ایک نوجوان کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا

کراچی (ویب ڈیسک) کراچی میں اسپتالوں کی مبینہ غفلت سے سڑک حادثے میں زخمی ہونے والا نوجوان لڑکا زندگی کی بازی ہار گیا، واقعہ چند روز قبل اس وقت پیش آیا جب روڈ ایکسیڈنٹ میں شدید زخمی ہونے والے نوجوان کو 6 گھنٹوں تک ایک سے دوسرے اسپتال منتقل کیا جاتا رہا جس کے نتیجے میں اس کی افسوسناک

 

 

 

 

موت واقع ہوگئی، محکمہ صحت سندھ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ 17 سالہ نوجوان عارف ہاشم 12 ستمبر کو سڑک حادثے میں شدید زخمی ہوا تھا جس کے بعد اسے ضیاء الدین اسپتال ناظم آباد، عباسی استپال اور جناح استپال لے جایا گیا تاہم ان تینوں اسپتالوں میں اس کا علاج نہیں کیا گیا۔ لڑکے کو شدید زخمی حالت میں ایک سے دوسرے اسپتال منتقل کیا جاتا رہا یہاں تک کہ اس کی موت واقع ہوگئی۔ ہاشم رات ایک بج کر 10 منٹ کے قریب شدید زخمی حالت میں لیاقت آباد پل پر ملا تھا۔ چند راہ گیروں جو اپنی گاڑیوں میں سوار تھے نے اسے قریب واقع سامبروز اسپتال کریم آباد منتقل کیا تاہم اس اسپتال میں ایکسینڈنٹ اور ٹراما کیئر سے متعلق سہولیات کا فقدان ہے جس کے بعد لڑکے کو ضیاء الدین اسپتال ناظم آباد ریفر کردیا گیا۔ تاہم ضیاء الدین استپال کی انتظامیہ نے مریض کے علاج کی بجائے شدید زخمی لڑکے کو کالر پہنچایا اور کینولا لگانے کے بعد اسے عباسی استپال منتقل کردیا۔ محکمہ صحت کے عہدیدار نے انکوائری رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ نوجوان کو کئی گھنٹے تک علاج سے محروم رکھا گیا جس کے باعث وہ جانبر نہ ہوسکا۔ عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ عباسی اسپتال میں سی ٹی اسکین کی سہولت میسر نہیں تھی جبکہ اس کا نیورو سرجری ڈیپارٹمنٹ کئی ماہ سے غیر فعال ہے جس کے باعث اسٹاف نے مریض کو جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر ریفر کردیا۔ عہدیدار

 

 

 

 

 

نے بتایا کہ عباسی اسپتال میں سی ٹی اسکین کی سہولت صبح نو بجے سے لیکر رات نو بجے تک فعال رہتی ہے۔ اسی طرح عباسی اسپتال میں گزشتہ کئی ماہ سے نیورو سرجری کی سہولیات میسر نہیں ہیں اسی لئے اسپتال کی ایمرجنسی انتظامیہ نے مریض کو ہاتھ لگائے بغیر جناح اسپتال ریفر کرنے کا فیصلہ کیا۔ عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ جب مریض کو جناح اسپتال کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ لے جایا گیا تو وہاں کی انتظامیہ نے مریض کو داخل نہیں ہونے دیا۔ محکمہ صحت کے عہدیدار نے ایمبولنس ڈرائیور محمد جنید کے حوالے سے بتایا کہ جناح اسپتال کی انتظامیہ نے یہ کہہ کر مریض کا علاج کرنے سے انکار کردیا کہ وہ بغیر کسی شناخت یا اٹینڈنٹ کے بغیر کسی بھی مریض کا علاج نہیں کرسکتے، انتظامیہ نے ایمبولنس ڈرائیور کو ہدایت کی کہ وہ اس مریض کو لے کر دوبارہ عباسی استپال لے جائے اور اس کا علاج نہیں کیا گیا۔ ایدھی کی ایمبولنس مریض کو واپس لیکر عباسی اسپتال لے آئی جہاں ایک بار پھر عباسی اسپتال کی انتظامیہ نے اسے طبی سہولت فراہم نہیں کی اور بغیر کوئی طبی امداد ملے 6 گھنٹے تک تڑپنے کے بعد مریض دم توڑ گیا۔ اس حوالے سے دی نیوز کو ایک مختصر ویڈیو بھی موصول ہوئی ہے جس میں عباسی اسپتال میں اسٹریچر پر لیٹے ہوئے مریض لڑکے کو دیکھا جاسکتا ہے۔ ایدھی کے ڈرائیور اور اسٹاف کا کہنا ہے کہ جب وہ مریض کو لیکر دوبارہ عباسی اسپتال آئے تو وہ زندہ تھا تاہم اسے کوئی

 

 

 

 

طبی امداد فراہم نہیں کی گئی اور چند منٹس بعد وہ دم توڑ گیا۔ محکمہ صحت کے عہدیدار نے بتایا کہ چند سینئر میڈیکل افسران پر مشتمل انکوائری کمیٹی نے عباسی اسپتال اور جناح اسپتال کی ایمرجنسیز کے انچارجز کیخلاف قانونی اور محکمہ جاتی کارروائی کی سفارش کی ہے اور ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹس کی پوری کی پورٹی ٹیم کو نوکری سے برطرف کرنے کا کہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مزید کارروائی کے لئے انکوائری اب وزیر صحت ڈاکٹر عذرہ پیچوہو کے پاس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر صحت نے واقعے کی تحقیقات کیلئے ایک اعلیٰ سطحی انکوائری بورڈ ترتیب دینے اور ایمرجنسی اور ٹراما کیئر کے مراکز میں اصلاحات کی تجویز دی ہے تاکہ روڈ ایکسیڈنٹس اور اس طرح کے دیگر واقعات کے بعد قیمتی جانوں کو بچایا جاسکے۔ حادثے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھنے والے لڑکے کے بہنوئی ذوالفقار نے بتایا کہ وہ لوگ بہت غریب ہیں اور ان کا کوئی اثر ورسوخ نہیں ہے تاہم وہ لوگ مذکورہ تمام اسپتالوں کیخلاف ایف آئی آر درج کروائیں گے جن کی غفلت کی وجہ سے ان کے خاندان کا ایک رکن ان سے بچھڑ گیا ہے۔ ایدھی حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات روز مرہ کا معمول بن گئے ہیں اور نامعلوم زخمیوں کو اسپتال انتظامیہ کی جانب سے علاج کی سہولت دینے سے انکار کردیا جاتا ہے کیوں کہ ان کے علاج پر کچھ خرچ آتا ہے اور ایمرجنسیز کا اسٹاف اس طرح کے مریضوں سے جان چھڑا کر اسے دوسرے اسپتالوں کو ریفر کردیتے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.