سرکاری ملازمین ،ججز اور افسران کوملنے والے پلاٹس قانونی ہے یا غیر قانونی؟ ہائیکورٹ نے فیصلہ سُنا دیا

اسلام آباد ہائی کورٹ نے افسران، ججز اور سول سرونٹس کو اضافی پلاٹس کی الاٹمنٹ غیر قانونی قرار دے دی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے جیورسٹ فاؤنڈیشن کی درخواست منظور کرنےکا فیصلہ سنایا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ججز اور سول سرونٹس کو پلاٹ الاٹمنٹ کے حوالے سےکوئی قانون موجود

 

 

 

 

 

نہیں، حکومت اگر اعلیٰ عدلیہ کے ججز اور سول سرونٹس کو ایک سے زائد پلاٹس دینا چاہتی ہے تو پہلے قانون سازی کرے۔عدالت نے معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے رکھنے کا حکم بھی دیا ہے۔خیال رہےکہ سول سرونٹس اور ججز کو اضافی پلاٹس کی الاٹمنٹس کے خلاف جیورسٹ فاؤنڈیشن کی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ 27جون 2006 کو وزیراعظم نے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کی بھجوائی گئی سمری منظور کی، سمری منظور کرنےکی وجوہات قانونی نہیں بلکہ خواہشات پر مبنی ہیں، اضافی پلاٹس دینے کی منظوری کالعدم قرار دی جائے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.