مرنے کے بعد ہمارے ساتھ کیا ہوتاہے؟ کچھ وقت کیلئے موت کے منہ میں گئے نوجوان نے بتادیا

موت کے بعد ہمارے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ 20منٹ تک کے لیے موت کے منہ میں چلے جانے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے والے نوجوان نے اس سوال کا ایسا حیران کن جواب دے دیا ہے کہ سن کر یقین کرنا مشکل ہو جائے۔ ڈیلی سٹار کے مطابق اس 28سالہ نوجوان کا نام سکاٹ ڈرومونڈ ہے جو سکینگ (Skiing)کرتے ہوئے حادثے کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلا گیا تھا۔

 

 

 

 

 

سکاٹ اب عمر کی 60کی دہائی میں ہے۔ وہ اس واقعے کے متعلق بتاتے ہوئے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا اور اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔آنسوﺅں کو روکنے کی کوشش کرتے ہوئے سکاٹ نے بتایا کہ ”اس سے پہلے میں نے یہ واقعہ اپنی بیوی اور چند انتہائی قریبی دوستوں کو بتایا ہے۔ آج میں پہلی بار یہ واقعہ دنیا کو سنانے جا رہا ہوں، جس نے میری زندگی بدل کر رکھ دی تھی۔اس روز میں نے سب سے پہلے اپنے بازو میں ایک سنسنی یا کسی چیز کے احساس کو محسوس کیا جو میرے دل تک گیا۔ اس کے بعد اگلی چیز جو میں جانتا ہوں وہ یہ ہے کہ میں نے اپنے آپ کو آپریشن تھیٹرمیں اپنے جسم کے اوپر ہوا میں معلق دیکھا۔میں دیکھ رہا تھا کہ میری لاش آپریشن تھیٹر کی ٹیبل پر پڑی ہے، میں اپنے جسم میں لگے ہوئے ہر ایک ٹانکے کو دیکھ رہا تھا۔ اس وقت مجھے تنہائی کا احساس نہیں تھا۔ میں اپنے ساتھ کسی اور کو بھی محسوس کر رہا تھا۔آج میں سمجھتا ہوں کہ وہ کوئی اور نہیں بلکہ خدا تھا۔“سکاٹ بتاتا ہے کہ ”میں آپریشن تھیٹر میں موجود ہر ڈاکٹر اور نرس کو دیکھ رہا تھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ جب میری موت ہوئی تو میں نے سب سے پہلے ایک نرس کو تھیٹر سے باہر کی طرف دوڑتے ہوئے دیکھا، وہ مدد کے لیے چلا رہی تھی۔ آپریشن تھیٹر کے اس منظر کے بعد میں نے خود کو ایک سرسبزوشاداب میدان میں کھڑے دیکھا جہاں میں خود کو بہت تروتازہ محسوس کر رہا تھا۔ وہاں وہ شخص، جسے میں اپنے ساتھ محسوس کر رہا تھا، وہ میرے سامنے کھڑا تھا

 

 

 

 

 

مگر میں اسے دیکھ نہیں سکتا تھا۔وہاں میں نے پہلے بائیں طرف دیکھا، ادھر بہت بڑے بڑے درخت تھے، وہ بہت عجیب نظر آنےوالے درخت تھے، ایسے درخت میں نے زمین پر کبھی نہیں دیکھے۔ پھر میں نے دائیں طرف دیکھا۔ ادھر انتہائی خوبصورت جنگلی پھول تھے۔ پھول کے ان پودوں کا قد میری کمر کے برابر تھا۔ میں ان پھولوں کی خوبصورتی میں اس طرح کھو گیا، گویا ان میں کوئی کشش ہو۔اس سارے وقت میں یہ احساس میرے ساتھ رہا کہ جیسے میں پیچھے مڑ کر نہیں دیکھنا چاہتا یا مجھے پیچھے مڑ کر دیکھنے کی اجازت نہ ہو۔یہ وہ وقت تھا کہ وہ آدمی جس کا احساس میرے ساتھ اب تک رہا تھا اور وہ مجھے اس جگہ تک لے کر آیا تھا، اب محسوس ہونے لگا کہ جیسے چلا گیا ہوں اور اب میں اکیلا رہ گیا تھا مگر اب بھی سب کچھ بہت پرسکون تھا۔ پھر میں نے ایک سفید بادل کو اپنے بہت قریب سے گزرتے دیکھا۔“سکاٹ نے بتایا کہ ”اس کے بعد اچانک میرے سامنے ایک ویڈیو چلنی شروع ہو گئی جس میں میری پیدائش سے لے کر موت تک کی زندگی دکھائی جا رہی تھی۔میں ہر اچھی یا بری چیز دیکھی جو میں اپنی زندگی میں کر چکا تھا۔یہاں کچھ اس طرح کا احساس تھا جیسے کوئی میری زندگی کے متعلق باز پرس کر رہا ہو اور اس ویڈیو کے ذریعے اندازہ لگا رہا ہوں کہ میں زندگی میں کیا کچھ کرتا رہا تھا۔اس ویڈیو کے بعض حصے دیکھ کر مجھے بہت تکلیف ہوئی،

 

 

 

 

 

بعض حصے دیکھ کر مجھے اچھا محسوس ہوا۔ یہ ویڈیو دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ مجھے بہتر انداز میں زندگی گزارنی چاہیے تھی۔اب جس طرح شروع سے مجھے غیرمحسوس طریقے سے ہدایات دی جا رہی تھی اور یہاں تک لایا گیا تھا، اسی طرح ہدایت کی گئی کہ میں اٹھوں اور اس بادل کی طرف جاﺅں۔ یہاں اس بادل سے ایک مضبوط ہاتھ باہر آتا ہے اور مجھے بتایا جاتا ہے کہ ’ابھی تمہارا وقت نہیں آیا۔ تمہیں ابھی کچھ اور کام کرنے ہیں۔‘ اس آواز کے ساتھ ہی وہ ہاتھ مجھے پیچھے کی طرف دھکیلتا ہے اور میں واپس ہسپتال میں پڑے اپنے جسم میں آ جاتا ہوں۔“ سکاٹ نے کہا کہ ” وہاں میں نے جو کچھ دیکھا وہ اس قدر خوبصورت اور صاف و شفاف تھا کہ میں وہاں سے واپس نہیں آنا چاہتا تھا۔ بعد ازاں ہوش میں آنے کے بعد جب ڈاکٹروں نے مجھے بتایا کہ میں 20منٹ تک مردہ رہا اور پھر زندہ ہو گیا تو میرے لیے یہ حیرت کی بات تھی تاہم صرف میں ہی جانتا تھا کہ ان 20منٹ کے دوران میں کہاں تھا۔ اس واقعے کے بعد میں نے یکسر مختلف زندگی گزارنا شروع کی۔ اس سے پہلے کی زندگی میں میرے لیے پیسہ اہمیت رکھتا تھا لیکن اس کے بعد میری پہلی ترجیح میری فیملی بن گئی اور آج تک ہے۔“

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *