”پھر بھی مجھے نام نہاد تبدیلی کی حمایت کا طعنہ کیوں دیا جاتا ہے ؟“

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔برسبیل تذکرہ عمران خان کے باب میں یہی غلطی ہم سے سرزدہوئی۔ کئی بار معافی مانگ لینے کے باوجود، عمر بھر یہ طعنہ ہمیں سننا ہے۔ سننا چاہیے اور ہر بار معافی مانگنی چاہیے۔ ہر چند پروفیسر صاحب نے الیکشن 2013 سے قبل ہی

 

 

 

 

 

کپتان کو ترک کر ڈالا۔ اس کے باوجود بعض اوقات ان پہ اعتراض کیا جاتا۔ ان کا جواب ہمیشہ یہ ہوتا: ہم اللہ سے ہار گئے اور بندے کے اللہ سے ہارنے میں کیا ملال۔ جناب علی کرم اللہ وجہہ ایک بار پھر یاد آئے” پروردگار کو میں نے اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچانا” گرامی قدر استاد تھے اور اب نیک لوگوں کے درمیان مٹی اوڑھ کے سوئے پڑے ہیں۔ ان کی شان میں گستاخی کا تصور بھی تکلیف دیتا ہے۔ باایں ہمہ بعض بدبختوں کی پھیلائی غلط فہمی کی تردید تو خود اقبالؔ کے کلام میں ہے۔ زمستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزی نہ چھوٹے مجھ سے لندن میں بھی آدابِ سحر خیزی ان کے ایک فارسی شعر کا ترجمہ یہ ہے” یا رب میری فکر کا سر چشمہ اگر قرآن نہیں تو روز جزا مجھے مصطفی ؐ کے بوسہ ء پا سے محروم کر دینا۔ کس آدمی نے یہ بات کہی؟ اس نے جو کہہ چکا تھا تو غنی از ہر دو عالم من فقیر روزِ محشر عذر ہاے من پذیر گر حسابم را تو بینی ناگزیر در نگاہ ِمصطفٰی پنہاں بگیر یا رب تو ہر دو جہاں سے بے نیاز اور میں فقیر۔ روز ِحشر معاف فرما دینا۔ حساب ہی لازم ٹھہرے تو مصطفی ؐ کی نگاہوں سے پوشیدہ رکھنا۔ کیسا کیسا آدمی اس مادر گیتی نے جنا ہے۔ قطعا کوئی ارادہ اقبالؔ پہ لکھنے کا نہیں تھا۔ اخبار نویس کی بساط ہی کیا۔ اس نے تو امریکی پابندیوں کے امکان اور ان کی ممکنہ حدود پہ اظہار کا ارادہ کیا تھا۔ ہوتا مگر یہ ہے کہ چاند کی چودھویں کو ستارے ماند پڑجاتے ہیں۔ آفتاب طلوع ہوتا ہے تو بس آفتاب ہی دکھائی

 

 

 

 

 

دیتا ہے۔ عارف سے کسی نے پوچھا: مخلوق خالق کا دیدار کیوں نہیں کر سکتی؟ فرمایا: تاب ہی کون لا سکتا۔ 70 ہزار ناری اور ستر ہزارنوری پردے حائل رکھے ہیں۔ ہاں مگر ایک بارسرکارؐنے اسے دیکھا۔زمین کی گردش روک دی گئی۔ مدعو کیے گئے۔ دو کمانوں سے کم فاصلے پر براجمان۔ اپنے مضمون میں ایک عجیب بات ابو الاعلیٰ نے کہی: فرقہ ملامتیہ کے کچھ آثاراقبالؔ میں پائے جاتے تھے۔ اپنی مذمت پہ شاد ہوتے۔ یہاں تک کہہ دیا: اقبالؔ بڑا اپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے گفتار کا غازی تو یہ بنا کردار کا غازی بن نہ سکا گاہے سید صاحب ایسے معلم بھی مغالطے کا شکار ہوسکتے ہیں۔ فرقہ ء ملامتیہ کا کوئی اثر ان پر نہ تھا۔ یہ انکسار تھا، سچا اور کھرا انکسار۔ ان کا باطن ان کے ظاہر سے زیادہ روشن تھا، جگمگ، جگمگ، جگمگ، جگمگ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *