”یہ گھڑی کہاں سے آئی اور کہاں غائب ہو گئی ؟“

اسلام آباد (ویب ڈیسک)توشہ خانہ سکینڈل کی خبریں گرم ہیں اور کابینہ ڈویژن نے انفارمیشن کمیشن کے شہری کو تفصیلات فراہم کرنے کے حکم کے خلاف عدالت سے رجوع کررکھا ہے ،ملنے والے تحائف کے بارے میں طرح طرح کی افواہیں زیرگردش ہیں اور وزراءیہ بھی بتارہے ہیں کہ کچھ دوست ممالک تحائف کی

 

 

 

 

تفصیلات سامنے آنے پر اچھا محسوس نہیں کرتے لیکن اب سینئر صحافی امداد سومرو نے دعویٰ کیا ہے کہ دراصل ہیروں سے جڑی ایک گھڑی کا معاملہ ہے جو تحفے میں ملی لیکن حکمران طبقہ نے اسے بازارمیں فروخت کردیا اور وہ گھڑی دوبارہ وہیں پر پہنچ گئی جہاں سے تحفہ ملا تھا جس کے بعد اس ملک کیساتھ پاکستان کے تعلقات میں بھی سردمہری ہوئی ۔ اپنے ولاگ میں امداد سومرو نے بتایا کہ ہیروں سے جڑی گھڑی کا معاملہ تھا جو چھپائے ہی نہیں چھپا، انفارمیشن کمیشن کا فیصلہ چیلنج کیاگیا کہ معلومات سامنے آنے پر ملکی وقار مجروح ہوگا حالانکہ ملک کے وزیراعظم کو دیا گیا تحفہ یقینی طورپر شایان شان ہوگا ، اس میں چھپانے والی کیا بات تھی؟دراصل وزیراعظم کو کچھ تحفے ملے تھے جو انہوں نے قوم کو نہیں بتائے، یا تو جمع نہیں کروائے یا پھر سستے اٹھا کر اپنے کھاتے میں ڈال لیے، وزیراعظم کے اپنے ساتھ لے جانے کا مسئلہ نہیں تھا، ماضی میں بھی لوگ اپنی پسند کی چیزیں لے جاتے، وہ قانون کے مطابق قیمت ادا کرتے اور اپنے پاس رکھ لیتے تاکہ ان کی نسلیں دیکھ سکیں، نوازشریف، آصف علی زرداری اوریوسف رضا گیلانی بھی لے کر جاتے رہے، اب نوازشریف کے بنائے گئے ایک قانون کے پیچھے عمران خان بھی چھپ رہے ہیں۔امداد سومرو نے بتایا کہ عمران خان نئے نئے وزیراعظم بنے تو دوست ملک کا دورہ کیا،اس ملک کے حکمران کے ٹھاٹ باٹھ بھی اورہے، انہوں نے ہیری ونسٹن کی دو گھڑیاں بنوائیں جن پر پرانے ہیرے لگے

 

 

 

 

 

، ایک اپنے لیے اور ایک خان کیلئے تیارہوئی تاکہ تاثر دیا جاسکے کہ بھائی چارہ اور دوستی پکی ہے، یہ گھڑی نہ صرف وزیراعظم نے اپنے کھاتے میں ڈال لی بلکہ یہ مارکیٹ میں فروخت کردی گئی، اس گھڑی کا ایک ہی ڈیلر تھا اور جب واپس گھڑی ان کے پاس پہنچی تو اس نے انہی صاحب سے رابطہ کیا جنہوں نے وزیراعظم پاکستان کو تحفہ دیا تھا، اس گھڑی کی قیمت کروڑوں روپے بتائی جارہی ہے ،ان صاحب نے ڈیلر کو اجازت دی کہ وہ دوبارہ گھڑی خرید لیں ، ڈیلر نے گھڑی خرید کر بنوانے والے صاحب کے پاس پہنچادی، انہوں نے دیکھا تو پارہ آسمان پر چڑھ گیا کہ بھائی اور دوست بنا کر عزت دی اور ہمارا تحفہ بازاروں میں بک رہا ہے جس کی وجہ سے تعلقات میں بھی سرد مہری ہوئی ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس سارے معاملات پر وزیراطلاعات فواد چودھری نے کہا کہ دوست ملک برا مناتے ہیں کہ ان کے تحفے ظاہر کریں۔ اسی معاملے پر وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہبازگل نے بھی کہاکہ دوست ملک تحائف نشر نہیں کروانا چاہتے، ہم نے تو 50 فیصد ادائیگی کی ، ماضی میں 10سے 15فیصد ادائیگیاں ہوتی رہیں لیکن آج تک یہ نہیں بتایا کہ 50فیصد ادائیگی آخر کس چیز کی کی ؟ان کاکہناتھاکہ اب نوازشریف کے بنائے گئے اُسی قانون کے پیچھے وزیراعلیٰ عثمان بزدار بھی چھپ رہے ہیں کہ گاڑیوں کا حساب نہیں دوں گا۔(امداد سومرو مشہور وی لاگر اور نامور صحافی ہیں، یہ تمام حقائق انکے ایک تازہ ترین وی لاگ میں بیان کیے گئے ہیں )

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *