جوڑ توڑ شروع! یوسف رضا گیلانی کی قسمت کا فیصلہ ہوگیا، پاکستانی سیاست میں بڑی تبدیلی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو چئیرمین سینیٹ بنانے کے لیے جوڑ توڑ شروع کر دیا گیا ہے۔ جنگ اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے سینیٹ چئیرمین شپ کے حصول کے لیے جوڑ توڑ کا سلسلہ بھی شروع کر دیا ہے۔خبریں گردش کر رہی ہیں کہ پیپلز پارٹی سینیٹ کی

 

 

 

 

 

چئیرمین شپ جنوبی پنجاب کو دلوانا چاہتی ہے تاکہ یہاں اپنا سیاسی اثرو رسوخ بڑھایا جا سکے۔ اس سلسلہ میں مصدقہ ذرائع نے یہ اطلاع دی ہے کہ پیپلز پارٹی سابق وزیراعظم اور سینئر وائس چئیرمین پی پی یوسف رضا گیلانی کو نہ صرف سینیٹ کا ٹکٹ دینا چاپتی ہے بلکہ انہیں منتخب کروا کر چئیرمین سینیٹ بنانے کی منصوبہ بندی بھی کر رہی ہے۔یہ بھی خبریں سامنے آ رہی تھیں کہ پی ڈی ایم ایک مشترکہ امیدوار سامنے لائے گی۔تاہم پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کا مشترکہ طور پر سینیٹ الیکشن لڑنے کے معاملے پر نیا جھگڑا شروع ہو گیا۔ پی ڈی ایم میں شامل چھوٹی جماعتوں نے ن لیگ اور پی پی سے مشترکہ طور پر سینیٹ الیکشن لڑنے کی صورت میں سندھ اور بلوچستان اور پنجاب سے اپنا حصہ مانگ لیا ہے۔ مشترکہ پلیٹ فارم پر الیکشن لڑنا ہے تو پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتوں کو برابری کی سطح پر حصہ دیا جائے۔ اگر ہمارے چند ووٹوں سے کوئی سینیٹر بن سکتا ہے تو ووٹ نہ دینے کی صورت میں ہار بھی سکتا ہے ۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق پی ڈی ایم میں شامل چھوٹی جماعتوں نے فوری اجلاس طلب کرنے پر بھی زور ڈالنا شروع کر دیا ہے۔ جس کے پیش نظر مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی اب کوشش میں ہیں کہ کسی طریقہ سے چھوٹی جماعتوں کو راضی کیا

 

 

 

 

 

جائے ۔ ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ خود مولانا فضل الرحمٰن بھی یہ خواہش رکھتے ہیں کہ سندھ ،پنجاب یا کے پی کے سے متحدہ اپوزیشن کی طرف سے انہیں سینٹ کا اُمیداوار نامزد کیا جائے ۔ پاکستان پیپلزپا رٹی اور مسلم لیگ ن کے اندر بحث شروع کا آغاز ہو گیا ہے کہ پنجاب یا سندھ سے اگر مولانا فضل الرحمان کو اگر الیکشن لڑوایا جاتا ہے تو دونوں جماعتوں میں سے کسی ایک جماعت کو اپنا اہم ترین اُمیدوار ڈراپ کرنا پڑے گا جس کے لیے دونوں جماعتیں کسی طور تیار نہیں ہیں ۔ تاہم ایسا صاف ظاہر ہے کہ سینیٹ الیکشن کے بعد سیٹ ایڈجسٹمنٹ اور وعدہ خلافی پر پی ڈی ایم واضح طور پر تقسیم ہو جائے گی ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.