”قریب سے جاننے والی شخصیت کی خصوصی تحریر“

لاہور (ویب ڈیسک) موجودہ آپا دھاپی میں جس کسی نے بھی اعتدال کا نام لیا، وہ دشمن، دشمن کا ایجنٹ، منافق، زمانہ ساز یا بے حمیت قرار پا کر راندہ درگاہ ہو گیا۔ پاکستانی معاشرے میں بہت سی دینی قوتیں ایسی بھی موجود رہی ہیں جنھوں نے مشرق و مغرب کی انتہاؤں میں اعتدال کی راہ تلاش کر کے سماج کو انتہاپسندی کی

 

 

 

 

 

پستیوں میں گرنے سے روکنے کی کوشش کی لیکن یہ گزشتہ تین دہائیوں کی مارا ماری کا ’فیض‘ ہے کہ اب یہ معتدل قوتیں بھی جذبات کی رو میں بہہ کر اسی حمام جا پہنچی ہیں جہاں ان کے پیشرو براجتے تھے، انتہا پسندی اور تنگ نظری کی جوئے کم آب میں۔ ہمارے سماج کا یہی سب سے بڑا عارضہ تھا اور یہ عارضہ ایسا مہلک ہے کہ اوّل تو اس میں مبتلا لوگوں کو اس کااحساس ہی نہیں ہوتا اور جس مرض کااحساس ہی نہ ہو، اس کے علاج کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ دوم، جن لوگوں نے کسی نہ کسی درجے احساس کیا، وہ اس جرم میں دھر لیے گئے، لہٰذا مایوس ہو کر وہ لاتعلق ہو گئے یا پھر وہ اسی کیفیت کا شکار ہو کر اپنی انفرادیت کھو بیٹھے۔ مولانا طارق جمیل اس ماحول میں امید کی کرن ہیں۔بعض سلگتے ہوئے قومی مسائل پر ان کے فہم، انداز فکر بلکہ طرز عمل پر بہت سے تحفظات موجود ہیں، یہ بھی ممکن ہے کہ مولانا کے پاس ان سوالوں کے جواب بھی نہ ہوں لیکن اس کے باوجود ان کی شخصیت میں ایک ایسی خوبی ہے جس کا نہ صرف اعتراف ضروری ہے بلکہ اس کے فروغ کے لیے ان کا ہم آواز ہو جانا وقت کی ضرورت ہے۔مولانا طارق جمیل صاحب کی انفرادیت اور خوبی یہی ہے جسے اعتدال، رواداری اور صلح کل سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے دینی طبقات میں بعض اہم قومی اور دینی شخصیات کے لیے تکدر کے

 

 

 

 

 

جذبات پائے جاتے ہیں۔ان میں سر سید احمد خان خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ہمارے دوست شاہ نواز فاروقی تو انھیں جھوٹے نبیوں سے بھی بدتر قرار دینے سے گریز نہیں کرتے۔ ایسا ہی معاملہ دینی طبقات کا بھی ہے۔ تنگ دلی کے اس ماحول میں مولانا طارق جمیل اس لیے غنیمت ہیں کہ وہ سرسید کا نام لیتے ہیں تو اہتمام سے علیہ رحمہ بھی کہتے ہیں۔ اسی طرح ٹھیٹ دینی حلقوں میں مولانا مودودی کی دینی حیثیت کو تسلیم نہ کرنے کی روش پائی جاتی تھی اور تکدر کے ساتھ انھیں مولانا کے بجائے مودودی صاحب کہہ کر پکارا جاتا تھا جیسے کانگریس نواز حلقے قائد اعظم کو آج بھی انھیں ان کے قومی اور سرکاری لقب سے یاد کرنے کے بجائے تکدر سے جناح صاحب کہا کرتے ہیں۔بے مروتی کی اس فضا میں یہ مولانا طارق جمیل ہی ہیں جو جس احترام کے ساتھ مولانا حسین احمد مدنی کاذکر کرتے ہیں، ویسا ہی احترام ان کے ہاں اقبال اور مودودی کے لیے بھی ہے۔ ایک حدیث ہے کہ جو مجھ سے کٹے، میں اس سے جڑوں۔ مولانا طارق جمیل کے طرز عمل میں اس کا پرتو صاف دکھائی دیتا ہے اور یہی ہمارے آج کے کٹے پھٹے زخمی معاشرے کی ضرورت ہے۔ہمارے دینی طبقات میں شدت کی ایک اور قسم بھی پائی جاتی ہے جس کیے نقصانات اس قدر زیادہ ہے کہ ان کی اولادیں بے بس ہو کر الحاد میں پناہ لینے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں اس دو ایک نہیں بہت سی مثالیں موجود ہیں۔

 

 

 

 

 

مولانا طارق جمیل کے ہاں ایسا کوئی مسئلہ نہیں۔ مولانا کے صاحبزادے ان کی دینی سرگرمیوں میں ان کے ممد و معاون ہی نہیں بلکہ جانشین بھی ہیں، یہ کیسے ہوا ہوگا، اسے میں نے اپنے مشاہدے سے سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ میرا اندازہ ہے کہ مولانا کے پوتے پوتیاں اب گڈیاں پٹولے کھیلنے کی عمر سے نکل کر اسکلپچر بنانے یا ان سے لطف اندوز ہونے کی عمر کو پہنچ چکے ہیں ۔اپنی دلچسپی کے مطابق جب وہ کوئی فن پارا بنا لیتے ہیں یا حاصل کر لیتے ہیں تو انھیں اپنے مذہبی دادا سے خوفزدہ ہو کر چھپانے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ انھیں جو جگہ مناسب لگتی ہے، وہاں اس کی نمائش کرنے میں بھی آزادی محسوس کرتے ہیں۔ سیاسی میدان میں حریت فکر سے تعلق سے مولانا کا انداز فکر جو بھی ہو، انھوں نے اپنی اولاد کو اس سلسلے میں جو سہولت فراہم کی ہے، اس کی قدر کرنی چاہیے، مولانا طارق جمیل کی یہ خوبی انھیں اپنے ہم عصروں میں ممتاز کرتی ہے۔ یہ اولاد سے غیر معمولی محبت کا ایک مظاہرہ نہیں بلکہ ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کی کوشش ہے جو نہ اس عہد کی ضرورت ہے بلکہ فطرت کے تقاضے بھی پورے کرتی ہے۔ اس تناظر میں مولانا طارق جمیل کے اس پسندیدہ طرز عمل کی تائید ناگزیر ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.