ایک رپورٹر نے ایک خاتون سے پوچھا ، جب زلزلہ آیا تو آپ کیا کررہی تھیں ؟ پھر اس فیصل آبادی خاتون نے کیا دلچسپ جواب دیا ؟ جگتوں کے شائقین کے کام کی تحریر

نامور کالم نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔نیونیوزپر آفتاب اقبال کا پروگرام خبریار دیکھ رہے تھے۔۔ اس میں ایک سیگمنٹ ہوتا ہے۔۔فرہنگ آصفیہ۔۔ جس میں اصل اردو سکھائی اور سمجھائی جاتی ہے۔۔بتایا جاتا ہے کہ ہم کس طرح کی غلط اردو بول رہے ہیں۔۔ اس بار آفتاب اقبال نے بتایا کہ۔۔جگت کا

 

 

 

 

مطلب ہوتا ہے۔۔دانائی کی بات۔۔ہمیں حیرت کا جھٹکا ،دھچکا اور کھٹکا لگا۔۔ لیکن چونکہ ان کی ٹیم ریسرچ کے بعد ہی یہ سب لکھتی ہے تو ہم نے اسے ٹھیک سمجھ لیا۔۔ لیکن ہم دوران پروگرام یہی سوچتے رہے کہ فیصل آبادی تو پھر سارے کے سارے دانا ہیں۔۔ ایک رپورٹر نے کسی فیصل آبادی خاتون سے پوچھا۔۔جب زلزلہ آیا تو آپ کیا کررہی تھیں؟؟ وہ برجستہ بولی۔۔ انّی دیا میں ہِل رہی سی۔۔۔ایک فیصل آبادی رکشہ والے کی گدھا گاڑی والے سے ٹکرہوگئی۔ وہ بہت غصے میں نیچے اتر کے کہتا۔۔ ماما اپنی اَکھاں دے سیل پوا۔۔اور گدھے کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگا۔۔۔ تے ایس پیو نوں وی عینکاں لوا ۔۔۔ کسی نے گھنٹا گھر کے پاس کسی ریڑھی والے سے پوچھا۔۔کینو کیسے لگائے ہیں؟؟ وہ چٹاخ سے بولا۔۔برف تے۔۔۔ تربوز والے سے کسی خریدار نے ویسے ہی پوچھ لیا کہ۔۔ دوانا لال تے ھے ناں؟ وہ کہنے لگا۔۔پاجی ٹینشن نا لو اینوں خون دِیاں بوتلاں لوایاں نے

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *