”اوریا مقبول جان نے مسئلے کی وجوہات اور حل قوم کے سامنے رکھ دیے“

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستان کے معاشرے نے جس تیزی کے ساتھ اس زوال کی جانب اپنا سفر طے کیا ہے، اس کی مثال نہیں ملتی۔ ضیاء الحق کی سخت گیر مصنوعی مذہب پسندی نے اس کی موت کے بعد ہی دَم توڑ دیا تھا۔ آہستہ آہستہ معاشرے نے اس مصنوعی غلاف

 

 

 

 

 

کو اُتار پھینکا اور پھر پرویز مشرف کی روشن خیالی اور نائن الیون کے واقعے نے اس پہیے کو اس قدر تیزی سے گھمایا کہ چند ہی سالوں میں وہ تمام طبقات جو اسلام، مذہب یا تہذیبی اخلاقیات سے وابستہ تھے، انہیں بدامنی کا مجرم گردانتے ہوئے اس قدر دیوار سے لگایا گیا کہ ان لوگوں کو ایک مستقل طعنہ اور مغلطات بنا دیا گیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے گٹھ جوڑ نے پاکستان میں زبردستی ایک ایسے شہوت پرست، ہیجان انگیز معاشرے کی تخلیق کی جس میں ڈراموں سے لے کر سٹیج ڈانس تک اور ٹاک شوز سے لے کر ٹی وی کے تفریحی پروگراموں تک اخلاق باختگی کے سیلاب میں بہہ گئے۔ مقدس رشتوں کی آپس میں محبت کی کہانیاں اور شادی شدہ افراد کی رومانوی دھوکہ دہی ڈراموں کے موضوعات بن گئے۔مغربی ممالک کے سرمایہ سے ہزاروں این جی اوز سے ایک سول سوسائٹی تخلیق کی گئی جس کی بیس سالہ محنت ’’عورت مارچ‘‘ کے غلیظ ترین نعروں کی صورت برآمد ہوئی۔ غلط کاری اور گندگی کا وہ سیلاب آیا کہ جس کی نظیر مغربی معاشروں میں بھی نہیں ملتی۔ میڈیا اور سوشل میڈیا کے اس طوفان سے جنم لینے والے مغربی معاشروں میں افراد کے ہیجان انگیز پاگل پن کو دُور کرنے کے ہزار سامان مہیا ہوتے ہیں۔ نائٹ لائف کی ایک رنگا رنگ بہار،جو بدن فروشی سے لے کر گندے ڈانسوں، مساج پارلروں، شرمناک کھلونوں اور لاتعداد دیگر تسکین آمیز سہولیات سے آراستہ ہے۔ اس کے برعکس پاکستانی معاشرے

 

 

 

 

 

میں میڈیا کی بے لگام یلغار تو ٹیلی ویژن سے موبائل فون تک ہتھوڑے کی طرح دماغوں پر برستی ہے مگر اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والےگندے ے ہیجان انگیز پاگل پن کا کوئی علاج موجود نہیں ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایسے جنونی ہر جگہ دندنانے لگے اور شہر شہر اور گلی گلی بچوں اور بچیوں پر اٹیکس ہونے لگے۔ عورتیں غیر محفوظ ہوتی چلی گئیں۔ وہ تمام اصطلاحات جن کا ہماری سماجی زندگی سے کوئی واسطہ تک نہ تھا زبان زدِعام ہو گئیں جیسے بوائے فرینڈ، گرل فرینڈ، کورٹ شپ، یہاں تک کہ بغیر شادی کے ایک ساتھ رہنے یعنی “Living Together” کو بھی قبولیت حاصل ہوتی چلی گئی۔آج یہ عالم ہے کہ آپ کسی بھی میڈیا نما پلیٹ فارم پر اس سارے معاشرتی زوال کے تجزیے میں اسلام کی مذہبی اخلاقیات کی بات کرنا شروع کریں تو آپ کو فوراً عورت دُشمن “Misogynist” کہہ کرطعنہ بنا دیا جائے گا۔ گزشتہ دنوں جو تین اہم واقعات ہوئے ہیں، وہ تینوں ایک شہوت پرست معاشرے کے آخری درجے کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک لڑکی اپنے ’’بوائے فرینڈ‘‘ کے گھر کو محفوظ ترین جگہ تصور کر کے اس سے مسلسل ملتی ہے اور اس پر مکمل بھروسہ کرتی ہے لیکن جنون کے عالم میں وہ اسے زندگی سے محروم کر دیتا ہے۔ ایک جوڑا اپنی عیاشی کیلئے ایک کمرہ کرائے پر لے کر دادِ عیش دینا چاہتا اور سمجھتا ہے کہ یہ سب سے محفوظ مقام ہے لیکن پکڑا جاتا ہے اور پریشر میں آجاتا ہے۔ ایسے ہی ایک

 

 

 

 

 

ٹک ٹاک والی لڑکی اپنے مداحوں کو بے ضرر سمجھتے ہوئے انہیں مینارِ پاکستان بلاتی ہے اور اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا کہ ان مداحین میں شرمناک ہیجان کی بجلیاں بھری ہوئی ہیں۔ ان تین واقعات کے دوران اگر کسی شخص نے اس ساری غلاظت کی تشریح کرنے کیلئے میڈیا، سول سوسائٹی، حکومت اور خاص طور پر مرد مخالف خواتین کی تحریک پر بات بھی کرنا چاہی تو اسے اجازت تک نہ مل سکی، جس نے کر لی اسے مغلطات سے نوازا گیا کہ یہ شخص شکار یعنی (Victim) جو مظلوم ہے اس کے خلاف بولتا ہے۔ حالانکہ اصل معاملہ یہ ہے۔ ان تینوں قصوں میں شکار (Victim)کی اس قدر اخلاقی ’’برین واشنگ‘‘ کر دی گئی تھی کہ وہ بیچاریاں خودبخود اپنی مرضی سے شکاری کی جھولی میں بخوشی آ کر گر جاتی ہیں۔ ایسی حالت میں جرم کی نوعیت اور کیفیت بہت ہی سنگین ہو جاتی ہے۔ ایک عورت جسے مردانہ معاشرے سے بغاوت سکھا کر یہ درس دیا گیا ہو کہ تم اپنے پہناوے، اپنے رویے اور اپنے خدوخال سے ’’غالب‘‘ (Dominating) نظر آئو، تم نے صدیوں پرانی زنجیریں توڑنی ہیں، تم نے اس پدری سری نظام کا خاتمہ کرنا ہے۔ پھر اس ساری جدوجہد اور سارے انقلاب کا صرف اور صرف ایک ہی نکتہ اظہار بنا دیا جائے اور وہ ان معاملات میں اخلاقیات کا دامن تار تار کر کے خاندانی، معاشرتی، مذہبی اور ذاتی اخلاقی حدود کے لباس کو اُتار پھینکنا ہو تو پھر اس خوفناک صورت حال سے وہی کچھ برآمد ہوتا ہے جسے ہم آج بھگت رہے ہیں

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.