یارزاق روزانہ فجر کے بعد پڑھنے سے

رزق اللہ پا ک کی ایک ایسی نعمت ہے۔ کہ جس کی تقسیم کا اختیار اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس ہی رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشادفرماتا ہےکہ : اللہ تعالیٰ تو خود ہی رازق ہے۔ مستحکم اور قوت والا ہے ۔ اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو کشادہ اور وسیع رزق عطا کرتا ہے اور بعض لوگوں کو رزق میں تنگی عطا فرمادیتا ہے۔ چاہے وہ زمین پر چلنے

اور رینگنے والے جاندار کو یا ہوا میں اڑنے والے پرندے کو ، نہ سمند ر کی تاریکیوں میں بسنے والے جاندار ،اللہ تعالیٰ کی نگاہ سے او جھل ہیں۔ اور نہ ہی پہاڑوں کی چوٹیوں پر بسیرا کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ بھولتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں جس کا رزق اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ نہ لیا ہو۔ تو ہم لوگ رزق صرف کھانے کی چیزوں کو کہتے ہیں ۔ حالانکہ ایسا نہیں ۔ بلکہ رزق اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہرچیز ہے۔ بلکہ رزق اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہر نعمت کو کہتے ہیں۔ چاہے وہ صحت ہو ، چاہے وہ علم ہو، چاہے وہ اخلاق ہو، چاہے وہ عمل ہوم نیک بیوی ہو یا اولاد ہو۔ مال ہویا دلی اطمینان ہو۔ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ہر نعمت پررزق کا اطلاق ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشادفرماتا ہے اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننے لگو تو انہیں شمار نہیں کرسکتے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ہی حکمت ہے۔ کہ رزق کی تقسیم میں یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے ۔ کہ رزق کی تقسیم میں لوگ مختلف ہیں۔ قرآن مجید نے چند اموار ایسے ذکر کیے ہیں۔ جوبذات خود انسانی تربیت کے لیے تعمیری درس کی حیثیت رکھتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ اس مقام پر ارشاد فرماتا ہے کہ : اگر تم نے نعمتوں پر شکرادا کیا تو تمہیں زیادہ نعمتیں ادا کروں گا۔ ایک دوسرے مقام پر فرمایا : لوگوں کو تلاش اور حصول رزق کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا کہ : اللہ تو وہ ذات ہے کہ جس

نے زمین کو تمہارے لیےزمین کو نرم کر دیا۔ سوتم اس کے راستوں میں چلو پھرو۔ اور اللہ کے رزق میں سے کھاؤ پیو۔ اسی طرح ایک اور مقام پر تقوی اور پرہیز گاری کو وسعت رزق کا معیار بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا: یعنی اگر روئے زمین کے لوگ ایمان لے آئے اور تقوی ٰ اختیار کرلیاتو ہم آسمان اور زمین کی برکتیں ان کے لیے کھو ل دیں۔ نبی پاک ﷺ نے ارشادفرمایا: قلم کی پیدائش سے لے کر قیامت کی دن تک کی ہر چیز کو اللہ پاک نے لوح محفوظ میں ، اللہ تعالیٰ نے جب سے پہلے قلم پیدا فرمایا: تو اسے حکم دیا کہ لکھو! قلم نے عرض کیا لکھو؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تقدیر لکھو۔ جو کچھ ہوچکا ہے۔ اور جو کچھ ہمیشہ تک ہونے والاہے۔ اتنی زیادہ فضیلتوں وبرکات ہیں۔ اللہ کے صفاتی نام ” یارزاق” کیں۔ “یارازق” کی اتنی فضیلتوں وبرکات بتلائیں۔ اب آپ کو ” یا اللہ،یا رزاق” کا وظیفہ بتاتے ہیں۔ آپ نے یہ وظیفہ نماز فجر سے لے کر نماز مغرب سے پہلے پہلے آپ نے اس عمل کو کرنا ہے۔ آپ نے ” یا اللہ ، یارزاق ” کو تین سوتیرہ مرتبہ پڑھنے کا روزانہ کا معمول بنا لینا ہے۔ اور ان دونوں ناموں کے اول وآخر آپ نے درود پاک کو لازم پڑھنا ہے۔ کیونکہ درود پاک کی بہت سی فضیلتوں وبرکات ہیں۔ تو اس لیے آپ نے درود ابراہیمی پڑھنا ہ۔ اس عمل کو اپنی زندگی کا معمول بنالیں۔ انشاءاللہ! اللہ تعالیٰ آپ پر ضرور مہربان ہوگا۔ اور آپ پر اپنی کروڑوں رحمتیں بارش کی طرح برسائےگا ۔آپ کو اپنی رحمتوں سے اپنی نعمتوں سے مالا مال کردےگا۔ لیکن عمل آپ نے پوری نیت سے کرنا ہے۔ پورے یقین کے ساتھ کرنا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *