افغانستان کی صورتحال : ملالہ یوسفزئی نے پاکستان اور دیگر ممالک سے بڑا مطالبہ کردیا

کراچی (ویب ڈیسک) نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ملالہ فنڈ کی شریک بانی اور نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے کہا ہے کہ افغانستان میں کس کی حکمرانی ہوگی یہ فیصلہ افغان عوام کریں گے لیکن ہم انسانی حقوق کیلئے ضرور آواز اٹھائیں گےپاکستان ایک بار پھر افغان مہاجرین کیلئے اپنی سرحدیں

 

 

 

 

 

کھولے ،سابق وزیر خزانہ حفیظ پاشا نے کہا کہ ایک مہینے میں ساڑھے چھ ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ تاریخ کا سب سے بلند لیول ہے،ماہر معیشت اکبر زیدی نے کہا کہ معیشت کے دو بڑے مسائل افراط زر اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہے۔ملالہ فنڈ کی شریک بانی اور نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ افغانستان میں تعلیمی کارکنوں سے پچھلے ماہ میری بات ہوئی تھی، کارکن تھوڑے پرامید تھے کہ نئے حکمرانوں کے رویے میں تبدیلی آئی ہوگی، رپورٹس آرہی ہیں کہ خواتین کو گھر سے باہر جانے اور کام کرنے نہیں دیا جارہا ہے، خواتین سے بہانہ استعمال کیا جارہا ہے کہ جب آپ محفوظ ہوں گی تو کام پر اور اسکول جائیں گی، خدشہ ہوتا ہے کہ کب وہ وقت آئے گا کہ لڑکیاں اسکول اور خواتین کام پر جاسکیں گی۔ ملالہ یوسفزئی کاکہنا تھا کہ جن موجودہ لیڈرز نے باہر ملکوں میں وقت گزارا ان کا عورتوں کے حقوق اور تعلیم سے متعلق بیانیہ بہتر ہوچکا ہے لیکن خواتین کے کام کرنے سے متعلق ان کا موقف بھی واضح نہیں ہے، یہ ابھی تک خواتین کے حقوق اور تعلیم کے حوالے سے شرعی اصولوں پر ایک پیج پر نہیں آئے ہیں، افغانستان کی خواتین سڑکوں پر آئی ہیں اور اپنے حقوق کیلئے آواز اٹھارہی ہیں۔ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ افغانستان میں کس کی حکمرانی ہوگی یہ فیصلہ افغان عوام کریں گے لیکن ہم انسانی حقوق کیلئے ضرور آواز اٹھائیں گے۔

 

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *