”نوکری کرنی ہے تو ہماری مرضی کا لباس پہن کر آفس آنا ہو گا ۔۔۔۔۔“

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار انصار عباسی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔Moral Policing کی گردان کرنے والوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ اسلام حکم دیتا ہے کہ ہم اچھائی کی ترغیب دیں اور بُرائی سے روکیں اور جہاں تک ریاست اور حکومت کی بات ہے تو یہ اُن کا آئینی اور قانونی طور پر فرض ہے کہ وہ

 

 

 

 

 

پاکستان کے تعلیمی اداروں کو مغربی کلچر سے پاک کریں اور لباس کے معاملے میں ایک ڈریس کوڈ نہ صرف اساتذہ بلکہ طلباوطالبات دونوں کے لئے جاری کریں اور اس پر سختی سے علمدرآمدکروائیں۔ یہ ڈریس کوڈ صرف وفاقی سرکاری تعلیمی اداروں کے لئے ہی مختص نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس کو نجی تعلیمی اداروں پر بھی لاگو کیا جانا چاہئے۔ ہماری دینی و معاشرتی اقدار کے مطابق صوبوں کو بھی تعلیمی اداروں کے لئے ڈریس کوڈ جاری کرنا چاہئے۔ اس وقت تعلیمی اداروں خصوصا ًنجی یونیورسٹیوں کا جو حال ہے وہ انتہائی تشویش ناک ہے۔نہ صرف مغربی لباس پہننا عام ہو گیا ہے بلکہ کئی درس گاہیں لڑکوں لڑکیوں میں دوستیوں اور افیئرز کے لئے زیادہ جانی جاتی ہیں۔ میں تو پہلے بھی کہہ چکا ہوںاور اب بھی اس بات پر زور دے رہا ہوں کہ جس تیزی کے ساتھ تعلیمی اداروں کا ماحول خراب ہو رہا ہے۔اُس تناظر میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو چاہئے کہ لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے الگ الگ تعلیمی اداروں کا نظام بنائے تا کہ لڑکا ہو یا لڑکی وہ تعلیم کے حصول کے اپنے اصل مقصد سے کسی بھی صورت میں دور نہ ہو۔ یہاں میں وفاقی و صوبائی حکومتوں اور افواج پاکستان کے ذمہ داروں سے بھی یہ گزارش کروں گا کہ پولیس اور افواج میں خواتین ملازمین کے لئے ایسا یونیفارم لاگو کریں جو ہماری دینی اور معاشرتی اقدار کے مطابق ہو۔کچھ علاقوں میں خواتین پولیس آفسرز جن کے لئے پینٹ کے اوپر لمبی کھلی شرٹ کا یونیفارم تھا، اب اُنہیں

 

 

 

 

 

مردوں کی طرح کا یونیفارم دے دیا گیا ہے جس پر مجھے کچھ اعتراضات بھی موصول ہوئے۔جہاں تک Moral Policing کا پروپیگنڈہ کرنے والوں اور بے حیائی کو پروموٹ کرنے والے میڈیا کا تعلق ہے تو میرا اُن سے ایک سوال ہے کہ ہر ایسے معاملہ کو وہ فوری طور پر اُٹھا دیتے ہیں اور اُسے اسکینڈلائز کرتے ہیں جس کا تعلق اسلامی شعائر اور احکامات پر عملداری سے ہوتا ہے لیکن اگر کہیں خواتین کو اُن کی مرضی کے خلاف مغربی لباس پہنایا جا رہا ہو اور وہ معاملہ سامنے بھی آ جائے تو اُس پر وہ کوئی چپ سادھ لیتے ہیں۔ حال ہی میں سوشل میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ ایک نجی کاروباری ادارے نے اپنے ہاں کام کرنے والی خواتین ورکرز جن کے ڈریس کوڈ پہلے پینٹ شرٹ کے علاوہ کوٹ بھی تھا، اُنہیں حکم دیا گیا کہ وہ کوٹ نہ پہنیں اور صرف پینٹ شرٹ پہنیں۔ اس پر خواتین ورکرز نے اعتراض کیا تو اُنہیں کہا گیا اگر ہماری مرضی کا لباس نہیں پہننا تو نوکری چھوڑ دیں، ہمیں دوسری ورکرز مل جائیں گی۔ یہ معاملہ ہمارے لبرل میڈیا اور مخصوص طبقے کو نظر ہی نہیں آیا۔ وہ یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ بھئی کام سے مطلب رکھو، تمہارا خواتین ورکرز کے لباس کو کم کرنے سے کیا مطلب۔ یہ دراصل خواتین کا استحصال ہے جو ترقی ، آزادی اور حقوقِ نسواں کے نام پر کیا جاتا ہے۔(انصار عباسی پاکستان کے مشہور صحافی ، کالم نگار اور تجزیہ کار ہیں )

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.