میرا بیٹا میرے خواب میں آیا، رونے سے منع کیا اور پھر ۔۔ جانیں ان شہیدوں کے گھر والوں کی کہانی، جو دنیا میں تو نہیں لیکن دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے

فوجی جوان ایک ایسا انسان ہوتا ہے جو کہ ملک کی خاطر، وطن کی حفاظت کے لیے دشمن کی گولی کی پرواہ کیے بغیر شہید ہو جاتا ہے، پاکستانی فوج اور پولیس کے جوان شہادت کا جذبہ لے کر ہی اس فورس کو جوائن کرتے ہیں۔ انہیں دنیاوی عیش و آرام سے کوئی غرض نہیں بلکہ شہادت پیاری ہوتی ہے۔ اس خبر میں آپ کو

 

 

 

 

 

پولیس اور آرمی کے ان شہید جوانوں کے بارے میں بتائیں گے جن کے بچے اور مائیں آج بھی انہیں محسوس کرتی ہیں، جو ان کی حفاظت بھی کر رہے ہیں اور روتا بھی نہیں دیکھ سکتے۔شہید میجر مدثر:2016 میں جنوبی وزیرستان وانا میں دہشت گردوں سے نبر آزما میجر مدثر دشمن کو ناکوں کان چنے چبواتے ہوئے شہید ہو گئے تھے۔ میجر مدثر پاک فوج کا ایک ایسا نام تھا، جس پُر اثر شخصیت ہی دشمن پر رعب طاری کرتی تھی۔دشمن اس قدر ڈرپوک تھا کہ خود سمانے نہیں آیا، میجر مدثر بارودی سرنگ پر پاؤں رکھنے کی وجہ سے شہید ہو گئے تھے۔ شہید کی والدہ اپنے لخت جگر کے بارے میں بتاتی ہیں کہ مدثر ایک ایسا بیٹا تھا جو نہ تو کسی سے جھگڑا کرتا تھا، نہ ہی کسی کے ساتھ بدتمیزی کرتا تھا۔ میرے ددیال اور ننیال والے کہتے ہیں کہ مدثر اکلوتے تھے، جن سے پہلے ان جیسا کوئی نہیں تھا اور نہ ہی کوئی آئے گا۔بہنوں کا بھی احترام کرتے تھے، جبکہ ماں باپ کی خدمت میں سب سے آگے تھے۔ ماموں کی پاسنگ آؤٹ کی تقریب دیکھ کر مدثر کو بھی آرمی کا شوق ہونے لگا تھا۔والدہ کا مزید کہنا تھا کہ اب بھی گھر میں وہ مجھے مسکراتے ہوئے نظر آتے ہیں جیسے کوئی جھلک سی آئی ہے، نظر آتے ہیں مسکراتے بھی ہیں مگر بات کوئی نہیں کرتے۔ والد کہتے ہیں کہ بیٹے کو آرمی میں جانے کا شدید شوق تھا، ایم بی اے کیا تھا مگر آرمی میں ی جانا تھا۔ وہ زہین تھے اور کرکٹ کھیلنے کا شوق تھا۔احمد مبین شہید:13 فروری 2017 کو لاہور کے علاقے مال روڈ پر ہونے والے بم دھماکے میں ڈی آئی جی ٹریفک کیپٹن ریٹائرڈ احمد مبین شہید ہو گئے تھے۔ احمد

 

 

 

 

 

مبین دوران ڈیوٹی ہی شہادت کا درجہ پا گئے تھے۔احمد مبین کا شمار ان فرض شناس آفیسرز میں ہوتا ہے جو کہ اپنے ایماندار اور فرض شناس آفیسرز تھے۔ ڈی آئی جی کے عہدے پر رہنے والے احمد مبین نے جاتے وقت بھی کوئ جائداد نہیں بنائی تھی بلکہ ان کے اکاؤنٹ میں بھی صرف 75 ہزار روپے تھے جو وہ فیملی کے لیے چھوڑ کر گئے تھے۔شہید کی اہلیہ آمنہ مبین کہتی ہیں کہ احمد ایک فرض شناس اور وطن سے محبت کرنے والے آفیسر تھے، میں اکثر کہا کرتی تھی ان سے کہ کیا آپ کو اپنے بچے یاد نہیں آتے اتنے بم دھماکوں کے دور میں، تو وہ کہتے تھے کہ لوگوں کے بھی تو بچے ہیں، اور جو یونیفارم میں نے پہنا ہے اس ڈیوٹی کو بھی پورا کرنا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ احمد نے ہر رشتے کو پورا کیا تھا۔ وہ خوش مزاج تھے، بیٹے کے لیے بہت پریشان تھے، بیٹے کی طبیعت خراب تھی تو وہ ہر 15 منٹ کے بعد کال کرتے تھے۔ لیکن شہادت والے دن انہوں نے کال نہیں کی، مجھے حیرت ہوئی تھی۔ اہلیہ کہتی ہیں کہ شہادت سے ایک دن پہلے وہ بہت خاموش تھے۔ عام طور پر خاموش نہیں بیٹھا کرتے تھے۔جبکہ شہید کی بیٹیاں کہتی ہیں کہ بابا کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے، ان کی آواز ہمیشہ مجھے محسوس ہوتی ہے۔ بیٹی جب یہ بات کر رہی تھی تو آنکھوں سے آنسو چھلک رہے تھے۔ پہلے وہ بطور والد، ہمارے ہیرو تھے، مگر اب وہ پوری قوم کے ہیرو ہیں۔شہید کی والدہ جب انہیں یاد کر رہی تھیں تو آںکھوں میں آنسو اور آواز لڑ کھڑا رہی تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ جب بھی کوئی مہمان آتا ہے اور دروازے کی گھنٹی بجتی ہے، ایسا لگتا ہے مبین ڈیوٹی سے آیا ہے۔ مبین میرے خواب میں آیا تھا اور کہہ رہا تھا کہ امی آپ روئیں مت۔ مبین خواب میں آتا ہے تو میں رونا بند کر دیتی ہوں، نہیں تو شاید میں رونا بند نہ کروں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.