پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی اصل کہانی

تحریک انصاف کے رہنما صداقت علی عباسی نے کہا ہے کہ حکومت کے پاس پٹرول مہنگا کرنے کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا، مہنگا پٹرول لے کر سستا دیں گے تو کسی دوسرے طریقے سے عوام کی جیب سے پیسہ نکالنا پڑے گا۔ وہ نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کررہے تھے۔ پروگرام میں ن لیگ کے رہنما ڈاکٹر

 

 

 

 

 

طارق فضل چوہدری اور سینئر تجزیہ کار ارشاد بھٹی بھی شریک تھے جبکہ ماہر معیشت خرم حسین کا مختصر کلپ بھی پروگرام میں شامل تھا۔ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ جو وزیر پچاس روپے فی گھنٹہ ہیلی کاپٹر کی رائڈ دینے کا کہے اسے کون سنجیدہ لے سکتا ہے، حکومتی وزراء شکایتیں لگانے والے بابے ہیں ان سے کام کوئی نہیں ہوتا۔ ارشاد بھٹی نے کہا کہ مرکز اور صوبوں میں اقلیت کو نکال کر سب دیہاڑیاں لگارہے ہیں، حکومت میں منافع خور گروہ بیٹھے ہوئے ہیں بارہ بڑے اسکینڈلز آچکے ہیں، حکومت ابھی اپنی نااہلی نہ مانے 2023ء کے الیکشن میں مان لے گی۔ماہرمعیشت خرم حسین نے کہا کہ فواد چوہدری کی پاکستان میں تیل کی قیمتیں خطے میں سب سے کم ہونے کی بات درست ہے،وزیر اطلاعات کی یہ بات درست نہیں کہ 75فیصد عوام کی آمدنی بڑھی ہے، حکومتی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مزدور طبقے کی آمدنی 3فیصد بڑھی ہے جبکہ مہنگائی 17فیصد بڑھی ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما صداقت علی عباسی نے کہا کہ جس دن پٹرول کی قیمتیں بڑھیں اسی دن حکومت کے فضائل بیان کرنا مشکل کام ہے، حکومت نے پٹرول پر سیلز ٹیکس 17.5فیصد سے کم کر کے 10.5فیصد کیا ہے، حکومت کے پاس پٹرول مہنگا کرنے کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا، مہنگا پٹرول لے کر سستا دیں گے تو کسی دوسرے طریقے سے عوام کی جیب سے پیسہ نکالنا پڑے گا، عوام سے لیے گئے ٹیکس کے پیسے عوام پر ہی لگائیں گے۔ صداقت علی عباسی کا کہنا تھا کہ ماضی کی حکومتیں عوام پر ظلم کرتی اپنے پیٹ بھرتیں اور منی لانڈرنگ کرتی تھیں،موجودہ حکومت نے بجٹ اور بیرونی قرضوں میں ایک روپے کا خسارہ نہیں کیا، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور بجٹ خسارہ پچھلی حکومتوں کے قرضوں پر سود کی ادائیگی کا ہے، کوئی حکومت 20 ارب ڈالرز کا چھوڑ کر جاتی ہے تو اگلے دو سال کرنسی بھی گرے گی مہنگائی بھی ہوگی، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کو 20ارب ڈالرز سے صفر پر لے آئے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.