”کیس کے تانے بانے ملنے لگے“

اسلام آباد (ویب ڈیسک )نور مقدم کیس میں اہم ترین پیشرفت ہوئی ہے ،مقامی انگریزی اخبار” دی نیوز“ میں شائع ہونے والی زاہد گشکوری کی رپورٹ کے مطابق تحقیقات کاروں نے اس جرم کی وجوہات جاننے کیلئے اپنی توجہ مرکزی ملزم ظاہر کے والدین کی جانب مرکوز کر لی ہے ، والد ذاکر جعفر نے تمام معاملے کو

 

 

 

 

 

چوری کی واردات کے دوران پیش آنے والے حادثے کا رنگ دینے کیلئے کوششیں کیں ۔رپورٹ میں صحافی کا کہناتھا کہ کیس کی تحقیقات کرنے والے افسران کو یہ معلوم ہوا ہے کہ ذاکر جعفر نے کسی دوست سے مدد طلب کرتے ہوئے پولیس کو چوری کی رپورٹ کرنے کا کہا تھا، جس کی وجہ سے ان کے اسلام آباد میں واقع گھر میں نور مقدم کا واقعہ رونما ہونا تھا ۔ ان کے ایک دوست نے نجی ٹی وی چینل کو بتایا ہے کہ مجھے ذاکر جعفر کا فون آیا تھا، انہوں نے کہا تھا کہ میرے اسلام آباد والے گھر میں چوری ہوئی ہے، ملزموں نے پینٹنگز، قیمتی زیورات وغیرہ لے لیے ہیں، انہوں نے میرے بیٹے ظاہر جعفر کو زدوکوب کیا ہے، مہربانی کرکے ہماری مدد کرو۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فون نور مقدم کی موت کے فوری بعد آیا تھا، اس کے بعد انہوں نے پھر سے فون کیا اور بتایا کہ میرے بیٹے نے جعفر ہاﺅس میں ایک شخص کو زندگی سے محروم کردیا ہے۔ اب ہم اس معاملے سے کیسے جان چھڑائیں۔ ان کے دوست کا مزید بتایا کہ ظاہر نے اپنے والد سے جھوٹ بولا تھا اور نور مقدم کے ساتھ ہونیوالے واقعہ سے متعلق نہیں بتایا تھا۔ اس کے بعد عصمت جعفر نے انہیں فون کرکے مدد طلب کی اور کہا کہ وہ اس کیس کے لیے ایک وکیل کی خدمات حاصل کریں جو کیس عدالت میں لڑے۔ جعفر فیملی کے دو فیملی فرینڈز اور تین ساتھیوں نے نجی ٹی وی کو تصدیق کی ہے کہ ذاکر جعفر اور عصمت جعفر نے شام چھ بجے سے رات ساڑھے نو بجے تک بار بار

 

 

 

 

 

فون کیا تھا اور ان سے درخواست کی تھی کہ کس طرح اس کیس کو چوری کے کیس میں تبدیل کیا جائے۔ ایک فیملی فرینڈ نے اپنا نام ظاہر نا کرنے کی شرط پر بتایا کہ بظاہر والدین اپنے بیٹے کو بچانے کی کوشش کررہے تھے حالاں کہ وہ اس کے غصے کی وجہ سے 8 جولائی، 2021 کو سزا کے طور پر نکال چکے تھے۔ تحقیقات کاروں کا مزید کہنا تھا کہ باپ اور بیٹے کے درمیان 8 جولائی، 2021 سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ 12 روز بعد ظاہر نے نور مقدم کے واقعہ سے تقریباً چار گھنٹے پہلے اپنے والد سے کچھ گھنٹوں کے لیے بات کی۔ اس کے والدین عید منانے کے لیے کراچی آئے ہوئے تھے۔ ظاہر نے 20 جولائی کو اپنے والد سے 18 منٹ بات کی اس کے بعد اپنی والدہ سے 23 منٹ تک بات کرتے رہے۔ اس کے والدین اس وقت کراچی، کلفٹن میں تھے۔ ذاکر نے اپنے کراچی میں مقیم دوست سے بھی شام6:16 پر بات کی اور اس سے مدد طلب کی۔ اس دوران ذاکر جعفر نے دو درجن کے قریب فون کیے۔ جب کہ ظاہر ذاکر نے اپنی والدہ کو6:37 کو فون کرکے کہا کہ کچھ چور جعفر ہاﺅس میں داخل ہوگئے ہیں، انہوں نے اسے زدوکوب کیا ہے اور قیمتی پینٹنگز چوری کرلی ہیں۔ اس نے اپنی والدہ کو بتایا کہ اس نے ان لوگوں سے مقابلہ کیا ہے اور ان میں سے ایک جان سے چلا گیا ہے ۔ تحقیقات کار یہ سوال کررہے ہیں کہ اگر ان تمام سرگرمیوں کا مطلب یہ ہے کہ والدین پہلے ہی جان چکے تھے کہ کچھ غلط ہونے والا ہے تو وہ اسلام آباد میں وقوع پذیر اس سانحے کو روکنے میں کیوں ناکام رہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.