”1988 میں جنرل مرزا اسلم بیگ نے بینظیر بھٹو کو کونسی 3 تجاویز دی تھیں ؟“

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔جنرل اسلم بیگ نے انکشاف کیا‘ میں نے 1988 کے الیکشن کے بعد بے نظیر بھٹو کو اپنے گھر پر دعوت دی اور مستقبل کی وزیراعظم سے تین درخواستیں کیں‘ فوج سے کوئی شکایت ہو تو مجھے بتائیے گا‘ میں دیکھ لوں گا‘ یہ میری

 

 

 

 

 

ذمے داری ہے۔جنرل ضیاء الحق کے لیے آپ کا دل سخت ہے لیکن آپ ان کے اہل خانہ کے لیے نرمی کی گنجائش رکھیے گا اور جب صدر بنانے کا وقت آئے تو غلام اسحاق خان کا نام بھی سامنے رکھیے گا‘ محترمہ نے ان تینوں باتوں کا احترام کیا‘ محترمہ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنے ملٹری سیکریٹری میجر جنرل امتیاز کو میرے پاس بھجوایا اور پوچھا ’’موجودہ سینئر آفیسرز میں جنرل ضیاء کے قریب اور بااعتماد آفیسر کون کون تھے؟‘‘ میں نے جنرل امتیاز کو جواب دیا ’’محترمہ کو اگر نام چاہییں تو میں صرف ایک نام دے سکتا ہوں‘ وہ جنرل ضیاء کے بہت ہی قریب اور بااعتماد سمجھے جاتے تھے اور وہ ہیں جنرل اسلم بیگ‘‘۔جنرل اسلم بیگ نے الطاف حسین کے بارے میں بھی ایک دل چسپ واقعہ بیان کیا‘ ان کا کہنا تھا مجھے پیغام ملا ایم کیو ایم کے قائد میرے گھر میں مجھ سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں‘میں نے بلا لیا‘ وہ آئے اور ہم ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھ گئے‘ کھانا کھاتے ہوئے الطاف حسین نے میری بیگم سے پوچھا ’’بیگم صاحبہ آپ نے کون کون سی ڈش بنائی ہے‘ میں جہاں جاتا ہوں بیگمات اپنے ہاتھ سے طرح طرح کی ڈشیں تیار کرتی ہیں‘‘ میری بیگم نے تڑاخ سے جواب دیا’’میں تو جنرل صاحب کے لیے کوئی ڈش نہیں بناتی آپ کو یہ کیسے گمان ہو گیا میں آپ کے لیے بناؤں گی‘‘ الطاف حسین لقمہ منہ میں ڈال رہے تھے۔ان کا ہاتھ رک گیا‘ پانی پیا اور جانے کی اجازت چاہی۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.