”وزیراعظم عمران خان کا انوکھا انکشاف“

اسلام آباد(ویب ڈیسک)وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سیاست میں آنے سے قبل ملکی سیاسی نظام کے بارے میں زیادہ علم نہیں تھا نہ میرا خاندان سیاست میں تھا اور نہ ہی میرا کوئی رشتہ دار سیاست میں تھا ‘لوگوں کو سوئمنگ کرتا دیکھ کر سمندر میں چھلانگ لگائی اور سیاست بھی سوئمنگ کی طرح سیکھی‘ بینظیر سے

 

 

 

 

 

میری دوستی تھی‘نواز شریف کو کرکٹ کا شوق تھا تاہم وہ حادثاتی طور پر وزیراعظم بن گئے۔سیاسی کیریئر کے آغاز پر (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں نے شمولیت کی دعوت دی جو میں نے قبول نہیں کی کیوں کہ میں توان کی مالی بدعنوانی کے خلاف ہی سیاست میں آیاتھا ‘پاکستان میں دو بڑے خاندانوں نے ملک کو بے دردی سے لوٹا ہے‘ ملک کی ترقی کے لئے ہم سب کو متحد ہوکر کام کرنا ہوگا۔ گزشتہ تین سال سے طاقتور طبقے کو قانون کے طابع لانے کی جدوجہد کررہے ہیں۔ وزیرِ اعظم نے ان خیالات کا اظہار منگل کو پاکستان کے بارے میں اکرام سہگل کی کتاب ’’اے پرسنل کرونیکل آف پاکستان‘‘ کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ عمران خان نے کہا کہ جب اشرافیہ بدعنوان ہوتو ملک بدحال ہوجایا کرتے ہیں، ملکی حالات دیکھ کر سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی بدعنوانی جانتا تھا، اس لئے اپنی الگ سیاسی جماعت بنائی۔اوائل میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی قیادت نے شمولیت کی دعوت دی، نواز شریف اور زرداری کو ان کی چوری اور بدعنوانی پر چیلنج کیا۔ دریں اثناءعمران خان نے ملک بھر میں پولیو پر قابو پانے کے لیے صوبائی چیف سیکرٹریز اور 22 ہائی رسک اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کے ورچوئل اجلاس کی صدارت کی۔ ان اضلاع میں پنجاب کے 3 اضلاع (لاہور ، راولپنڈی اور فیصل آباد)، سندھ کے 8 اضلاع (کراچی ڈویژن کے تمام اضلاع اور قمبر)، خیبر پختونخوا کے 5 اضلاع (خیبر ، بنوں ، پشاور، لکی مروت اور جنوبی وزیرستان)، بلوچستان کے 5 اضلاع (کوئٹہ، پشین ، قلعہ عبداللہ ، ژوب اورمستونگ) اور اسلام آباد شامل ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.