چند دنوں میں نئے ڈی جی ISIکا انتخاب! نیا آرمی چیف کسے بنایا جاسکتا ہے؟ بڑے فیصلوں کا وقت آگیا

سینئر صحافی کامران خان کا کہنا ہے کہ پاک فوج میں اہم تبدیلیوں کا زمانہ آ رہا ہے۔آئندہ ایک سال اس حوالے سے بہت اہم ہو گا۔وزیراعظم کو فوج کے حوالے سے تین اہم تعیناتیاں کرنی ہیں۔وزیراعظم عمران خان نئے آئی ایس آئی چیف کا انتخاب کریں گے۔آئندہ سال نومبر میں جنرل قمر جاوید باجوہ اور جنرل ندیم رضا کی جگہ

 

 

 

 

 

نئے چیف آف آرمی سٹاف اور نئے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی تعیناتی ہو گی۔ فی الحال عمران خان کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آئی ایس آئی کی سربراہی لیفٹننٹ جرنل فیض حمید کے بعد کس کو سونپی جائے۔وزیراعظم آرمی چیف کی جانب سے متوقع پیش کردہ تین لیفٹننٹ جنرلز کے پینلز میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں گے۔عمران خان کی کوشش ہو گی کہ انہیں اپنی سوچ اور فیصلوں میں پوری قوت سے چلنے والے جنرل فیض کا نعم البدل مل جائے۔ کیا عمران خان آئی ایس آئی میں جنرل فیض کا نعم البدل مل جائے گا۔پاک فوج میں چند کلیدی اندرونی تبدیلیوں کا آغاز اکتوبر میں ہو گا۔3 لیفٹننٹ جنرل یعنی لیفٹننٹ جنرل ماجد احسان ، لیفٹننٹ جنرل عامر عباسی اور لیفٹننٹ جنرل حمود الزماں خان اکتوبر کے تیسرے ہفتے میں ریٹائرڈ ہو جائیں گے۔لیفٹننٹ جنرلز کے لیے مخصوص تین پوزیشنز خالی ہوں گی۔اس کے بعد آرمی چیف کو تھری سٹارز عہدوں پر تعیناتیاں کرنی ہوں گی۔ آئندہ سال نئے چیف آف آرمی سٹاف کی تعیناتی کرنی ہو گی۔روایت کے مطابق تین چار سینیئر لیفٹننٹ جنرلز جنہوں نے لازما کور بھی کمانڈ کی ہو ،ان میں سے کسی ایک کو عمران خان آرمی چیف نامزد کریں گے۔اس وقت 4 انتہائی سینیر لیفٹننٹ جنرلز ہم پلہ اس کے حامل ہیں،ان میں راولپنڈی کور کماندر سابق سی جی ایس لیفٹننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا،سابق کور کمانڈر راولپنڈی لیفٹننٹ جنرل اظہر عباس،سابق کور کمانڈر پشاور لیفٹننٹ جنرل نعمان محمود، اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل فیض حمید شامل ہیں۔ جنرل فیض نے فی الحال کور کمانڈ نہیں کی ہے۔اس لیے یہ بات یقینی ہے کہ جنرل باجوہ جلد انہیں کسی کور کی کمانڈ سونپ دیں گے۔اس طرح جنرل فیض بھی آئندہ سال آرمی چیف بننے کے لیے اہل ہو جائیں گے۔تاہم فی الحال یہ دیکھنا ہے کہ آئندہ سال آئی ایس آئی کی سربراہی کس کو سونپی جاتی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *