”بابا فرید گنج شکرؒ نے منظوری دے دی ، ۔۔“

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار منصور آفاق اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔عمران خان جب پاکپتن شریف کے دور پر گئے اور انہوں نے بابا فرید گنجشکرؒ کی چوکھٹ کوچو ما تو ایک طرف سے بدعت بدعت کا شوراٹھا اور دوسری طرف سے کچھ لوگوں نے قرآن حکیم کی اس آیت کی تلاوت فرمائی (چلا ہم کو ان

 

 

 

 

 

کے راستے پر جن پر تو نے اپنا انعام کیا)۔قدرت کے اپنے کام ہیں ایک بچہ نماز پڑھ رہا تھا۔نماز کے بعد اپنے مصلے کے نیچے دیکھتا ہے توشکر پڑی ہے، وہ اٹھاتا ہے اور مسکراتے ہوئے کھا لیتا ہےاور وقت کے ماتھے پر بابا فرید گنجشکرؒ کے نام سے ثبت ہوجاتا ہے۔ اسی بچے کا ایک واقعہ یاد آرہا ہے کہ ایک بستی میں ہاتھ میں انار لئے ایک فقیردکھائی دیا، اس نے کسی سے پوچھتا کہ یہاں کوئی درویش رہتا ہے،تو جواب ملا’’نہیں۔ یہاں کوئی درویش نہیں رہتا‘‘۔مگر فقیر نےبضد ہوکر کہا’’کوئی تو ہوگا‘‘۔وہ آدمی بولا ’’اور تو کوئی نہیں۔ یہاں ایک پاگل سا قاضی بچہ دیوانہ ہےجو عبادت میں مگن رہتا ہے‘‘۔فقیر نے کہا۔ ’’کہاں ہے؟ ‘‘وہ بولا’’وہ سامنے درختوں کے پاس بیٹھا ہے‘‘۔فقیربچے کے پاس گیا۔ بچے کا پاجامہ پھٹا ہوا تھا۔فقیر اس بچے کے پاس بیٹھ گیا اور اپنا انار توڑ کر کھانے لگا اور بچے کو بھی کچھ انار دئیے تو بچے نے کہا ’’میرا روزہ ہے‘‘۔فقیر اپنے منہ میں انار کے دانے پھینکتے ہوئے بچے کو گہری نظروں سے ٹٹولنے لگاتوبچے نے پاجامہ کی گھٹنوں کی پھٹی ہوئی جگہ کو اکٹھا کیا۔ درویش بولا’’اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بخارا میں ایک درویش تھا، وہ علم حاصل کرنے میں اس قدر مصروف رہا کہ سات سال تک ایک ہی لنگوٹا باندھے رکھا‘‘۔ درویش چلا گیا۔ بچے نےدیکھاکہ ایک دانہ انار کا ز

 

 

 

 

 

مین پر پڑا ہے اس نے وہ اٹھا کر اپنی جیب میں ڈال لیا۔جب بابافرید اپنے مرشد خواجہ قطب الدین کاکیؒ کے مرید ہوئے تو انہوں نے انہیں کہا کہ میرے اندر یہ جو روحانی روشنی کا احساس پیدا ہوا۔ یہ اسی انار کے دانے کو کھانے سے ہوا۔ مجھے افسوس ہے کہ میں نے تمام دانے کیوں نہ کھا لیےتو بختیار کاکیؒ نے فرمایا کہ جو کچھ تھا اسی ایک دانے میں تھا جو تم تک پہنچ گیا۔ باقی دانوں میں کچھ نہ تھا۔ اس بچے نے بڑی بڑی ریاضتیں کیں۔ اُوچ شریف کی مسجد حاجات کے پاس ابھی تک کنواں موجود ہےبابا فرید ؒنے مسلسل 40 را تیں چلہ معکوس کھینچا۔اسی طرح کا ایک کنواں بورے والا کے نواح میں حضرت دیوان چاولی کے مزار کے پاس بھی انہی کی نسبت سے مشہور ہے۔انہوں نے لاہور میں داتا علی ہجویریؒ کے مزار کے پاس بھی چلہ کاٹا۔ وہ جگہ آج بھی ٹبہ بابا فرید کے نام سے معروف ہے۔خواجہ بختیار کاکیؒ نے وصال کے وقت اپنا خرقہ، دستار اور جوتے قاضی حمید ﷲ ناگوری کے سپرد کرتے ہوئے کہاکہ میرے وصال کے پانچویں دن یہ امانتیں بابافریدؒ کے حوالے کر دینا اور کہنا کہ میری جگہ اب تمہاری ہے۔ اسی رات

 

 

 

 

 

بابافریدؒ نے اپنےمرشد کو خواب میں دیکھا کہ وہ انہیں بلا رہے ہیں۔ وہ صبح ہوتے ہی دہلی روانہ ہوگئے۔ چوتھے دن وہاں پہنچے، پانچویں دن امانتیں سپرد کی گئیں۔ انہوں نے دو رکعت نماز پڑھی، خرقہ پہنا اور مرشد کی جگہ مسند نشین ہوگئے۔ بابا فرید ایک طویل عرصہ تک بیت المقدس میں بھی رہے جب صلاح الدین ایوبی نے یروشلم فتح کیا تھا تو اس نے تمام فقیروں اور درویشوں کو وہاں بلایا تھا بابا فریدؒ بھی انہی میںتھے۔ اب بھی یروشلم میں بابا فرید کی سرائے موجود ہے۔ قصہ یہ ہے کہ اپوزیشن کے ایک رہنما ایک درویش کے پاس گئے اور اپنے حق اور عمران خان کے خلاف دعا کی درخواست کی تو انہوں نےبابا فریدؒ کے متعلق یہ جو کچھ میں نے اوپر لکھا ہے یہ تمام باتیں کیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو بھی فقیروں اور درویشوں کے پاس بہت جاتی تھیں۔ آصف علی زرداری نے بھی پیر اعجاز کو اپنے ساتھ صدر ہائوس میں ٹھہرایا ہوا تھا۔ ایک مرتبہ نواز شریف بھی جناب طاہر القادری کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر غار حرا تک لے گئے تھے۔ مولانا طارق جمیل نے تو خود عمران خان کو درویش قرار دے دیا تھا۔کہا تھا۔ ’’میں نے اپنی زندگی میں عمران خان جیسا درویش، سچا، کھرا اور دین کا درد رکھنے والا حکمران نہیں دیکھا‘‘۔ایک اور درویش کاواقعہ بھی درج کرتا چلوں، پچھلے دنوں ان سے ملنے ایک وزیر تشریف لے گئے تو انہوں نے بزبان شاعر کہا۔یہاں وزیروں مشیروں کا کوئی کام نہیں۔۔۔یہ جھونپڑی ہے فقیروں کی، جائیے صاحب۔۔۔معین الدین چشتی اجمیریؒ کا

 

 

 

 

 

بھی ایک واقعہ ہے کہ جب ان سے ملنے کےلئےدربار ِ بادشاہ سے بڑے بڑے لوگوں کا ایک وفد پہنچااور کچھ تحائف پیش کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے جو کچھ کہا، وہ پیراہن ِ شعر میں کچھ یوں ہے۔۔۔حرام ہم پہ خیالِ طلب معافی دو۔۔۔امیرِ شہر! چلو جاؤ اب، معافی دو۔۔۔فقیرلوگ ابھی کربلا نہیں بھولے۔۔۔اٹھو یہاں نکل جاؤ سب، معافی دو۔۔۔تم اہلِ زر سے تباہی تمام بستی میں۔۔۔ہر ایک دکھ کا تمہی ہو سبب معافی دو۔۔گورنر پنجاب چوہدری سرور کو بھی کسی نے کسی درویش کے پاس جانے کا مشورہ دیا ہے مگر انہوں نے اس پر زیادہ توجہ نہیں دی، اب دیکھتے ہیں کہ وہ کس وقت مستعفی ہوتے ہیں، نئے گورنر کون بنتے ہیں۔ ویسے سیف اللہ نیازی نے گزشتہ روز وزیر اعلیٰ عثمان بزدار سے تفصیلی ملاقات کی ہے۔ الیکشن کمیشن کو بھی کسی پیر فقیر کی ضرورت ہے۔ اپوزیشن کو بھی کسی پیر فقیر کی اشد ضرورت ہے۔ اس کےلئے نئی انتخابی اصلاحات کو روکنا ممکن نہیں رہا۔کہتے ہیں کہ ان اصلاحات کے بعد وہ پارٹیاں جو امیدواروں کے سروں پر الیکشن جیتا کرتی تھیں وہ فارغ ہوجائیں گی اورکل یقینی طور پرپارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں انتخابی اصلاحات کا بل پاس ہو جائے گا۔ لگ رہا ہے کہ بابا فریدؒ کے دربار سند حاصل کرنے والا ابھی سات سال اور پاکستان کا وزیر اعظم رہے گا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.