اگر قائداعظم محمد علی جناح کو علم ہوتا کہ ۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار حسن نثار اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حیرت ہے کہ جسے خود اپنا ذاتی بلڈ گروپ جاننے کے لئے بھی لیب ٹیسٹ کی ضرورت ہے، وہ بھی عالم ہے اور رہ گیا تازہ تازہ نظریاتی اور انقلابی، ووٹ کو عزت دلانے اور ووٹر کی دم میں نمدا کسنے اور تین بار وزیر اعظم رہنے والا اک

 

 

 

 

 

شخص جو حال ہی میں اک ایسے افغان مشیر سے انگلینڈ میں ملا جس نے پاکستان کے خلاف ایسی مغلظات بکیں جنہیں لکھنا ممکن نہیں۔ یہی کم ظرف بدزبان بعد میں بھارتی خفیہ اہلکاروں سے بھی ملا۔ ملنے والا پاکستانی ’’قائد اعظم ثانی‘‘ کہلانے کا شوقین ہے تو قائد کا اک قول یاد آتا ہے جس کا اردو ترجمہ کچھ یوں ہے۔’’دولت چلی جائے تو سمجھو کچھ بھی نہیں گیا، صحت چلی جائے تو سمجھو بہت کچھ گیا اور عزت چلی جائے تو سمجھ لو سب کچھ ہاتھ سے نکل گیا‘‘۔ لیکن یہ وہ ’’کلاس‘‘ ہے جس نے سب کچھ الٹ کے رکھ دیا، ان کو یقین ہے کہ . . . . .’’عزت چلی جائے تو سمجھو کچھ بھی نہیں گیا، صحت چلی جائے تو چکر دے کر انگلینڈ جا کر صحت خرید لو، لیکن اگر دولت چلی جائے تو سمجھو سب کچھ ہاتھ سے نکل گیا‘‘۔یہ وہی صاحب ہیں جو ایک زمانہ میں بے نظیر بھٹو کو ’’میڈ ان انگلینڈ‘‘ کاطعنہ دے کر خود کو ’’میڈ ان پاکستان‘‘ کہا کرتے تھے۔ آج اولادوں، جائیدادوں سمیت وہیں بیٹھے ہیں اور ’’نواسے شریف‘‘ کو وہاں پڑھتے اور پولو کھیلتے دیکھ کر وہ دن یاد کرتے ہیں جب خود اپنے برف خانے کے ارد گرد گلِی ڈنڈا اور پٹھو گرم کھیلا کرتے تھے۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اگر کسی طرح قائد اعظم کو یہ علم ہو جاتا کہ 2021 تک پاکستان کی آدھی سے زیادہ عمر فلاں فلاں دو خاندان کھا جائیں گے تو ان کا آخری فیصلہ کیا ہوتا۔قائد کا ایک اور قول ہے . . . . ’’کام، کام، کام‘‘۔ سماعت کی کمزوری کے باعث انہیں ’’حرام، حرام، حرام‘‘ اور اگر پکڑے جانے کا خوف ہو تو باہر کھسک لو اور ’’آرام، آرام، آرام‘‘ پر عمل کرو اور جب ممکن ہو تو پاکستان پر بھونکنے والے افغان مشیر کے ساتھ قومی سلامتی پر مکالمہ کرو۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.