی طرف گیا اور پوزیشنیں حاصل کرنا شروع کر دیں‘ اسی طرح میں نے ایل ایل بی کے لیے لاء کالج میں داخلہ لے

 

 

 

 

 

لیا‘ میں پہلے سال ہی فیل ہوگیا‘ یہ ناکامی مجھے صحافت کی طرف لے آئی‘ میں نے صحافت میں ایم اے کیا‘ یونیورسٹی میں پہلی پوزیشن حاصل کی‘ اخبار کی نوکری شروع ہوئی تو میں صحافت کے مختلف شعبوں میں بھی ناکام ہوتا رہا یہاں تک کہ کالم نگاری میں آ گیا اور چل نکلا۔ میں آج واپس مڑ کر دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے میں بھی کئی بار اس مصور کی طرح آخری قدم پر کھڑا تھا اور اگر اس وقت کوئی شخص میری تصویر خراب نہ کرتا تو میں بھی 24ویں منزل سے نیچے گر گیا ہوتا۔مجھے میری ناکامیاں آہستہ آہستہ گھسیٹ کر صحافت میں لے آئی تھیں اور صحافت نے مجھے کالم نگاری میں دھکیل دیا جو دراصل میری فیلڈ تھی۔ میں اگر ماضی کی ناکامیوں سے سبق نہ سیکھتا‘ میں مسلسل سائنس کی چٹان کے ساتھ ٹکریں مارتا رہتا یا پھر ان فیلڈز کے ساتھ الجھتا رہتا جو میرا اصل راستہ نہیں تھیں تو میرا کیا بنتا؟میں یقینا آج بیمار‘ چڑچڑا اور اندر سے زخمی بھی ہوتا اور زندگی کا شاقی بھی لیکن اللہ نے کرم کیا‘ میری تصویر بار بار خراب ہوتی رہی یہاں تک کہ میں چوبیس منزل اونچے پلیٹ فارم سے نیچے آ گیا۔زندگی کے غم‘ زندگی کے مسائل اور ہماری زندگی کی ناکامیاں دراصل وہ دھوپ ہوتی ہیں جن کے بغیر زندگی کے آم میں رس نہیں آتا‘ جن کے بغیر زندگی کا

 

 

 

 

 

تربوز اندر سے سرخ نہیں ہوتا اور جن کے بغیر ہماری ہڈیوں میں تحریک اور طاقت پیدا نہیں ہوتی لیکن ہم لوگ اکثر ان ناکامیوں کے بعد ہمت ہار جاتے ہیں اور اس قدرت کی شکایت شروع کر دیتے ہیں جو اگر عین وقت ہماری تصویر خراب کرنے کے لیے کسی اجنبی کو نہ بھجوائے تو ہم 24ویں منزل سے نیچے گر جائیں اور ہماری ہڈیاں تک زمین میں خاک کی طرح مل جائیں۔ہمارے منصوبوں اور ہماری کوششوں کی تصویریں خراب ہو رہی ہیں اسی لیے تو ہم زمین پر کھڑے ہیں‘ اسی لیے تو ہم زندہ ہیں اور اسی لیے تو ہم آگے بڑھ رہے ہیں‘ یہ تو اللہ کا کرم ہے جسے ہم اس کا عذاب سمجھ رہے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.