میں سرکاری ملازم ہوں ، ماڈل نہیں کہ رنگ برنگے سوٹ بدلتی پھروں ۔۔۔۔۔۔ انتہائی سادہ طبیعت کی حامل جرمن چانسلر انجیلا مارکل کے حوالے سے کچھ حقائق آپ کو حیران کر دیں گے

لاہور (ویب ڈیسک) بریڈ فورڈ میں مقیم پاکستانی صحافی حافظ عبدالاعلیٰ درانی اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔کاش کسی مسلم ریاست کے حکمران کی بھی ایسی مثال ہوتی 60 سے زیادہ مسلم ریاستوں میں سے ایک بھی ایسا نہیں جیسی جرمنی کی انجیلا مرکل نکلیں، یہاں حبیب بورویبہ ، حسنی مبارک، آصف زرداری

 

 

 

 

 

اور نواز شریف تو سینکڑوں ہیں لیکن امیرالمومنین فاروق اعظم جیسا ایک بھی نہیں، البتہ یورپ کی سب سے بڑی معیشت کی چانسلر انجیلا میرکل ہمیشہ اقدار ، بے لوث اصولوں ، حقائق اور ہمدردی سے چلنے والی قیادت کی عظیم مثال رہیں گی، جرمنی نے اپنے لیڈر کو الوداع کہ دیا، وہ اپنی بالکونیوں پر باہر آئے اور پورے ملک میں 6 منٹ تک کھڑے ہو کر تالیاں بجائی گئیں،اقتدار کے 16 سال میں اینجلا مرکل نے اپنے کسی بھی رشتہ دار کو ریاستی عہدے پر تعینات نہیں کیا، اس نے ریئل اسٹیٹ ، کاریں، پلاٹس اور نجی طیارے نہیں خریدے، 16سال تک اس نے اپنی الماری کا انداز کبھی نہیں بدلا، پریس کانفرنس میں ایک صحافی نے اینجلا مرکل سے پوچھا، ’’ ہمیں احساس ہے کہ آپ نے وہی سوٹ پہنا ہوا ہے ، کیا آپ کے پاس دوسرا نہیں ہے؟ ‘‘اینجلا مرکل نے جواب دیا، “میں سرکاری ملازم ہوں ، ماڈل نہیں، پھر ایک اور صحافی نے پوچھا، “کپڑے دھونے کا کام کون کر رہا ہے ، آپ یا آپ کے شوہر؟” اینجلا مرکل کا جواب تھا، “میں کپڑے ٹھیک کر کے رکھتی ہوں اور میرا شوہر واشنگ مشین چلاتا ہے۔” ایک اور پریس کانفرنس میں ، صحافیوں نےاینجلا مرکل سے پوچھا، “کیا آپ کے پاس ایک گھریلو ملازمہ ہے جو آپ کا گھر صاف کرتی ہے ، کھانا تیار

 

 

 

 

 

کرتی ہے ، وغیرہ،” اینجلا مرکل کا جواب تھا، “نہیں ، میرے کوئی نوکر نہیں ہیں اور نہ ہی ان کی ضرورت ہے، میرے شوہر اور میں یہ کام ہر روز گھر پر خود کرتے ہیں، اینجلا مرکل کسی دوسرے شہری کی طرح ایک عام سے اپارٹمنٹ میں رہتی ہیں، وہ جرمنی کی چانسلر منتخب ہونے سے پہلے جس ‏اپارٹمنٹ میں رہتی تھیں، اینجلا مرکل نے اسے آج تک نہیں چھوڑا اور وہ ایک بھی ولا ، مکان ، تالاب ، باغ کی مالک نہیں ہیں جب کہ ہمارے مسلم حکمرانوں کا قبلہ و کعبہ لندن ہے جہاں ملک کی دولت لوٹ لوٹ کر غیر قانونی طریقے سے لائی گئی ہے، دولت سے مہنگے ترین فلیٹس ، پلازے اور کاروبار بنائے جاتے ہیں اور مثالیں دی جاتی ہیں فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی ۔ انتقال کے وقت کوئی ساتھ نہیں دیتا اور قبر میں اکیلا ہی اترنا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.