”دنیا کے دیگر ممالک کو دیکھیں تو پاکستان سب سے سستا ملک ہے ، مگر کیسے ؟“

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار چوہدری خادم حسین اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔دانش کا تعلق، تعلیم، عمل اور تجربے سے ہے، ڈگریوں سے اسے حاصل کیا جا سکتا تو ”بلہڑ یونیورسٹی“ کے سبھی فارغ التحصیل دانشور ہوتے اور ہم جیسے طالب علم، محنت کش، جاہل کے جاہل ہی رہتے کہ ہمارے کئی پیشرو

 

 

 

 

 

بزرگ بھی ڈگریوں کے بغیر بھی بہت اہل رہے ہیں۔ مَیں تو ابھی تک ایک طالب علم ہوں، تاہم غور ضرور کرتا ہوں۔ گزشتہ دِنوں ایک مغربی ادارے نے ایک سروے رپورٹ شائع کی،اس کا بالواسطہ تعلق تو بھوک سے ہے،لیکن اسے نام یہ دیا گیا کہ دُنیا میں کون سے ملک رہائش و خوراک کی ضروریات کے حوالے سے زیادہ سستے ہیں،اس سروے کے مطابق پاکستان،بھارت اور افغانستان کی نسبت بھی سستا ملک ہے۔اس پر ہمارے حکومتی ترجمانوں نے فوراً ہی ردعمل دینا ضروری جانا اور بڑے فخر سے کہا کہ دیکھا اب تو عالمی ادارے بھی کہتے ہیں کہ پاکستان سستا ترین ملک ہے۔ان حضرات ہی کی دانش کے باعث ہمارے وزیراعظم نے بھی کہہ دیا کہ پاکستان دنیا کا سستا ترین ملک ہے، وزیراعظم نے شاید اپنے معاون کی وجہ سے یہ کہہ دیا ہو، تاہم ان معاون صاحب کے حوالے سے پاکستانی عوام بہت مضطرب ہوئے کہ یہاں مہنگائی اور کم آمدنی نے کمر توڑ کر رکھ دی ہے اور اب تو سفید پوش حضرات بھی غربت کی لکیر تک آ گئے ہیں۔محترم معاون یہ بھول گئے کہ پاکستان میں ایک محنت کش کے لئے سرکاری تنخواہ یا ماہانہ آمدنی20 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے اور یہ بھی ان کو نہیں ملتی کہ سرکاری محکموں میں بھی اس پر عمل نہیں ہوتا اور جو مزدور ایڈہاک کی بنیاد پر لئے جاتے ہیں، ان کو کہیں کم معاوضہ ملتا ہے اور پھر یہ جو سرکاری ٹھیکیدار ہیں یہ تو لیبر روزانہ اجرت کی بنیاد پر رکھتے ہیں

 

 

 

 

 

اور ان کا معاوضہ اس تناسب سے نہیں ہوتا۔ چہ جائیکہ وہ جو ”دیہاڑی دار“ ہیں، وہ اپنی روزی اس تناسب سے کما لیں، وزیراعظم بہرحال ان کے لئے بہت فکر مند رہتے ہیں۔چلئے یہ الگ معاملہ ہے، ذرا اس سروے کے حوالے سے بات کر لیں کہ اس کی بنا پر بغلیں بجائی جا رہی ہیں یہ سروے ایک مغربی این جی او یا تنظیم کا ہے اور اس نے جو تناسب اخذ کیا وہ مغربی ممالک کے حوالے سے کیا ہے۔ان ممالک میں پونڈ، یورو اور ڈالر مروجہ سکہ اور واحد ہے،یعنی ان کا روپیہ ہے،ان ممالک میں جو معاوضہ دیا جاتا ہے اس کے مطابق ان کی کرنسی روپے ہی کے تناسب سے ہوتی ہے۔برطانیہ میں غیر قانونی رہائش والا چوری چھپے کام کرتا ہے تو اسے پانچ سے سات پونڈ فی گھنٹہ مل جاتے اور سات گھنٹوں کے تناسب سے وہ49،50 پونڈ روزانہ کماتا ہے۔یہ وہ معاوضہ ہے جو استحصالی ہے، ورنہ 12سے20 پونڈ فی گھنٹہ عام ہے۔ اگر تناسب کے حوالے سے15 پونڈ فی گھنٹہ تصور کر لیں تو105 پونڈ بنتے ہیں، اب ان کو ذرا پاکستان کی کرنسی سے ضرب دے لیں تو یہ معاوضہ 20 ہزار سے بھی زیادہ بنتا ہے۔اب جو شخص برطانیہ،امریکہ یا یورپ میں کماتا ہے،اس کا تناسب پاکستانی کرنسی کے حوالے سے دیکھیں اور پھر وہ لوگ یہاں آئیں تو ان کے لئے تو یہ ملک سستا ہو گا کہ یہاں پانچ ستارہ ہوٹل میں ایک چائے کا گپ سو سے ڈیڑھ سو روپے میں ملتا ہے، برطانیہ والوں کے لئے یہ کپ پچاس

 

 

 

 

 

سے ساٹھ پیسے (پنس) کا ہو گا کہ پونڈ ان کا روپیہ ہے۔اسی حوالے سے اگر کرایوں، اور مہنگی اشیاء کو بھی دیکھ لیں تو ان کے لئے تو بہت، سستی ہوں گی۔ان کا ایک روپیہ ہمارے250،200 اور164 روپے کے برابر ہے، اب تو یہ حضرات جنہوں نے خوشخبری سنائی وہی بتا سکتے ہیں کہ انہوں نے کرنسی کا یہ ادلہ بدلہ اپنے سامنے کیوں نہیں رکھا، البتہ مَیں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ان کے لئے یقینا یہ ملک سستا ہے کہ یہ خود مغربی ممالک کے رہائشی اور پاکستان میں خدمت کے جذبے سے تشریف لائے ہیں۔پاکستانیوں کو ان ”بے لوث خادموں“ کو سلام کرنا چاہئے کہ وہ ترقی یافتہ ممالک کا قیام چھوڑ کر ہم جیسے پسماندہ اور غریب ملک میں آ کر ہماری خدمت کر رہے ہیں۔اب ذرا اسی سلسلے کے ایک دوسرے پہلو پر بھی غور کر لیں،خود وزیراعظم اور یہ معاونین بار بار اعتراف کرتے ہیں کہ مہنگائی ہے،اسی لئے تو کہتے ہیں گھبرانا نہیں، کوشش جاری ہے کہ مہنگائی کم ہو،اب ذرا اس کوشش کے اثرات بھی دیکھ لیں، ایل پی جی مزید مہنگی اور180 روپے ہو گئی،جو 130 روپے فی کلو تھی، بجلی روز بروز مہنگی ہو رہی ہے، خود وفاقی محکمہ شماریات نے جولائی کے مہینے کی جو تفصیل بتائی اس کے مطابق ایک ماہ میں گرانی مزید8.5 فیصد بڑھی ہے۔جی ہاں! پہلے سے موجود مہنگے سودے اور مہنگے ہوئے ہیں،ان میں چینی، آٹا، گھی، آئل اور سبزیوں جیسی بنیادی ضروری اشیا شامل ہیں۔ بجلی، گیس اور دوسرے ضروری اخراجات تو چھوڑ دیں، یہاں عام آمدنی15 سے 20 ہزار روپے ماہانہ کمانا ہے، اور جو سفید پوش ملازم ہیں ان کے لئے بچوں کی تعلیم اور اپنی سفید پوشی برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔

 

 

 

 

 

یہاں گریڈ16 کے سرکاری ملازم کو قریباً36 سے38 ہزار روپے ماہانہ ملتے ہیں، اگر یہ ملازم کرایہ کے مکان میں دو بچوں کے ساتھ رہے، تو اس کا گذارہ ممکن نہیں کہ ضروریات میں بچوں کی تعلیم اور بجلی، گیس، پانی کے بل بھی شامل ہیں،اِس لئے جب کبھی مغربی ممالک کے ایسے سروے آئیں تو ان کی تفصیل کے لئے ان ممالک کی کرنسی اور اپنی کرنسی کا موازنہ کر لینا چاہئے،ہمارے یہاں اب اچانک ڈالر طاقتور ہونا شروع ہو گیا، اور صرف ایک ہفتے میں سات روپے مہنگا ہو گیا ہے، سونے کے نرخ تو سن اور پڑھ کر ہی اوسان خطا ہو جاتے ہیں،خصوصاً جو لوگ بچیوں والے اور اس معاشرے میں زندہ رہنا چاہتے ہیں وہ تو غم سے ہی نڈھال رہتے ہیں۔ہمارے بھائی فواد چودھری یوں تو بہت حقیقت پسند ہیں تاہم ترجمانی کے فرائض انجام دیتے وقت وہ ہمیشہ سرکاری موقف ہی دہراتے ہیں، جیسے انہوں نے کہہ دیا کہ پاکستان میں پٹرول اب بھی دنیا بھر سے سستا ہے، کوئی بھروسہ نہیں کہ وہ اب یہ دعویٰ بھی کر دیں کہ سعودی عرب میں بھی مہنگا اور پاکستان میں سستا ہے، وہاں تو پٹرول سستا اور پانی مہنگا ہے، پٹرولیم کے حوالے سے بھی نسبت تناسب ہی کی بات کی جاتی ہے،لیکن یہ نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ 2018ء اور کورونا سے قبل جب ایک بیرل کے نرخ70 اور75 ڈالر تک ہو گئے تھے تو تب بھی پٹرول کے نرخ سو روپے سے کم تھے اور ہمارے محترم وزیر اسد عمر حساب لگا کر کہتے تھے کہ پٹرول54 روپے فی لیٹر بکنا چاہئے۔ آج

 

 

 

 

 

یہ نرخ 121 روپے تک چلے گئے اور عوام منتظر ہیں کہ یہ قیمت150 روپے لیٹر تک کتنے عرصہ میں پہنچے گی، پھل اور سبزی مہنگے ہوں تو دال سے گذارہ ہوتا ہے،اب تو دالیں بھی اتنی مہنگی ہو گئی ہیں کہ اوسط آمدنی والا یہ اخراجات برداشت کرنے کے قابل نہیں۔ پھل تو رہے ایک طرف جہاں شہری علاج معالجے اور سفر سے بھی محروم ہوتے جا رہے ہوں،ہسپتالوں میں مفت علاج اور ادویات بند ہو چکیں،جبکہ وزیر ریلوے مسافر گاڑیوں سمیت پوری ریلوے ہی نجی ملکیت میں ٹھیکے پر دیئے چلے جا رہے ہیں،اس بدانتظامی کا احوال ہمارے برادری کے دوست خورشید تنویر نے فیس بک پر بتا دیا کہ کس طرح اسلام آباد سے کراچی جاتے ہوئے ان کو اپنی فیملی سمیت دوسرے مسافروں کے ساتھ بزنس کلاس میں سفر کے باوجود دھکے کھانا پڑے کہ جس بوگی میں ان کی بکنگ تھی، وہ بوگی اسلام آباد سے لے کر راولپنڈی تک دستیاب نہیں تھی۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.