”نائٹ شفٹ میں کام کرنیوالے افراد میں امراض قلب کا زیادہ خطرہ ،نئی طبی تحقیق میں چونکا دینے والے انکشافات“

برسلز(این این آئی)رات کی شفٹ میں کام کرنے والے افراد میں امراض قلب کا خطرہ دیگر کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔طبی جریدے یورپین ہارٹ جرنل میں شائع تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو لوگ نائٹ شفٹ میں کام کرتے ہیں ان میں دل کی دھڑکن

 

 

 

 

 

کی رفتار غیرمعمولی حد تک بڑھنے کا خطرہ (ایٹریل فبریلیشن)زیادہ ہوتا ہے۔تحقیق میں 2 لاکھ 8 ہزار سے زیادہ افراد کے ڈیٹا کو استعمال کرکے ایٹریل فبریلیشن یا اے ایف اور نائٹ شفٹ کے درمیان تعلق کو دریافت کیا گیا۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو لوگ اپنی زندگی کا زیادہ وقت نائٹ شفٹ میں کام کرتے ہوئے گزارتے ہیں ان میں دل کی دھڑکن کی اس بیماری کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔تحقیق کے مطابق ایسے افراد میں امراض قلب کا خطرہ بھی دیگر سے زیادہ ہوتا ہے تاہم فالج یا ہارٹ فیلیئر کا نہیں۔چین کے جیا تٹونگ یونیورسٹی اسکول آف میڈیسین اور امریکا کے ٹولان یونیورسٹی اسکول آف میڈیسین کی اس مشترکہ تحقیق میں اے ایف کا خطرہ بڑھانے والے تمام تر جینیاتی عناصر کی جانچ پڑتال کی گئی۔محققین نے بتایا کہ اگرچہ تحقیق میں نائٹ شفٹ اور ایٹریل فبریلیشن کے واضح تعلق ثابت نہیں ہوسکا مگر نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ اس کے نتیجے میں امراض قلب کا خطرہ بڑھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ نائٹ شفٹ کا دورانیہ کم کرکے اس خطرے کو کم کیا جاسکتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.