”پاکستانیوں تیار ہو جاؤ، بجلی اور تیل کی قیمتوں میں پھر اضافہ ہونے والا ہے ۔۔۔“

کراچی (ویب ڈیسک) نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مشیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہےکہ عوام بجلی اور تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کیلئے تیار ہوجائیں ، آئی ایم ایف نےپیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی میں زیادہ اضافے کا کہا تھا ہم نے کم اضافہ کیا، قیمتوں میں اضافہ ہوگا لیکن اتنا نہیں ہوگا جتنا آئی ایم ایف

 

 

 

 

چاہتا ہے، مشیر خزانہ شوکت ترین نے کہاکہ آئی ایم ایف سے مذاکرات وہیں سے شروع ہوئے جہاں سے سفر توڑا تھا، ہم نے پچھلے جو 500ملین ڈالرز لیے تھے اس میں انہوں نے ہمیں جو ایکشن کرنے کیلئے دیئے تھے جس میں 700ارب روپے کے ٹیکسز اور استثنیٰ واپس لینے تھے، اس کے علاوہ پانچ روپے کا ٹیرف میں اضافہ تھا، انہوں نے اسٹیٹ بینک کیammendmentsکو بھی autonomous کرنے کیلئے کہا۔ وہ یہاں سے شروع ہوئے اس پر کافی بحث و مباحثہ ہوا، میں نے وہی چیز جو جون میں کہی تھی کہ ہم نے ٹیکس نیٹ میں اضافہ کی طرف جانا ہے اس پر ہمیں کافی حد تک کامیابی ہوئی، ہم نے کچھ استثنیٰ ختم کیے لیکن کچھ استثنیٰ رکھے ہیں، بجلی کی قیمتوں میں بھی انہوں نے پانچ روپے اضافہ کا کہا تھا مگر اس میں بھی ہمیں کافی کامیابی ہوئی، ہمار ا کہنا تھا کہ ٹیرف بڑھانے سے غریب پر مزید بوجھ پڑتا ہے اور ہماری انڈسٹریuncompetativeہوتی ہے، اس پر بھی ایک طرح سے کچھ نہ کچھ ہماری کامیابی ہوئی، آئی ایم ایف جب اعلان کرے گا تو آپ دیکھیں گے کہ کافی سخت مذاکرات ہوئے، آئی ایم ایف کا ہمارے ساتھ رویہ بہت سخت تھا، ان کا کہنا ہے کہ آپ باتیں اور وعدے کرتے ہیں لیکن پیسے لے کر ان سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں، آپ کو معلوم ہے افغانستان کے بعد ماحول بھی کیا بنا ہوا تھا، امریکا کا رویہ بھی آپ سمجھ سکتے ہیں، ان مشکل حالات میں کافی اچھا معاہدہ طے ہوا ہے۔ شوکت ترین نے کہا کہ 700 ارب روپے

 

 

 

 

کے جوٹیکسز ہیں، آپ جب دیکھیں گے جب رزلٹس آئیں گے وہ میں ابھی نہیں بتاسکتا ہوں، وہ ایک قسم سے breach of trust ہوگا، ہم نے ان سے کافی رعایتیں لی ہیں۔ بجلی کی قیمتوں میں بھی ہم نے رعایت لی ہے۔ وہ 5 روپے 95پیسے جولائی تک بڑھانے کیلئے کہہ رہے تھے ہم نے اس میں بھی رعایتیں لی ہیں، ہمارے بہت مشکل قسم کے مذاکرات تھے، ہم نے بھی اپنا گراؤنڈ قائم رکھا، جیسے ہی آئے گا آپ دیکھ لیں گے۔ اگر ہم نے دیکھا کہ معیشت اوور ہیٹ ہورہی ہے تو ہم نے پہلے بھی کچھ اقدامات اٹھائے ہیں جس میں کیش مارجن بڑھادیئے اور گاڑیوں پر ڈیوٹی بڑھادی ہے تو اب بھی ہم کریں گے، لیکن ہم نے اپنی گروتھ کو غیرمستحکم نہیں ہونے دینا ہے، ہماری گروتھ کافی اچھی ہے کیونکہ بجلی کی کھپت 13فیصد پر چل رہی ہے بڑھی ہے، اسی طرح ہمارا ریونیو دیکھیں تو 37فیصد سے بڑھ رہا ہے، میرا خیال ہے ہماری گروتھ 5فیصد سے زیادہ ہی ہوگی لیکن ہم اسے غیرمستحکم نہیں ہونے دیں گے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ دس بارہ ارب ڈالرز کا نہیں ہوگا، یہ جی ڈی پی کا تین ساڑھے تین فیصد تک ہوگا جو ہمارے لیے sustainable ہے، ہمارے net international reserves بڑھ رہے ہیں اس کا مطلب ہے ہماری inflows اور outflow match کررہی ہیں بلکہ ہمارے inflow تھوڑے زیادہ ہی ہیں، ہم اس کے اوپر بڑی کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں، ہمارے لیے ایکسچینج ریٹ کا استحکام بھی بہت ضروری ہے، آپ نے دیکھا کہ ابھی 175 کو

 

 

 

 

ٹچ کر کے 171 پر آگیا ہے ،انشاء اللہ آئی ایم ایف پروگرام ہوجائے گا تو اس پر مزید اچھا اثر پڑے گا، دیکھنا ہمیں یہ ہے کہ real effective exchange rate کہاں ہے، real effective exchange rate اگر 95 پر پھر رہا ہے تو اس کا مطلب ہے ہمارا روپیہ ابھی بھی under valued ہے۔ آپ نے بڑی صحیح بات کی کہ real effective exchange rate پر ہمارا روپیہ 165سے 167تک ہونا چاہئے، وہ اگر 175پر گیا ہے تو اسے speculator لے کر گیا ہے، یہ ہمارے افغانستان کے بیچ میں جو ایونٹس ہوئے ہیں اس سے جو ڈالر نکلا ہے اُدھر گیا ہے پھر اس کو ہم نے کنٹرول کرنے کی کوشش کی ہے یہ اس کی وجہ سے گیا ہے، یہ فری مارکیٹ والی بات نہیں ہے، سینٹرل بینک بالکل اس میں بجا ہوتا ہے اگر speculator آرہا ہے تو وہ اس میں مداخلت کرے، لیکن سعودی عرب کی facility کی وجہ سے automatically اس پر مثبت اثر پڑا ہے، ڈالر 171پر آگیا ہے ہم دیکھتے ہیں real effective exchange rate کے قریب کیسے آئے گا۔اس سوال پر کہ سعودی عرب کی طرف سے facility کتنی certain ہے، آخری مرتبہ بھی انہوں نے ظاہر ہے پاکستان کو پیکیج دیا تھا، اچانک درمیان میں تھوڑی ناراضگی ہوئی وہ پیسے واپس نکال لیے اور پھر چین سے لے کر انہیں دینے پڑے، یہ sustainable ہے جس پر ہم انحصار کرسکتے ہوں کہ 4.2ارب ڈالرز آئیں گے ہی آئیں گے ہمارے oil facility کی صورت میں بھی اور 3.2فیصد پر جو وہ ہمیں قرض دے

 

 

 

 

رہے ہیں؟ شوکت ترین نے کہا کہ بالکل آئیں گے۔ میرے سامنے یہ معاہدہ ہوا ہے، کراؤن پرنس نے ان کو حکم دیا ہے، اس کے بعد ان کے فائنانس منسٹر کا مجھے ٹیلیفون آگیا ہے، خود انہوں نے یہ پریس ریلیز دی ہے ہم نے نہیں دی، سعودی عرب کے وزیرخزانہ نے دی ہے، یہ حقیقت ہے۔ آئی ایم ایف کا شرح سود کا جو ہے، یہ تو ان کا اسٹیٹ بینک کے ساتھ تعلق ہوتا ہے، میں تو اس میں مداخلت ہی نہیں کرتا ہوں۔ اس وقت 9.2مہنگائی ہے لیکن آپ نے core inflation دیکھی ہو تو وہ 6.6 پر ہی ہے، ہمیں اس کا تعین core inflation کے ساتھ کرنا چاہئے لیکن یہ ضروری ہے کہ اگر مجموعی طور پر مہنگائی 9.1 ہے تو ہوسکتا ہے انٹرسٹ ریٹ تھوڑا سا بڑھے لیکن ہمیں اس سے فرق نہیں پڑتا، آئی ایم ایف کی طرف سے primary deficit کی طرف ان کا زور ہوتا ہے ، prime deficit میں ہماری interest cost بیچ میں نہیں آتی، دوسری سائڈ پر میں اپنے ریونیوز میں بہت آگے ہوں، مجھے ادھر سے بھی فرق نہیں پڑتا، آپ کو معلوم ہے میں اپنے ٹارگٹس سے چار مہینوں میں 240ارب روپے آگے ہوں۔ اگر ہم نے دیکھا کہ ہمار ا کرنٹ اکاؤنٹ آؤٹ آف کنٹرول ہورہا ہے تو پہلے بھی ہم نے ایکشن لیا ہم مزید ایکشن لیں گے لیکن گروتھ کو غیرمستحکم نہیں ہونے دیں گے۔ اس سوال پر کہ گروتھ مستحکم بھی ہوگی اورا چھے نمبرز کے ساتھ ہوگی، یہ پانچ فیصد برقرار رہے گا اور آگے بھی آپ پازیٹو ہی دیکھ رہے ہیں، سلو ڈاؤن بہت جلدی نہیں

 

 

 

 

ہوجائے گا، ہم دھڑام سے گرپڑتے ہیں جیس ہی بیرونی دباؤ آتا ہے جیسے ہی پانچ چھ فیصد کے پاس جاتے ہیں۔ شوکت ترین نے کہاکہ بالکل آپ کی بات صحیح ہے۔ ہم چاہتے یہی ہیں کہ یہ 4فیصد تھا اس سے ہم 5فیصد پر جائیں اس کے بعد 6فیصد پر جائیں، اس دفعہ مجھے پکا یقین ہے کہ ہم تقریباً 12 فیصد ٹیکس ٹو جی ڈی پی پر پہنچیں گے، یہ بہت بڑا جمپ ہے، اگلے سال ہم اسی طرح ڈیڑھ دو فیصد جمپ لیتے رہے تو چار پانچ سال میں ہم 20فیصد پر پہنچ جائیں گے۔آئی ایم ایف نے کہا کہ آپ نے 600ارب روپے کا پی ڈی ایل رکھا ہوا ہے تو آپ اس میں کچھ تو اضافہ کریں گے، ظاہر ہے اس پر کافی بحث ہوئی ہے، 600بلین تو ہم نے نہیں مانا لیکن کوئی نمبر تو ہمیں ان کے ساتھ طے کرنا پڑا تھا وہ نمبرز آپ دیکھ لیں گے۔اس سوال پر کہ اسٹیٹ بینک کی جو autonomy ہے اس کے حوالے سے آرہی تھی کہ خودمختاری کے حوالے سے آئی ایم ایف بہت سخت شرائط رکھ رہا ہے جبکہ پہلے پاکستان نے وعدہ کیا تھا مگر اس میں حکومت کو پارلیمنٹ کے اندر اکثریت کا مسئلہ ہے تو کیا آئی ایم ایف مطمئن ہوا؟ شوکت ترین نے کہا کہ جی، ان سے ہماری بات ہوئی ہے، ہم نے کہا کہ آپ چاہ رہے ہیں کہ یہ ترامیم پارلیمنٹ میں پاس ہوں، آپ نے اس میں کچھ ایسی چیزیں رکھ دی ہیں جس کیلئے ہمیں دو تہائی اکثریت چاہئے جو ہمارے پاس نہیں ہے، ابھی وہی بات چل رہی ہے، باقی ہم نے پہلے ان سے 500ملین ڈالرز لے کر agree کرلیا تھا۔ میرے وقتوں میں میں نے 2008-09 ء میں یہ agree کرلیا تھا بلکہ یہ میرا ہی initiative تھا کہ consolidated account کے بیچ میں سارے پیسے جانے چاہئیں، اگر لوگوں نے پیسے لینے ہیں تو ان کی limits ہوجائیں گی، ایک قسم سے اس پر ابھی تک عملدرآمد نہیں ہوا تھا، ہمیں اس پر عمل کرنا چاہئے کیونکہ یہ ایک ناجائز چیز ہے کہ حکومت کے پیسے، ہم تو debt پر پیسے دے رہے ہیں مطلب ایک قسم کا مارک اپ دے رہے ہیں اور یہ بینکوں میں تھوڑے پیسوں میں رکھ کر، کسی نے کرنٹ اکاؤنٹ میں رکھا ہوا ہے، کسی نے سیونگ میں رکھا ہے تو سنگل ٹریژری اکاؤنٹ کا implementation ایک orderly implementation بہت ضروری ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.