مجھے وزیراعظم بنانے کی خواہش ظاہر کی گئی ، شہباز شریف نے بھی خاموشی توڑ ڈالی

لاہور (ٹاپ نیوز)مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’اس حمام میں ہم سب ننگے ہیں،ہم سب سے غلطیاں ہوئیں، مشرقی پاکستان بھی بنا، صرف ایک ادارے کا قصور نہیں، ریکارڈ کی بات ہے مشرف نے مجھے وزیراعظم بنانے کی خواہش ظاہر کیتھی۔ نجی ٹیلی

 

 

 

 

 

ویژن چینل کے مطابق شہبازشریف نے کہا ہے کہ میرے استعفے کی خبریں جعلی ہیں، میں منظر سے غائب نہیں ہوں۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف میرے قائد ہیں، ہر معاملے میں اِن سے رائے لیتا ہوں۔ن لیگ ہمارا گھر ہے بڑی محنت سے نوازشریف نے اسے بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ میں مشاورت سے فیصلے ہوتے ہیں۔ ملکی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ جتنی سپورٹ عمران خان کو ملی اگر کسی اور کو ملتی تو حالات بہت اچھے ہوتے۔2018میں ہم مشاورت سے نہیں چلے، اگر مشاورت سے چلتے تو آج نواز شریف وزیراعظم ہوتے۔انہوں نے کہا کہ ملک کا کھویا ہوا مقام واپس دلانے کیلئے ذاتی پسند نہ پسند سے نکلنا ہو گا۔شہباز شریف نے اپنے استعفے سے متعلق خبروں کو بے بنیاد قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ میرا گھر ہے اور میں اِس گھر میں ہی ہمیشہ رہوں گا۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز ذرائع کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ آزاد کشمیر انتخابات میں پارٹی صدر کی بنائی ہوئی حکمت عملی نظر انداز کرنے پر شہباز شریف شدید ناراض ہیں، شہبازشریف نے آزاد کشمیر الیکشن میں شکست پر پارٹی عہدے سے مستعفی ہونے کی دھمکی بھی دی۔لیکن فی الحال معاملے کو ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز نے سنبھالا اور شہبازشریف خاموش رہنے کی درخواست کی اور سارا معاملہ پارٹی قائد نوازشریف کے سامنے اٹھانے کی یقین دہانی کرائی، جس پر شہبازشریف خاموش ہوگئے ہیں۔یہ بھی کہا

 

 

 

 

 

جارہا ہے کہ آزاد کشمیر انتخابات میں شکست کے بعد اب مریم نواز ایک سال تک سیاسی بیان بازی نہیں کریں گے۔ لیکن اس پر شاہد خاقان عباسی نے پارٹی صدر شہباز شریف کے استعفے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے اندر کوئی اختلاف نہیں ہے اور نہ ہی شہباز شریف استعفا دے رہے ہیں، مسلم لیگ ن مکمل طور پرمتحد ہے۔دوسری جانب مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء محمد زبیر نے ن لیگ میں دو بیانیوں کی کنفیوژن کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن کو دیوار میں چن دیا گیا ہے، ایسے ماحول میں پارٹی میں اختلاف ہونا فطری ہے کہ کون سا بیانیہ لے کر چلا جائے۔ انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں اعتراف کرتا ہوں کہ پارٹی میں بیانیئے سے متعلق کنفیوژن ہے جس کے باعث لوگوں کے سامنے درست بیانیہ نہیں آسکتا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.