کھٹارا موٹر سائیکل پر آنے والے جانے والا ، ہاتھوں میں گریس لگا ہوا تھا میچ کھیلنے چلا گیا ، پہلا چیک 50ہزار کا ملا تو ساری رات سویا نہیں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )کھٹارا موٹر سائیکل پر آنے والے جانے والا ، ہاتھوں میں گریس لگا ہوا تھا میچ کھیلنے چلا گیا ، پہلا چیک 50ہزار کا ملا تو ساری رات سویا نہیں ، دھواں دھار چھکے مارنے والے آصف علی کی رُلا دینے والی کہانی ۔۔۔ پہلے نیوزی لینڈ اور پھر افغانستان کے خلاف میچ میں پاکستان کو جیت دلانے

 

 

 

 

والے آصف علی کی زندگی کی کہانی سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے ، جس میں و ہ کرکٹ کے راستے میں پیش آنے والی مشکلات کا ذکر رہے ہیں جسے سن کر آپ بھی یقینی طور پر جذباتی ہو جائیں گے ۔ آصف علی نے افغانستان کے خلاف میچ میں 7 گیندوں پر 4 چھکوں کی مدد سے 25 رنز بنائے اور قومی ٹیم کو جیت سے ہمکنارکیا ۔ تفصیلات کے مطابق ویڈیو میں آصف علی بتا رہے ہیں کہ کراچی ٹورنامنٹ ہو رہا تھا اور میرا نام فیصل آباد کی ٹیم میں آیا، اس میچ میں محمد حفیظ نے سینچری بھی ماری تھی جس کے بعد ان کا آسٹریلیا ٹور میں کم بیک ہوا تھا ۔ اس ٹورنامنٹ میں ، میں ساتھ تھا لیکن میں نے کوئی میچ نہیں کھیلا ، ہماری ٹیم رنر اپ رہی ، مجھے 55 ہزار روپے کا چیک ملا تھا ، اس وقت میری تنخواہ پانچ ہزار تھی تو میں سوچ میں پڑ گیا تھا کہ اتنے پیسے کہاں رکھوں ، میں وہ چیک رات کو جیب میں ہی ڈال کر سو گیا کہ کہیں گم ہی نہ ہو جائے ، اس کے بعد دوسرے ٹورنامنٹ میں نام آیا تو میں پھر سے کھیلنے چلا گیا ۔ آصف علی نے بتایا کہ ٹورنامنٹ پر جانے سے پہلے میں نے پچاس ہزار روپے کا سیکنڈ ہینڈ ہونڈا 125لے لیا، پانچ دن کے بعد جب میں واپس آیا ، میرے پاس ایک یاماہا ہوا کرتی تھی جو کہ کہیں بھی چلتی چلتی بند ہو جاتی تھی ، واپس آکر بھائی سے پوچھا کہ موٹر سائیکل کہاں ہے تو وہ کہنے لگا کہ یاماہا میں نے کباڑیے کو پانچ ہزار میں بیچ دی ہے ، ،میں نے کہا کہ اس نے بڑے مشکل وقت میں ساتھ دیا ہے ، وہ کہنے

 

 

 

 

 

لگا کہ راستے میں پڑی رہتی تھی اور اس پر مٹی بھی رہتی تھی ، میں نے کہا کہ تمہیں اس کی قدر کا کیا پتا ، وہ موٹر سائیکل میرے دادا نے لی تھی اور اس وقت اسے دو ر دور سے لوگ دیکھنے آئے تھے ۔میرے والد نے بھی کہا کہ پڑی رہنے دیتے بیچنی نہیں چاہیے تھی۔ آصف علی کا کہناتھا کہ 125 پر میں میچ کھیلنے جایا کرتا تھا ، مرزا بھائی نے ون ڈے میں مجھے سوئی گیس کی ٹیم میں لیا ، یہ ٹورنامنٹ 25 دن چلنا تھا ، ون ڈے ٹورنامنٹ کے بعد آیا اور جب کام پر گیا تو مالک نے پوچھا کہ تو مہینے بعد آیاہے ، میں نے بتایا کہ میں کرکٹ کھیلتاہوں اور مجھے فخر ہے کہ میرا نام ایس این جی پی ایل میں آیا ہے ، جس میں مصباح ، حفیظ جیسے بڑے کھلاڑی کھیلتے ہیں، یہ میرے لیے فخر کی بات ہے ، وہ کہنے لگے کہ ہمارا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ، ہم اسے برداشت نہیں کر سکتے ، کرکٹ کھیل لو یا پھر کام کر لو ۔ میں نے ان سے کہا کہ مجھے ایک دو دن کا وقت دیں ابھی نوکری سے نہ نکالیں پھر میں کنفرم کر دوں گا، میں گھر گیا اور لیٹا ہوا سوچ رہا تھا ، میر ا دل کر رہا تھا کہ کرکٹ کھیلنی ہے ، جن لوگوں نے پوری دنیا کو آگے لگایا ہواہے ، انہوں نے مجھے اپنی ٹیم میں لیا ہے ، تو مجھے کرکٹ کھیلنی چاہیے ، پھر میں نے فیصلہ کیا کہ میں کرکٹ کھیلوں گا ، میں نے ان فیکٹری والوں سے کہا کہ جب میرا میچ ہو گا تو میں اوور ٹائم لگا کر چلا جایا کروں گا ،آپ مجھے اوور ٹائم کے پیسے بھی نہ دینا ،انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا، پھر میں نے نوکری چھوڑ

 

 

 

 

 

دی ۔آصف علی کا کہناتھا کہ میں نے تھوڑے دن میں نے ٹیپ بال کھیل کر پیسے کمائے ، مجھے مزہ نہیں آتا تھا ، کچھ بڑا کرنا چاہیے ، پھر ٹیپ بال کے میچ میں سرگودھا کے اسد بھائی، میں آرام سے ہی انہیں چھکے ما رہا تھا ، انہوں نے مجھ سے چھکا کھایا اور اگلی گیند اتنی تیز کروائی کہ مجھے اس وقت پتا چلا کہ گیند وکٹ میں لگ گئی اور میں بولڈ ہو گیا ۔ میں باہر آیا تو اسدبھائی نے مجھے بلایا ، اس وقت میں فیصل آباد کے کیمپ میں تھا ، میں نے دو ففٹیاں ماری تھیں، وہ مجھے کہنے لگے کہ میں نے تمہیں کیمپ میں دیکھا تھا کہ تم بہت اچھا کھیلتے ہو، میں نے کہا مجھے بھی نہیں پتا کہ میں اچھا کھیلتا ہوں ، انہوں نے پوچھا تم ٹیپ بال میں سیزن کے کتنے پیسے کما لیتے ہو، میں نے کہا یہی کوئی 60 سے 70 ہزار روپے کما لیتاہوں ، وہ کہنے لگے کہ میں اپنے سیز ن میں آٹھ سے نولاکھ روپے کماتاہوں ۔میں نے ٹیپ بال چھوڑ دی ،انہوں نے کہا کہ تم چار پانچ مہینے لگا کر تو دیکھو، ایک ایسا ٹائم تھا کہ میرے پاس پیسے نہیں ہوتے تھے پیدل ہی پھرتا ہوتا تھا ،میں فیصل آباد کے کلب کے خلاف میچ کھیل رہا تھا ، اس وقت سیزن کے ٹاپ سات پلیئرز تھے جو فیصل آباد کے ایک ہی کلب میں کھیلتے تھے ، میں ان کے خلاف فائنل میچ کھیل رہا تھا ۔ آصف علی کا کہناتھا کہ فیکٹری میں ، میں کوالٹی انسپکٹر تھا ، کسی وقت مجھے کام ہاتھ سے بھی کرنا پڑتا تھا ، کچھ چیزوں کو ہاتھ سے بھی چیک کرنا پڑتا تھا ، لوہے کا کام تھا تو میرے ناخنوں میں گریس

 

 

 

 

 

پھنسی ہوئی تھی ،میں میچ پر چلا گیا ، انہوں نے20 اوورز میں 132 سکور کیا تھا ،میں اور سلمان بھائی اوپنرز گئے ہیں ، 132 میں سے سلمان کا صرف 9 سکور تھا ، باقی میرا تھا ، ہم نے 10 اوورز میں میچ پورا کر دیا تھا ، سلمان اور اعجاز بھائی کے الفاظ تھے کہ کرکٹ تو تم کھیلتے ہو ہمیں تو کھیلنی ہی نہیں آتی ۔ میں نے کہا نہیں جی میں تو کام سے آیاہوں ، میرے تو ہاتھ بھی گندے ہیں ، وہ کہنے لگے کہ کرکٹ تو کھیلتا ہے ہم تو بس ایسے ہی، مجھے شرم آ رہی ہے دوسرے اینڈ پر کھڑے،، تم تو دلیری سے کرکٹ کھیلتے ہو،۔ آصف نے کہا کہ مجھے یہ بھی نہیں پتا تھا دلیری کس کو کہہ رہے تھے ۔ آصف علی کا کہناتھا کہ فیصل آباد سپر 8 تھا، اعجاز بھائی ریٹائرمنٹ کے بعد فیصل آباد کے کوچ بنے تو مصباح الحق کو کہتے کہ اس لڑکے کو میچ کھلا دیں، میں اپنے کانوں سے سن رہاہوں ،سپنر مجھے زیادہ اچھا نہیں کھیلنا آتا تھا ، بہت کور کرلیاہے ، پاکستان کپ میں سب نے دیکھ لیاہے ، جو چیز کمزور تھی اس پر میں نے کام کیا ہے ۔ مصباح کے الفاظ تھے کہ میں دوسری ٹیم کا کپتان ہوں تو میں پہلا اور سپنر لگا دوں گا ، اعجاز بھائی کہتے کہ اس کو میچ کھلا دے ، فیصل آباد ہی میچ ہو رہاہے اگر اس نے کچھ نہ کیا تو میں اس کو واپس بھیج دوں گا ، میں نے ڈیبیو میچ میں 100کیا ، تو اس وقت کے بعد مصباح بھائی مجھے ساتھ لے کر چل رہے ہیں ۔اللہ کی رحمت ہے اور ان کا بہت شکریہ بھی ہے ۔ مزید خبروں تبصروں تجیزوں اور کالمز پڑھنے اور ہر وقت چوبیس گھنٹے اپ ڈیٹ رہنے اور ملک کے حالات سے با خبر رہنے کیلئے ہمارا پیج لائیک اور شیئر ضرور کریں اور اپنے دوستوں سے بھی شیئر کی درخواست کریں ہم آپ کے بے حد مشکور ہوں گے شکریہ

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.