”اللہ اتنا رزق دے گا کہ سوچ ختم ہوجائے گی“

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا:یا علی جب سب کچھ قسمت میں لکھ دیا جاتا ہے۔ مال و رزق اور اولاد قسمت میں لکھ دیا جاتا ہے۔ تو پھر ہم یہ وظائف اور دعائیں کیوں کرتے ہیں؟ اس کی کیا وجہ ہے؟ اس کا کیا مقصد ہے؟ جب اللہ تعالیٰ انسان کا رزق لکھ دیتے ہیں۔ اس انسان کو اتنا رزق ملناہے اس انسان

کو اتنا مال ودولت ملنا ہے پھر ہم یہ وظائف اور دعائیں بار بار کیوں کرتے ہیں۔ جب بھی دیکھو ہر بندہ یہی دعا کر تا ہے ۔ یا اللہ ! میرے رزق میں اضافہ فرما دے مجھے مال ودولت دے ۔ جب شروع سے قسمت میں لکھ دیا ہے تو پھر دعا کیوں کرتے ہیں۔ اور وظائف کیوں کرتے ہیں؟ تو اس پر حضرت علی نے فرمایا اے آنے والا شخص سن کیا پتہ تیری قسمت میں یہی لکھا ہو۔ کہ تو دعا کرے گا تجھے رزق ملے گا ۔ تو وظائف کرے گا تجھے رزق ملے گا ۔ تو اللہ اور اس کے رسول پر عمل کرے گا۔ تجھے رزق ملے گا۔ حضرت علی کے فرمان سے یہ سبق ملا ہے۔ ہمیں یہ سوچنا چاہیے۔ کہ کیا پتہ ہمارے جو قسمت میں یہی لکھا ہو ۔ یہ عمل کریں گے تو رزق ملے گا۔رزق نہ ہونے کی وجہ سے ہی رشتہ دار دور ہوجاتے ہیں اس لیے آپ معاشرے میں اور مسائل دیکھ لیں۔ وہ رزق نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ جس انسان کے پاس رزق ہو مال ودولت ہوان گھر کے اندر لڑائی جھگڑے اور مسائل بہت کم ہوتے ہیں۔ ایک نہایت اور مجر ب وظیفہ ہے

یہ ایک چھوٹا سا عمل ہے ۔ اس عمل کوشروع کرنے سے پہلے یہ بتاتاہوں ۔ اس عمل کو کھجور پر کرکے فریج میں رکھنا ہے۔ اس کے علاوہ اور اچھی جگہ ہے کھجور رکھ سکتے ہیں۔ یہ اس لیے فریج میں رکھنے کو کہا کہ کھجور خراب نہ ہوجائے ۔ اور ایسی جگہ پر نہ رکھیں جہاں سے بچے نہ کھا جائیں۔ اس کھجور کو آپ نے خود بھی نہیں کھانی اور بچوں سے بھی دور رکھنی ہے۔ جب تک کھجور آپ کے گھر میں موجود رہے گی اللہ تعالیٰ آپ کےرزق میں اضافہ فرمائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : کہ ہم عام انسان کو امام بنا دیتے ہیں اگر اس کے اندر دو چیزیں ہوں۔صبر اور یقین ۔ اللہ کی ذات پر یقین ہواور ساتھ ساتھ صبر بھی کریں۔ اللہ کے گھر میں دیر ہوسکتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ آپ کو خالی کبھی نہیں موڑیں گے۔مایوس کبھی نہ ہونا مایوس وہ ہوتا ہے جس کا رب نہیں ہوتا ہے۔ اس وظیفے میں اول وآخر میں سات سات مرتبہ درود پاک پڑھنا ہے۔ اور درمیان میں صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ایک سو تینتیس مرتبہ پڑھنا ہے۔ اس کو کھجور پر دم کرکے اس کو سنبھا ل کر کھنا ہے۔اس کو خود بھی نہیں کھانی اور دوسروں سے بھی بچانی ہے۔ صرف ایک بار یہ عمل زندگی میں کرنا ہے۔ انشاءاللہ بہت فائدہ ہوگا۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *