خواتین کے لیے مل کر آواز بلند کریں

افغانستان کی خواتین کے لیے مل کر آواز بلند کریں نیویارک (11 ستمبر 2021ء) : پاکستان کی نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ افغان لڑکیوں کو اسکول جانے اور ان کے اساتذہ کو کام کرنے کی اجازت دینے کے لیے مل کر آواز بلند کریں۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کی نوبل انعام یافتہ ملالہ

 

 

 

 

 

یوسفزئی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ افغانستان میں حکمرانوں کی تبدیلی ملک کی خواتین اور لڑکیوں پر کس طرح اثر انداز ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ 15 سال قبل ان کے بچپن میں عوام کو کوڑے مارنے، اسکولوں کی جانب سے لڑکیوں کے لیے دروازے بند کرنے اور شاپنگ مالز میں بینرز لگا کر خواتین کو دور رکھنے کے لیے کہا جاتا تھا۔ یہ ایک ایسی کہانی ہے جسے اگر ہم ابھی عمل نہیں کریں گے تو بہت سی افغان لڑکیاں بھی سناتی دکھائی دیں گی۔انہوں نے کونسل سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ طالبان کو واضح پیغام دیں کہ خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کو برقرار رکھنا کسی بھی قسم کے ورکنگ ریلیشن شپ کی شرط ہے۔ملالہ یوسفزئی نے سلامتی کونسل سے کہا کہ میں نے ہر لڑکی کے اسکول جانے کے حق کے لیے آواز اٹھائی، میں نے دیکھا کہ ایک بندوق بردار نے میری اسکول بس کو روکا، میرا نام لیا اور مجھ پر گولی چلائی، میں اس وقت 15 سال کی تھی، میں نے دیکھا کہ میرا گھر صرف تین سالوں میں پرامن سے پر خوف میں بدل گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ فغان خواتین اپنے مستقبل کے انتخاب کے حق کا مطالبہ کر رہی ہیں، کابل میں ان کے احتجاج کو آنسو گیس، اور دیگر ذرائع سے روکا جارہا ہے۔ میں نے بہت سی افغان خواتین اساتذہ اور وکلا کے ساتھ کام کیا ہے جنہوں نے گزشتہ دو دہائیوں سے تعلیمی نظام کو از سر نو تعمیر کیا۔ خیال رہے کہ ملالہ دنیا بھر میں لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ کے لیے بنے اربوں ڈالر کے فنڈ کی سربراہی کر رہی ہیں

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.