”صرف70بارپڑھیں“

تسبیح کے دانو ں پر یہ وظیفہ کر لو جیسے ہی تسبیح پوری وہ گی سارا گھر دولت سے بھر جائے گا رزق بجلی کی طرح آپ کے گھر میں آ ئے گا۔ اللہ کی تعریف: بھینس جو زمین پڑا گھاس کھا تی ہے اس میں جراثیم ہوتے ہیں لیکن جو دودھ بنتا ہے وہ ہمیشہ صاف ہوتا ہے اور شفاف ہوتا ہے۔یہ سب کس کی قدرت ہے ؟ یہ

سب میرے اللہ رب کی قدرت ہے سبحان اللہ۔ آج میں آپ کے پیشِ نظر ایک ایسا وظیفہ لے کر حاضر ہوا ہوں جس کو پڑ ھتے ہی آپ کا سارا گھر دولت سے بھر جائے گا۔ موجود دور میں سائنس کی ترقی اور یاجادات نے انسانی زندگی کو آ سان بنا یا ہے اور اس دنیا میں بہت سے افراد کے پاس دولت ہی دولت آ نا شروع ہو گئی اور وہ دنیا کے امیر ترین لوگ کہلا نے لگے۔جیساکہ آپ جانتے ہیں آج بھی دنیا میں بہت سے امیر لو گ موجود ہیں لیکن ان سب کے باوجود دنیا میں غربت کا خاتمہ نہیں ہو پا رہا۔ لوگ اپنی ضروریات کو پورا کر نے کے لیے کسی بھی حد تک چلے جاتے ہیں۔اگر آپ بھی غربت سے تنگ ہیں اور اپنے مال و دولت میں برکت چاہتے ہیں تو آج ہی اس وظیفے پر عمل کر یں اور اللہ کی رحمتوں اور بر کتوں کے حقدار بنیں۔ عمل اور ضروری ہدایات: یہ وظیفہ آپ نے نمازِ ظہر کے بعد کر نا ہے اور اللہ کے اسمِ اعظم ” یا اللہ یارزاق ” کو ایک سو اکیس مرتبہ پڑ ھنا ہے اور ساتھ ہی سورۃ حشر کی آ یات پندراں تا بیس کو تین مرتبہ پڑ ھنا ہے۔ دو مرتبہ

دروودِ پاک پڑ ھنا ہے اور آخر میں اللہ سے دعا کر نی ہے اس عمل کو سات روز تک کر نا ہے۔ان شاء اللہ اللہ آپ کو اتنا مال و دولت عطا کر ے گا کہ سب لوگ آپ کی قسمت پر رشک کر یں گے۔ آپکا سارا گھر ما ل و دولت سے بھر جائے گا رزق بجلی کی طرح آپ کے گھر داخل ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہمار اوقات کے مطا بق نہیں بلکہ اپنی شان کے مطا بق نعمتیں عطا فرمائے۔ وظیفہ کر نے سے پہلے پہلے کچھ نہ کچھ صدقہ و خیرات کر لیا کر یں۔ ہر وظیفہ ہر عمل ہر نسخہ جو کہ قدرت کی طرف سے ہوتا ہے وہ عمل وہ نسخہ وہ وظیفہ انسان کی بہتری کے لیے ہی ہوتا ہے اور اللہ پاک انسان اپنے بندے کی بہتری کے لیے ہی سب کچھ کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ اس کے بندے کی بہتری ہی ہو جائے تبھی اپنے بندے کی آ سانی کے لیے یہ وظائف نازل فر ما ئے ہیں تا کہ ان سے انسان فائدہ اٹھا سکے۔ اور اپنی مشکلات کا حل تلاش کر سکے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *