”مخالف کیمپ کی خاتون صحافی عاصمہ شیرازی نے اعتراف کر لیا“

کراچی (ویب ڈیسک) نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں میزبان شہزاد اقبال نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اندرونی اختلافات کی وجہ سے اپوزیشن کمزور ہو رہی ہے، اب حکومت نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ جو لوگ جہانگیر ترین کے گروپ میں ہیں ان سے بھی باری باری نمٹنا ہے ۔ صحافی و تجزیہ کار عاصمہ شیرازی

 

 

 

 

 

نے کہا کہ حکومت جہاں جہاں جو مینج کرسکتی تھی اس نے کیا ہے چاہے میڈیا ، اپوزیشن یا جہانگیر ترین گروپ کے حوالے سے ہو وہ اچھا مینج کر رہی ہے۔ سینئر صحافی و تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا کہ پیپلز پارٹی پہلے دوسری پی ٹی آئی بننے کی کوشش کر رہی تھی اور پی ڈی ایم سے نکلنے کے بعد سندھ کی مسلم لیگ ق بن رہی تھی آج بلوچستان میں جو لوگ شامل کروائے گئے اس سے لگتا ہے وہ بلوچستان کی باپ پارٹی بن گئی ہے۔ وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے کہا کہ کاروباری حضرات کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ہماری بات مانیں جبکہ انہیں بہت زیادہ اکسایا گیا، اگر دوبارہ شرح بڑھتی ہے تو لاک ڈاؤن کی طرف جاسکتے ہیں۔ عاصمہ شیرازی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس ایک پیج کی حکومت کو مکمل سپورٹ بھی موجود ہے جس کی وجہ سے وہ سیاسی کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔ چیلنج شروع دن سے مہنگائی کا تھا اور وہ بڑھتا جارہا ہے۔ پیپلز پارٹی کی مثال سامنے ہے کہ ان کے پانچ سال کے بعد انہیں کتنے ووٹ پڑے تھے البتہ اگر انتخابات مینج کر لیے جاتے ہیں تو وہ الگ بات ہوگی۔ اب لگتا ہے جہانگیر ترین گروپ کی وکٹیں گرنا شروع ہوگئی ہیں اور نظر آرہا ہے کہ تمام تر اختیارات استعمال کیے جارہے ہیں کہ اس گروپ کو توڑا جائے۔ نوازشریف مجبور ہیں ایک طرف ان کی بیٹی ہے اور ایک طرف بھائی ہے یہ مشکل مرحلہ ہے یہ بات طے ہے کہ پارلیمانی پارٹی ہے ان کی اکثریت شہباز شریف کی پالیسی سے متفق ہے دوسری طرف ووٹر سپورٹر کا دباؤ مریم نواز کی شکل میں موجود ہے ہونا یہ چاہیے تھا ان دونوں باتوں کو بہتر انداز میں اپنے حق میں استعمال کیا جاتا اور درمیانی راہ نکالتی۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.