شہر قائد سے چوری ہونے والی گاڑیاں کہاں فروخت ہوتی ہیں؟ بڑا انکشاف منظر عام

کراچی(ویب ڈیسک) کراچی پولیس نے گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی چوری میں ملوث دو افراد کو گرفتار کیا، تفتیش کرنے پر حیران کن انکشافات سامنے آئے۔تفصیلات کے مطابق ملزمان کی گرفتاری سے متعلق ایس ایس پی ملیر عرفان بہادر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ شہر قائد سے گاڑیوں اورموٹر سائیکلوں

 

 

 

 

 

کی چوری میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کیا گیا، ملزمان کی گرفتاری اسٹیل ٹاؤن سے عمل میں لائی گئی۔ایس ایس پی ملیر نے بتایا کہ گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی چوری میں ملوث دونوں ملزمان بلوچستان پولیس کے اہلکار ہیں، گرفتار پولیس اہلکاروں کی شناخت آصف اور عبدالقادر کے نام سے ہوئی ہے، دونوں اہلکار لسبیلہ تھانے میں تعینات ہیں۔ایس ایس پی ملیر عرفان بہادر نے بتایا کہ ملزمان کراچی کے مختلف علاقوں سے گاڑیاں چوری کرنے کے بعد انہیں بلوچستان لے جاتے تھے اور فروخت کردیتے تھے، ملزمان زیادہ ترگاڑیاں پنجگور میں فروخت کرتے،ملزمان کو دوران چیکنگ کہیں روکا جاتا تو وہ پولیس کا کارڈ دکھا کر نکل جائے تھے۔گرفتار پولیس اہلکاروں سے مزید تفتیش کے لئے انہیں اے وی سی ایل کے حوالے کردیا گیا ہے، جہاں ان سے مزید تفتیش جاری ہے۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق معاون خصوصی اطلاعات پنجاب فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ فواد چوہدری وزارت اطلاعات کے لیے بے چین تھے اور اس مقصد کی خاطر بیانات دیتے رہے تھے۔نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فواد چوہدری کی خواہش پوری ہوگی اور وہ وزیر اطلاعات کے منصب پر واپس آگئے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ فواد چوہدری نے کسی اور کو وزیر اطلاعات کے طور پر نہیں چلنے دیا۔انہوں نے کہا

 

 

 

 

کہ اگر حکومت کی پالیسی وزیر اطلاعات کے علاوہ کوئی اور بیان کرنا شروع کر دیں تو وزارت اطلاعات کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے اور شبلی فراز کو وزارت سے ٹکرانے کی وجہ فواد چوہدری کا متحرک ہونا تھا۔فردوس عاشق اعوان نے مزید کہا کہ فواد چوہدری میں وزارت کو چلانے کی قابلیت ہے اب ان پر ذمہ داری بھی آ گئی ہے کہ وہ حکومت کا موقف سے انداز میں پیش کریں۔خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے فواد چودھری کو وزارت اطلاعات کا قلمدان سونپ دیا، فواد چودھری کو وزارت اطلاعات کا اضافی قلمدان سونپا گیا ، وفاقی وزیر اطلاعات کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے فوادچودھری کو وزارت اطلاعات کا کام سنبھالنے کی ہدایت کی۔ جس کے بعد انہوں نے باقاعدہ وزیر اطلاعات کے طور پر کام شروع کردیا ہے۔وفاقی وزیر فوادچودھری کی کابینہ اجلاس پر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کابینہ کی سمریز اور قانونی مواد کو ڈیجیٹلائز کردیا گیا ہے۔ کابینہ سمریز پر سالانہ51 کروڑ روپے خرچ ہوتے تھے اس کی بچت ہوگی۔ اجلاس میں اسد عمر نے کورونا صورتحال پر بریفنگ دی۔ کورونا ویکسین کی درآمد سے متعلق کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ کورونا کی تیسری لہر پہلی لہر سے زیادہ خطرناک ہے۔ سندھ اور بلوچستان میں کورونا وائرس بڑھ رہا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.