ہر میچ میں تین چار گیندیں گم کرنے والا کھلاڑی

لاہور ( ویب ڈیسک ) نامور مضمون نگار عبدالرشید شکور بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔ کون ہے جو پاکستانی کرکٹ ٹیم کے مڈل آرڈر بیٹسمین آصف علی کے نام سے واقف نہیں اور جو نہیں بھی تھا وہ ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان کے میچوں کے بعد بہت اچھی طرح جان چکا ہے کہ آصف علی

 

 

 

 

کون ہیں لیکن آصف علی کی زندگی میں ایک کٹھن لمحہ ایسا بھی تھا جب انھیں اس بات کا فیصلہ کرنا تھا کہ انھیں نوکری کرنی ہے یا کرکٹ کھیلنی ہے۔ایک طرف شوق تھا تو دوسری طرف زندگی گزارنے کے لیے ملازمت بھی ضروری تھی۔یہ ان دنوں کی بات ہے جب آصف علی فونڈری میں ڈپلومہ کرنے کے بعد اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے فیصل آباد میں لوہے کی ایک فیکٹری میں کوالٹی انسپکٹر کے طور پر کام کیا کرتے تھے۔ ساتھ ہی کرکٹ کا شوق بھی جاری تھا لیکن ملازمت کی وجہ سے جس دن چھٹی ہوتی وہ اسی دن ہی میچ کھیل پاتے۔ بقیہ دنوں میں وہ پریکٹس بھی نہیں کرپاتے تھے کیونکہ فیکٹری سے چھٹی ہونے کے بعد جب وہ گراؤنڈ میں جاتے تو پریکٹس کا وقت ختم ہو چکا ہوتا تھا۔آصف علی بتاتے ہیں ʹایک مرتبہ مصباح بھائی (مصباح الحق ) نے ون ڈے ٹورنامنٹ میں کھیلنے کے لیے مجھے سوئی ناردن گیس کی ٹیم میں موقع دیا۔ میں اپنی فیکٹری کے مالک کو بتائے بغیر چلا گیا۔ جب ایک ماہ بعد واپس آیا تو اس نے پوچھا کہ اتنے دن کہاں غائب تھے۔ میں نے بتایا کہ کرکٹ کھیلنے گیا تھا اور انھیں بتایا کہ میں مصباح الحق اور محمد حفیظ جیسے ورلڈ کلاس کرکٹرز کے ساتھ کھیل کر آیا ہوں لیکن فیکٹری کے مالک نے مجھ سے کہا کہ ہمیں اس بات میں کوئی دلچسپی نہیں۔ آپ کرکٹ کھیل لو یا پھر نوکری کر لوʹ۔انھوں نے کہا کہ ʹمیں نے مالک سے کہا کہ مجھے سوچنے کے لیے ایک دن دے دیں، فوری طور پر ملازمت سے نہ نکالیں۔ پھر میں نے کافی سوچ بچار کے بعد فیصلہ کیا کہ میں کرکٹ کھیلوں گا۔ میں یہ سوچ رہا تھا کہ اگر مصباح بھائی نے مجھے سلیکٹ کیا ہے تو مجھ میں کچھ ٹیلنٹ ہے تبھی انھوں نے ایسا کیا ہو گاʹ۔

 

 

 

اگلے دن آصف جب فیکٹری پہنچے تو ان کے بقول ’میں نے فیکٹری کے مالک سے کہا کہ جس دن میرا میچ ہو اس دن مجھے چھٹی دے دیں اور اس دن کی تنخواہ بھی نہ دیں لیکن وہ نہ مانے لہٰذا میں نے نوکری چھوڑ دی۔‘ان کے مطابق ’اس کے بعد کچھ عرصہ میں ٹیپ بال کرکٹ کھیل کر پیسے کماتا رہا۔ کبھی کسی نے ہزار روپے دے دیے تو کسی نے پندرہ سو روپے۔‘آصف علی کے والد محمد سرور اپنے دور میں فٹبال کے اچھے کھلاڑی رہے ہیں جبکہ ان کے دو بڑے بھائی کرکٹ کھیلتے رہے ہیں۔آصف کے بھائی محمد کاشف کا بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا ʹمیں کلب میچ کھیلنے جاتا تو آصف میرے ساتھ ہوتا تھا۔ وہ بہت چھوٹا تھا اور وہ ہر وقت کھیلنے کی ضد کرتا تھا لیکن چھوٹا ہونے کی وجہ سے ہم اسے نہیں کھلاتے تھے کہ کہیں گیند نہ لگ جائے۔ ایک دن ٹیپ بال میچ میں ہمارا ایک کھلاڑی کم تھا لہٰذا اسے کھلانا پڑ گیا اور وہ آخری بیٹسمین کے طور پر کھیلنے گیا۔’ہم چاہتے تھے کہ وہ آخری دو گیندیں روک لے تاکہ اگلے اوور میں دوسرے بیٹسمین کو کھیلنے کا موقع مل جائے لیکن آصف علی نے لگاتار دو چھکے کرا کے میچ ہی ختم کر دیا۔ یہ چھکے اس نے اس بولر کو کرائے تھے جسے ہم روک کر کھیلا کرتے تھے اسے ہٹ لگانا مشکل ہوتا تھا۔ آصف علی کو ہمیشہ سے ہی اسی طرح کی جارحانہ بیٹنگ پسند رہی ہےʹ۔کاشف بتاتے ہیں ʹ آصف علی ہمیشہ سے سادہ طبعیت کے مالک ہیں۔

 

 

 

بڑوں کی عزت کرتے ہیں۔ فیصل آباد میں دو، تین لوگ ہیں جنھوں نے آصف علی کے ابتدائی دنوں میں ان کی بہت حوصلہ افزائی کی۔ لائل پور جمخانہ کلب کے شہباز بھٹہ اور ریلویز کرکٹ کے طارق فرید کے علاوہ ایک صاحب جو چچا تقی کے نام سے پہچانے جاتے ہیں ان لوگوں نے آصف علی کا بہت ساتھ دیا ہے۔‘لاہور میں مقیم صحافی شہباز علی کا آصف علی سے پرانا تعلق رہا ہے اور وہی انہیں کلب کرکٹ کھلانے فیصل آباد سے لاہور لائے تھے۔ان کا کہنا تھا ʹیہ 2010 کی بات ہے۔ آصف علی سے میں نے پوچھا کہ آپ لاہور میں کلب کرکٹ کھیلیں گے۔ وہ میرے کہنے پر لاہور آ کر میرے کلب گولڈن سٹار کی طرف سے کھیلا کرتے تھے اور اپنی جارحانہ بیٹنگ کے لیے بہت مشہور تھے۔ حریف ٹیمیں ان سے بہت گھبراتی تھیں اور یہ معلوم کرتی تھیں کہ آصف میچ کھیل رہے ہیں یا نہیں۔ دراصل وہ آصف کا سامنا کرنے سے کتراتی تھیں۔‘یہ شہباز علی ہی تھے جن کے کہنے پر آصف علی کو سید پیپرز نے پیٹرنز ٹرافی گریڈ ٹو کے لیے اپنی ٹیم میں شامل کیا تھا۔ ’ایک دن ان کے کوچ نے مجھ سے شکایت کی کہ آپ نے ہمیں کیسا بیٹسمین دے دیا ہے جو پریکٹس میں ہی چھکے کرا کے روزانہ پانچ چھ گیندیں گما دیتا ہےʹ۔کرکٹ کے حلقوں میں یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ آصف علی کو ان کے کریئر میں مصباح الحق نے بہت زیادہ حوصلہ دیا اور انہیں مواقع دیتے رہے ہیں۔

 

 

 

 

خود آصف علی بھی برملا اس بات کا اعتراف کرتے ہیں اور حال ہی میں میچ کے بعد پریس کانفرنس میں بھی انھوں نے ایک بار پھر ایسا کیا۔مصباح الحق نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا ʹ مجھے یاد ہے کہ فیصل آباد ریجن کے کوچ سابق ٹیسٹ کرکٹر اعجاز احمد جونیئر نے ایک دن مجھ سے کہا کہ اس باصلاحیت بیٹسمین کو آزما کر دیکھوں۔‘مصباح الحق کہتے ہیں ʹ آصف علی نے اپنے پہلے ہی ٹی ٹوئنٹی میچ میں سنچری بنائی تھی۔ ان کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ وہ جہاں کی گیند ہوتی ہے وہیں شاٹ کھیلتے ہیں اور ان کے شاٹس باؤنڈری کو کلیئر کرتے ہوئے دور جاتے ہیں۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب انھیں اپنی دفاعی تکنیک کی وجہ سے مشکل پیش آرہی تھی چنانچہ ان کا بیٹنگ نمبر نیچے کیا گیا اور یہ تجربہ کامیاب رہا۔ ʹمصباح الحق نے جس ٹی ٹوئنٹی میچ کا ذکر کیا ہے وہ 24 جون 2011 کو فیصل آباد اور ملتان کے درمیان اقبال اسٹیڈیم میں کھیلا گیا تھا۔ آصف علی کا یہ ٹی ٹوئنٹی ڈیبیو میچ تھا جس میں انھوں نے صرف 59 گیندوں پر سنچری بنائی تھی جس میں سات چھکے اور نو چوکے شامل تھے۔انھوں نے یہ اننگز ایسے وقت میں کھیلی تھی جب میچ کی پہلی ہی گیند پر محمد حفیظ آؤٹ ہو گئے تھے جس کے بعد انھوں نے آصف حسین کے ساتھ سنچری اور مصباح الحق کے ساتھ نصف سنچری کی شراکت قائم کی تھی۔ یہی وہ اننگز تھی جس نے مصباح الحق کو بےحد متاثر کیا تھا اور اس کے بعد وہ ان کی صلاحیتوں کے گرویدہ ہو گئے۔

 

 

 

 

آصف علی پہلی پاکستان سپر لیگ سے ہی اسلام آباد یونائیٹڈ سے وابستہ ہیں۔ اسلام آباد یونائیٹڈ کے سٹریٹجی منیجر حسن چیمہ بتاتے ہیں ʹاسلام آباد یونائیٹڈ میں آصف علی کی شمولیت کا معاملہ بھی خاصا دلچسپ ہے۔ عماد بٹ ان فٹ ہوئے تو مصباح الحق نے ہم سے کہا کہ آصف علی کو ٹیم میں لیتے ہیں۔ وہ آصف علی کی صلاحیتوں پر بہت زیادہ اعتماد کرتے تھے۔ انھوں نے اس سلسلے میں وسیم اکرم اور ڈین جونز کو بھی قائل کیا۔‘یاد رہے کہ آصف علی کو پہلے دو سیزن میں محدود مواقع ملے تھے لیکن اس کے بعد ان کے جوہر کھلنے شروع ہوئے۔ 2018 میں پشاور زلمی کے خـلاف فائنل کو کون بھول سکتا ہے جس میں ان کے حسن علی کو لگائے ہوئے لگاتار تین چھکوں نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو دوسری مرتبہ چیمپیئن بنوا دیا تھا۔انھوں نے صرف چھ گیندوں پر ناقابل شکست 26 رنز بنائے تھے اس سیزن میں انھوں نے مجموعی طور پر 16 چھکے لگائے تھے۔ اگلے سال ان کی چھکے لگانے کی عادت مزید پختہ ہو چکی تھی اور اس پی ایس ایل میں ان کے چھکوں کی تعداد 26 تھی۔آصف علی کی چھکوں سے محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے ٹی ٹوئنٹی کریئر( اس میں انٹرنیشنل میچز بھی شامل ہیں) میں مجموعی طور پر 245 چھکے لگا چکے ہیں ۔وہ ٹی ٹوئنٹی میچوں میں سب سے زیادہ چھکے لگانے والے پاکستانی بیٹسمینوں میں تیسرے نمبر پر ہیں۔ان سے زیادہ چھکے لگانے والے بیٹسمین شعیب ملک ( 336چھکے ) اور شاہد

 

 

 

 

آفریدی ( 252چھکے ) شامل ہیں۔آصف علی وہ وقت کبھی نہیں بھول سکتے جب ان کی دو سالہ بیٹی سرطان کے مرض میں مبتلا تھی اور اسے علاج کے لیے بیرون ملک بھی لے جایا گیا تھا بعد ازاں وہ وفات پا گئی۔آصف علی ان دنوں زبردست ذہنی دباؤ میں تھے۔ انھیں جب بیٹی کی بیماری کا پتہ چلا تو اس وقت وہ کراچی کنگز کے خلاف پی ایس ایل کا میچ کھیل رہے تھے جس میں انھوں نے صرف دس گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے دو چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے 24رنز بنا کر اپنی ٹیم کو کامیابی سے ہمکنار کیا تھا۔ان کی بیٹی کی بیماری پر اسلام آْباد یونائٹڈ کے ہیڈ کوچ ڈین جونز کو بہت افسوس تھا اور انھوں نے اسلام آباد یونائٹڈ میں یہ تجویز پیش کی تھی کہ آصف علی کی بیٹی کے علاج کے لیے رقم اکٹھی کی جائے۔ان کی اس معاملے سے جذباتی وابستگی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اسی دوران ہونے والی ایک پریس کانفرنس میں وہ اپنے جذبات پر قابو پائے بغیر نہیں رہ سکے تھے اور آبدیدہ ہو گئے تھے۔آصف علی ایسے کرکٹر ہیں جو سابق کرکٹرز، میڈیا اور سوشل میڈیا ہر جانب سے بہت زیادہ تنقید کی زد میں رہے ہیں لیکن اس تنقید کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس میں ذاتیات حاوی رہی ہے اور اس تنقید میں مصباح الحق کو بھی شامل کیا جاتا رہا ہے۔آصف علی کا اس بارے میں کہنا ہے ’میں سوشل میڈیا سے خود کو دور رکھتا ہوں۔ اعداد و شمار بتانے والے یہ تو

 

 

 

 

بتاتے ہیں کہ تین اننگز کھیلی ہیں لیکن وہ یہ نہیں دیکھتے کہ آخری اوور کی آخری دو یا تین گیندیں کھیلی ہیں۔ وہ اعداد و شمار آگے رکھ دیتے ہیں حالانکہ انھیں مڈل آرڈر بیٹسمین کی صورتحال کو نظر میں رکھنا چاہیے۔‘مصباح الحق کہتے ہیں ’یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ تنقید کرنے والے حقیقت پسندی کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ اگر نو اننگز کی بات کی جاتی ہے لیکن کہنے والے یہ نہیں بتاتے کہ ان نو اننگز میں صرف نو گیندیں ہی کھیلی گئی ہیں۔‘مصباح الحق کہتے ہیں ’میری آصف علی سے نہ کوئی رشتے داری ہے نہ کوئی پرانی شناسائی تھی۔ یہ ان کی اپنی صلاحیت ہے جس کی وجہ سے وہ آگے بڑھتے رہے ہیں اور میں نے صرف اسی ٹیلنٹ کو دیکھتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کی ہے۔‘آصف علی کے بھائی کاشف کا کہنا ہے ’ہمیں اس بات کا اندازہ ہے کہ کس قسم کی تنقید آصف علی پر ہوتی رہی ہے لیکن ہم نہ اس کا جواب دیتے ہیں نہ افسوس کرتے ہیں نہ ہی غصہ۔ اصل میں یہ کھیل ہے جس میں بڑے سے بڑے کرکٹر کے کریئر میں اتار چڑھاؤ آتے ہیں۔ اسی ورلڈ کپ میں آپ دیکھ لیں کرس گیل اور پولارڈ بڑی اننگز نہیں کھیل پا رہے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے بارے میں نامناسب الفاظ استعمال کیے جائیں۔‘آصف علی کی موجودہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں دو قابل ذکر اننگز کے باوجود ان پر طنز کرنے کا موقع ہاتھ سے گنوایا نہیں گیا ہے۔ اس معاملے میں سابق ٹیسٹ کرکٹر یونس خان بھی پیچھے نہیں رہے۔یونس خان نے نجی ٹی وی چینل کے

 

 

 

 

پروگرام کے میزبان وسیم بادامی سے آصف علی کے ویڈیو کلپ کے بارے میں پوچھا کہ آج ان کا تبصرہ معصومانہ چلے گا یا جارحانہ یا پھر غیر معمولی جارحانہ جس پر وسیم بادامی کا جواب تھا آج غیر معمولی جارحانہ چلے گا۔گفتگو کا موضوع آصف علی کا وہ ویڈیو کلپ تھا جس میں وہ کہہ رہے تھے کہ ’سب کوچز کا شکریہ لیکن خاص کر مصباح بھائی کا شکریہ جنھوں نے ہر قدم پر میری رہنمائی کی۔ میرا کریئر ان کی موجودگی میں شروع ہوا۔ انھوں نے مجھ پر بہت محنت کی جس پر میں ان کا شکر گزار رہوں گا۔‘یہ کلپ دکھائے جانے کے بعد یونس خان کا تبصرہ تھا کہ جب آصف علی بات کر رہے تھے تو ان کی نظریں نیچے کیوں تھیں؟جب ہم اکثر اپنی بیگمات سے بات کرتے ہیں تو وہ نظریں چرا رہی ہوتی ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ آنکھوں میں آنکھیں ڈالو تو وہ ہچکچاتی ہیں۔ یہاں مجھے کچھ گڑبڑ لگ رہی ہے۔ میں کوئی ہیراپھیری والی بات نہیں کرتا۔‘یونس خان کا کہنا تھا اگر کسی کھلاڑی کو پاکستان کے لیے کھیلنا ہے تو وہ کھل کر بات کرے دل میں نہ رکھے۔اس موقع پر پانچ ٹیسٹ میچ کھیلنے والے سابق ٹیسٹ کرکٹر تنویر احمد کا تبصرہ بھی کم حیران کن نہ تھا کہ یہ چیز کب ختم ہو گی کہ کھلاڑی اچھی بولنگ یا بیٹنگ کرتے ہیں اور پریس کانفرنس میں بیٹھتے ہیں تو کھلاڑیوں کے نام کیوں لیتے ہیں کہ مجھے فلاں لے آیا تھا فلاں نے میری سپورٹ کی۔ بھائی اب بڑے ہو جاؤ۔ یہ ختم کریں آپ لوگ کیا دکھانا چاہتے ہیں؟ کسی کا نام نہیں لینا چاہیے۔ان دونوں حضرات کی اس گفتگو پر سوشل میڈیا پر جو ردعمل سامنے آیا اس میں زیادہ تر لوگوں نے یونس خان کے بارے میں سخت مایوسی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان جیسے بڑے کھلاڑی کو اس طرح کا تبصرہ دینا مناسب نہیں لگتا اور اگر کوئی کسی پر احسان کرتا ہے تو اعلیٰ ظرف ہی اسے یاد رکھتا ہے۔اسی ردعمل میں ایک تبصرہ یہ بھی تھا کہ آصف علی کی شاندار کارکردگی پر دنیا بھر کا میڈیا ان کی تعریف کر رہا ہے ایسے میں یہ دو سابق کرکٹرز ان پر انگلی اٹھا رہے ہیں۔(بشکریہ : بی بی سی )

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.