نازیہ اقبال کے ساتھ کیا تعلق ہے

کابل (ویب ڈیسک) تالبان کی جانب سے کابل پر قبضے کے تقریباً تین ہفتے بعد عبوری کابینہ کا اعلان دنیا بھر کے اخبارات اور نشریاتی اداروں کے لیے بڑی خبر تھی وہیں ایک مسئلہ یہ بھی درپیش رہا کہ کابینہ کے کئی ارکان کی بھی مصدقہ تصویر موجود نہیں ہے۔چاہے وہ وزیرِ دفاع ملا محمد یعقوب ہوں یا پھر وزیرِ داخلہ

 

 

 

 

 

سراج الدین حقانی میڈیا اور عام لوگ ان کی شکل سے واقف نہیں۔افغانستان کے حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی ایسی شخصیت ہیں جن کی تلاش میں مدد دینے والے فرد کے لیے انعام کی رقم کا جو پوسٹر امریکی حکام کی جانب سے شائع کیا گیا اس پر ان کے دو خاکے اور ایک ایسی تصویر موجود ہے جس میں ان کا چہرہ واضح طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔اس تصویر کو سراج الدین حقانی کی وہ واحد تصویر قرار دیا جاتا ہے جو عام ریکارڈ میں موجود ہے اور یہ تصویر بنانے اور اس کی اشاعت کی کہانی انتہائی دلچسپ و عجیب ہے۔یہ جنوری 2010 کی بات ہے، جب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے ساتھ منسلک ایک افغان صحافی نے اپنے ذرائع سے درخواست کی کہ سراج الدین حقانی کے ساتھ انٹرویو کروایا جائے۔دن اور وقت مقرر ہوا، افغان صحافی نے کئی دن سفر کرنے کے بعد سراج الدین حقانی سے ملاقات کی، انٹرویو کیا اور اُن کی تصویر بھی بنا لی۔ واپسی پر اس ڈر سے کہ یہ انٹرویو افغان فورسز یا امریکی فوج کے ہاتھ نہ لگ جائے، افغان صحافی نے پشتو زبان کی پاکستانی گلوکار نازیہ اقبال کے نغموں کے کیسٹ کے کور میں وہ کیمرہ چپ ڈال کر کابل پہنچائی جس میں وہ انٹرویو اور تصویر موجود تھے۔یہ افغان صحافی سید عبداللہ نظامی ہیں جو کئی سال پہلے ہی اپنا ملک چھوڑ کر لندن منتقل ہو گئے ہیں۔عبداللہ نظامی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس سفر کی روداد سنائی۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.