”پابندی کا شکار حامد میر کا تہلکہ خیز اعلان“

لاہور (ویب ڈیسک) بی بی سی کے پروگرام ہارڈ ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ’میں عمر قید کی سزا کے لیے تیار ہوں۔ کیونکہ اگر وہ مجھے سزا دیتے ہیں تو پوری دنیا کو معلوم ہو جائے گا کہ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے۔ ویسے دنیا کو پہلے ہی معلوم ہے کہ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے کیونکہ میں پاکستان میں

 

 

 

 

 

سنسرشپ کی زندہ مثال ہوں۔’سب کو ان لوگوں کے نام معلوم ہیں، جن کا میں نے ذکر نہیں کیا۔ سب کو معلوم ہے کہ مجھ پر پابندی کا کون ذمہ دار ہے۔ عام پاکستانی بہت سمجھدار ہیں۔ وہ بہت ذہین ہیں۔ انھیں ہر بات کا علم ہے کہ کیا ہو رہا ہے لیکن بات یہ ہے کہ پاکستان میں قانون کی بالادستی نہیں ہے۔ ہم انصاف چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ پاکستان میں قانون کی بالادستی قائم ہو اور اگر صحافی سوال کرتا ہے تو اسے خاموش کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔‘حامد میر کا کہنا تھا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ وہ اپنے بیانات سے پیچھے ہٹے ہیں بلکہ ان کے وضاحتی بیان کا مقصد قانونی پیچیدگیوں سے نمٹنا تھا تاہم انھوں نے کہا کہ انھوں نے جو تقریر کی اس کے بعد ’کچھ لوگ یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے تھے کہ میں پورے ادارے پر الزام لگا رہا ہوں۔ تو میں نے اپنی پوزیشن کی وضاحت کی تھی میں پورے ادارے کو الزام نہیں دے رہا بلکہ میں صرف چند افراد کے بارے میں بات کر رہا ہوں جو میڈیا کی آواز کو بند کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘حامد میر کا یہ بھی کہنا تھا کہ انھیں اپنے ادارے کے رویے سے مایوسی ہوئی لیکن وہ ان کی صورتحال سمجھ سکتے ہیں۔ ’وہ پہلے ہی نشانے پر ہیں۔ تو میرے ایمپلائر کے سر پر تو پہلے ہی تلوار لٹکی ہوئی ہے۔ تو جب انھیں حامد میر پر پابندی لگانے کے لیے کہا گیا تو انھوں نے مجھ پر پابندی لگا دی۔ میں ان کی پرابلم سمجھ سکتا ہوں۔‘

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.