نیوزی لینڈ ٹیم کی اچانک واپسی کے پیچھے چھپی اصل کہانی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) نامور صحافی انصار عباسی کی ایک رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔۔ پولیس حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امام حسینؓ کے چہلم کے حوالے سے اور نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے دورے کیلئے حفاظتی انظامات میں اضافے کیلئے جاری کردہ ایڈوائزری کو کئی لوگوں نے سوشل میڈیا پر غلطی سے ’’خطرے کا الرٹ‘‘

 

 

 

 

 

سمجھ لیا ہے۔ سوشل میڈیا پر جو بڑے پیمانے پر بات پھیلائی جا رہی ہے وہ صرف رپورٹ کا کورنگ لیٹر ہے جس کی نقل دی نیوز کو بھی فراہم کی گئی ہے۔ کورنگ لیٹر میں بتایا گیا ہے کہ ضروری انتظامات کرلیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچ سکیں۔ میمو میں چہلم اور نیوزی لینڈ ٹوئر کا حوالہ دیا گیا ہے لیکن اس میں کسی بھی خطرے کی نشاندہی نہیں کی گئی بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ نیوزی لینڈ ٹیم کے دورے کے موقع پر اور ستمبر کے آخری ہفتے میں امام حسینؓ کے چہلم کے موقع پر کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ فول پروف انتظامات کیے جائیں۔ میمو میں کہا گیا ہے کہ خدشہ ہے کہ دشمن ملک کی انٹیلی جنس ایجنسیاں موقع سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ افغانستان کی صورتحال کے پیش نظر اور اٹیکس کے اضافی خطرے کی وجہ سے ضروری ہے کہ احتیاط کیلئے پیشگی اقدامات کرلیے جائیں۔ میمو میں متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ تمام ضروری اقدامات کرلیں اور ضعلی انٹیلی جنس کمیٹیوں سے بھی رابطہ کرلیں اور کمیٹی کی سفارشات کے پیش نظر ضروری اقدامات کرلیں، کومبنگ مشنز کیے جائیں اور اس مقصد کیلئے سی ٹی ڈی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو بھی ساتھ ملا لیا جائے، انتہائی احتیاط سے کام لیا جائے اور اضافی اقدامات کرکے ہر سطح پر خصوصی اقدامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ ناخوشگوار صورتحال پیش نہ آئے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.