نواز کی واپسی

”نواز کی واپسی :صف اول کے کالم نگار کا خصوصی تبصرہ“ لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار عمران یعقوب خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمد شہباز شریف کا کہنا ہے ”سیاسی پگڑیاں اچھالنے والے پاکستان کی پگڑی نہ اچھالیں تو مہربانی ہو گی۔ 3 بار وزیر اعظم رہنے والے نواز

 

 

 

 

 

شریف کی زندگی پر سیاست بے حسی اور غیر انسانی رویہ ہے۔ قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپیل دائر کر دی گئی ہے‘ اپیل پر فیصلہ ہونے تک نواز شریف قانونی طور پر لندن میں قیام کر سکتے ہیں۔ نواز شریف کو لندن بھجوانے کا فیصلہ حکومت کا تھا۔ ان کا علاج پاکستان میں نہیں ہو سکتا۔ یہ فیصلہ بھی سرکاری بورڈ کا تھا‘ ڈاکٹر جب اجازت دیں گے تو نواز شریف وطن واپس آ جائیں گے‘‘۔سب کو یاد ہو گا کہ جب نواز شریف کا پاسپورٹ منسوخ کیا گیا تھا تو اس وقت بھی بڑا شور اٹھایا گیا تھا‘ لیکن پھر یہ معاملہ بھی دب گیا کیونکہ پاکستان اور برطانیہ کے مابین مجرموں کے تبادلے کا کوئی معاہدہ موجود نہیں ہے۔ دونوں ملکوں کے مابین مذاکرات کے نتیجے میں ایک مجوزہ مسودہ تیار کیا گیا تھا؛ تاہم اس پر عمل درآمد پراتفاق نہیں ہو پایا۔ دوسری طرف وزیر اعظم عمران خان یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ برطانیہ کے دورے کے دوران وہ اپنے برطانوی ہم منصب سے ملاقات کر کے نواز شریف کو وطن واپس لانے کا مطالبہ کریں گے؛ تاہم ابھی تک انہیں اپنے برطانوی ہم منصب کی طرف سے برطانیہ کے دورے کی دعوت ہی نہیں ملی۔سیاست دان کی سیاست اس وقت خطرے میں پڑتی ہے جب وہ اپنی حکمت عملی کے بجائے اپنے حریف کی بتائی چالوں پر چلنا شروع کر دے اور نواز شریف

 

 

 

 

 

کو اس بات کا بہت اچھے طریقے سے اندازہ ہے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف یہ بات بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ ان کی پاکستان واپسی ایک ”ترپ‘‘ کا پتہ ہے اور یہ پتہ وہ اپنی شرائط پر ہی کھیلیں گے‘ نہ کہ اپنے کسی سیاسی حریف کی خواہش پر۔ نواز شریف کی وطن واپسی کا موزوں وقت وہی ہے جب ملک میں انتخابات کا ماحول بن چکا ہو ایسے میں ان کی واپسی انہیں بھرپور سیاسی فائدہ پہنچا سکتی ہے‘ اور مقتدر قوتوں کے ساتھ معاملات بہتر انداز میں طے کرنے کی پوزیشن میں لا سکتی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.