پی ٹی آئی یا (ن)لیگ ۔۔۔!!!اگر آج الیکشن کروا دیئے جائیں تو وفاق اور پنجاب کا سلطان کون ہو گا؟سہیل وڑائچ نے مکمل عدادوشمار کے ساتھ تہلکہ خیزپیشگوئی کر دی

حقائق کو چھوڑیے فرض کر لیتے ہیں کہ سینیٹ الیکشن میں پی ٹی آئی کو کوئی نقصان نہیں ہو گا، یہ تصور بھی کر لیتے ہیں کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ اگلے دو سال ایک ہی صفحے پر ر ہیں گےاور اپوزیشن کے واویلے، تحریک، لانگ مارچ یا جلسے جلوسوں سے کچھ فرق نہیں پڑے گایہ بھی سوچ لیتے ہیں کہ پی ٹی آئی

 

 

 

 

 

اسی طرح 2023ءتک حکومت کرتی رہے گی، نامور کالم نگار سہیل وڑائچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔معیشت کو تھوڑا بہت سنبھالا مل جائے گا برآمدات کچھ بہتر ہو جائیں گی مگر مستقبل قریب میں کوئی بڑا معاشی انقلاب نہیں آنے والا، سو 2023ء کا الیکشن کم و بیش آج ہی کے معاشی اور سماجی حالات میں ہوگا۔دیکھنا یہ ہو گا کہ 2023ء میں جب پی ٹی آئی 5سال بعد الیکشن میں اترے گی تو کیا کارکردگی لے کر پیش ہو گی؟ ماضی کی انتخابی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو پوری تاریخ میں جب بھی کسی سیاسی حکومت نے وفاقی انتخابات کروائے ہیں وہ دوبارہ سے جیت کر حکومت نہیں بنا سکی۔1977ء میں بھٹو صاحب کی پارٹی الیکشن تو جیت گئی مگر دھاندلی کے الزامات پر تحریک چلی اور پھر مارشل لا کے نتیجے میں انہیں رخصت ہونا پڑا۔ محمد خان جونیجو، بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کو اپنا مینڈیٹ پورا کرنے کا موقع ہی نہ ملا، وہ پہلے ہی رخصت کر دیے گئے۔آصف علی زرداری کو 2013ء میں موقع ملا کہ وہ اپنا پانچ سالہ مینڈیٹ پورا کرکے نئے الیکشن کے لئے جائیں تو وہ بری طرح ناکام ہوئے، اس سے پہلے ق لیگ بھی پانچ سالہ مدت کے بعد الیکشن میں ناکام ہی ٹھہری، ن لیگ نے 5سال پورے کئے انتخابات 2018ء میں گئے تو تحریک انصاف اکثریتی پارٹی بن گئی۔ غرضیکہ ماضی میں کسی بھی برسراقتدار پارٹی کے دوبارہ انتخابات جیتنے کی مثال موجود نہیں ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.