نور مقدم کیس، جس گھر میں نور مقدم کا ق ت ل ہوا اس گھر کا کیا ہوگا؟ عدالت نے بڑا فیصلہ سنا دیا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اسلام آباد میں نور مقدم ق ت ل کیس کی سماعت کرنے والی ٹرائل کورٹ کا کہنا ہے کہ جس گھر میں نور مقدم کا ق ت ل ہوا، وہاں رہنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ تفصیلات کے مطابق قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ٹرائل کورٹ نے نور مقدم ق ت ل کیس کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ اُس

 

 

 

 

گھر میں رہنے پر کوئی پابندی نہیں ہے جہاں رواں برس جولائی میں 27 سالہ نور مقدم کو ق ت ل کیا گیا تھا۔نور مقدمق ت ل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کی والدہ عصمت آدم جی نے سپریم کورٹ سے ضمانت حاصل کرنے کے بعد ٹرائل کورٹ سے اُس گھر میں رہنے کی اجازت طلب کی جہاں نور مقدم کو ق ت ل کیا گیا تھا۔ دوران سماعت عصمت آدم جی کے وکیل اسد جمال نے عدالت کی توجہ اس جانب مبذول کروائی جس پر عدالت نے کہا کہ عصمت آدم کو اُس گھر میں رہنے سے کس نے منع کیا ہے ؟ عصمت آدم جی کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ ہم عدالت کی اجازت طلب کرنا چاہتے ہیں تاکہ اُس گھر میں رہائش پذیر ہونے کو بنیاد بنا کر پولیس نئے الزامات نہ عائد کر سکے۔سماعت کے دوران مدعی کے وکیل نے بھی کہا کہ اس حوالے سے معاملہ واضح ہے، اور اس ضمن میں اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ جس کے بعد کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی گئی۔ دوران سماعت مرکزی ملزم ظاہر جعفر نے کمرہ عدالت میں بار بار بولنے کی کوشش کی جس پر پولیس نے روکا، ظاہر جعفر کی بار بار بولنے کی کوشش پر عدالت نے برہمی کا اظہار بھی کیا اور بعد ازاں اسے عدالت سے بخشی خانے بھجوادیا گیا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.