”رؤف کلاسرا کے قلم سے خصوصی تحریر“

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار رؤف کلاسرا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔وہ پیسہ جو عوام کی حفاظت پر لگنا تھا وہ اب بھی اس ملک کے وی آئی پیز پر لگ رہا ہے جبکہ عوام سڑکوں پر جان سے جا رہے ہیں۔ اگر سوال اٹھائیں تو جواب ملتا ہے‘ پولیس کے پاس سہولتیں اور فنڈز نہیں ہیں‘ وسائل نہیں ہیں۔ VIPs کو

 

 

 

 

 

حفاظت دینی ہو، اپنے آگے پیچھے پروٹوکول کی گاڑیاں رکھنی ہوں تو ان کے پاس بجٹ بھی ہے، وسائل بھی ہیں اور اپنی حفاظت کا بندوبست بھی۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جن عوام کے اربوں روپوں سے یہ اپنے پروٹوکول پر خرچ کرتے ہیں‘ انہی عوام کو روز ذلیل کرنا بھی نہیں بھولتے کہ یہ ٹیکس نہیں دیتے۔ ٹیکس نہیں دیتے تو یہ اربوں کے پروٹوکول کے اخراجات کہاں سے پورے ہورہے ہیں؟پرانا لطیفہ یاد آگیا کہ ایک کسان کے پاس ایک بندر اور ایک گدھا تھا۔ بندر رات کو کچن میں جا کر آٹا کھا جاتا اور واپسی پر کچھ آٹا لا کر گدھے کے منہ پر مل دیتا۔ صبح مالک اٹھ کر گدھے کی چھترول کرتا جبکہ بندر دور بیٹھا دانتوں میں خلال کررہا ہوتا۔ یہی عوام ساتھ ہورہا ہے۔ حکمران اور سرکاری بابوز ان عوام کے پیسوں پر عیاشی کرتے ہوئے دور بیٹھے دانتوں میں خلال کررہے ہیں۔ پٹرول سے اکٹھے ہونے والے اربوں روپے کے ٹیکس اپنے پروٹوکول پر خرچ کرنے کے بعد بھی عوام کو یہ کہہ کر ذلیل کر رہے ہیں کہ یہ ٹیکس نہیں دیتے۔ وہی عوام اربوں روپے ان حکمرانوں کے پروٹوکول پر خرچ کرنے کے بعد کسی حادثے کی صورت میں اپنے لیے کسی چیریٹی کی ایمبولینس ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.