3 سال بعد بھی ملک کے ابتر حالات کے باوجود قوم عمران خان سے امیدیں کیوں لگائے بیٹھی ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔وزیر اعظم عمران خان کی خوش قسمتی یہ ہے عوام آج بھی ان سے توقعات باندھے ہوئے ہیں حد درجہ ناکامیوں اور برے حالات کے باوجود آج بھی عمران خان عوام کی امید ہیں اس کی وجہ یہ ہے ان کے سیاسی حریف ابھی تک اپنی ساکھ بحال نہیں

 

 

 

 

 

کر سکے۔شریف برادران اور بھٹو خاندان لوٹ مار کے الزامات کا آج تک کوئی واضح جواب نہیں دے سکے۔ نوازشریف ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ لے کر تو سامنے آئے مگر انہوں نے اپنے اثاثوں کے ثبوت نہیں دیئے نہ ہی عدالتوں میں اپنا دفاع کیا۔ آصف زرداری بھی کیسوں کی زد میں ہیں اور الزامات کا جواب نہیں دے پا رہے۔ ایسے میں عوام کے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے وہ عمران خان کو رد کر دیں اور پھر انہی لوگوں کو اقتدار میں لے آئیں جو لوٹ مار کا حساب نہیں دے رہے عمران خان کی خوش قسمتی یہ بھی ہے انہیں اس طرح کی اسٹیبلشمنٹ نہیں ملی، جس طرح کی نواز شریف اور آصف زرداری کو ملتی رہی ہے۔ آج اس بات کو فخر کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے کہ فوج اور حکومت ایک پیج پر ہیں ان سب باتوں کے باوجود وزیر اعظم عمران خان کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ رائے عامہ کو اپنے حق میں رکھنا ایک مشکل کام ہے۔ اس کے لئے سو پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں اور عوام کی توقعات کو پورا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے نظام انصاف میں اصلاح کرنے کا وعدہ کیا تھا، بیورو کریسی کے اختیارات کم کرنے اور اسے عوام کا خادم بنانے کی بات کی تھی، تھانہ کلچر کی تبدیلی کا وعدہ کیا تھا، ان سب باتوں کو وہ کیوں بھول گئے۔ کیوں گزرے ہوئے تین برسوں میں ان شعبوں کو نظر انداز کیا؟ 25جولائی 2018ء کو عوام نے انہیں تبدیلی کے لئے ووٹ دیا تھا۔ تین برس گزر گئے اس تبدیلی کے خدوخال بھی ابھی تک نمایاں نہیں ہو سکے، آخر کیوں؟

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.