نامور پاکستانی سکالر ڈاکٹر جاوید احمد غامدی نے عمران خان کے تبدیلی کے خواب کی تعبیر کے لیے کیا کچھ کیا تھا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نواز شریف اور عمران خان، دونوں آج وہ نہیں ہیں جو بیس سال پہلے تھے۔ دونوں ارتقا کے مراحل سے گزرے ہیں۔ نواز شریف حقیقت پسندی سے رومان کی طرف آئے ہیں۔ عمران خان رومان سے حقیقت پسندی کی طرف۔ نواز شریف صاحب کی سیاست کا آغاز، سب جانتے ہیں کہ نامور کالم نگار خورشید

 

 

 

 

 

 

ندیم اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ جنرل ضیاالحق کی چھتری تلے ہوا۔ وہ ایک سرمایہ دار گھرانے کے نوجوان تھے جو بھٹو کی ‘سوشلسٹ‘ سیاست کے متاثرین میں سے تھا۔ سوشلزم سے سرمایہ دار کا ویسے ہی بیر ہے لیکن اس معاملے میں تو خاندانی نقصان بھی شاملِ حال ہو گیا تھا جب ان کی اتفاق سٹیل مل کو قومی تحویل میں لیا گیا۔نواز شریف کی سیاست کے دو ادوار ہیں۔ دورِ اوّل ان تمام خوبیوں اور خامیوں کا مجموعہ ہے، جن سے ہماری روایتی سیاست عبارت ہے۔ وہ ایک آمر کے ساتھی تھے۔ انہوں نے جنرل ضیاالحق کو وہ تمام سیاسی کمک فراہم کی جو انہیں پیپلز پارٹی کو ختم کرنے کے لیے درکار تھی۔ سیاسیات کے ایک طالب علم کے طور پر میرا تجزیہیہ ہے کہ نواز شریف نے بتدریج خیر کی طرف قدم بڑھائے ہیں۔ ان کی سیاست میں اخلاقی اعتبار سے نکھار آیا ہے۔ شفافیت میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے اقتدار کی سیاست سے نکل کر اقدار کی سیاست کی سمت میں پیش قدمی کی ہے۔عمران خان کی سیاست کے بھی دو ادوار ہیں۔ وہ وادیٔ سیاست میں اترے تو ایک آدرش ان کے سامنے تھا۔ ہر شعبے کے بہترین افراد نے ان کی حوصلہ افزائی کی اور ان سے امیدیں باندھیں۔ جنر ل حمید گل نے خیال کیا کہ ان کی عوامی مقبولیت کو خیر کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جاوید احمد غامدی صاحب نے اپنا وقت دیا۔ عمران خان اکثر ان کے پاس جاتے اور دین سے لے کر سیاست تک، ہر معاملے میں راہنمائی لیتے۔ جاوید صاحب نے اپنے ایک با صلاحیت ساتھی، ڈاکٹر فاروق خان کو ان کے حوالے کر دیا۔ صحافت میں مجیب الرحمن شامی صاحب اور ہارون الرشید جیسے حضرات نے دستِ تعاون دراز کیا۔ اس دور میں، میں اگرچہ ایک مشتِ غبار تھا مگر آندھی کے ساتھ تھا۔یہ دور عمران خان کے آئیڈیل ازم کا دور ہے۔ اس کا خاتمہ 2011ء میں ہو گیا۔ لاہور کے جلسے کے بعد مقتدر حلقوں نے انہیں اچک لیا۔ ان کے گرد خاص مزاج اور پس منظر کے لوگوں کا اضافہ ہونے لگا۔ نتیجتاً وہ سب لوگ آہستہ آہستہ چھٹنے لگے

 

 

 

 

جو کسی آدرش کے ساتھ ان کے ہم سفر بنے تھے۔ تبدیلی کا یہ عمل 2014ء میں مکمل ہو گیا۔ یہ عمران خان کی سیاست کے دوسرے دور کا نقطہ عروج تھا۔ نوجوان‘ جو رومان میں جیتے ہیں، اس تبدیلی کا پوری طرح ادراک نہ کر سکے۔ رومان میںیہی ہوتا ہے۔بعد کے واقعات نے بتایا کہ وہ نواز شریف کے برخلاف، رومان سے حقیقت پسندی کی طرف بڑھے ہیں۔ ان کی سیاست اخلاقی اعتبار سے دھندلاتی گئی۔ شفافیت میں کمی آتی گئی۔ انہوں نے اقدار کی سیاست سے نکل کر اقتدار کی سیاست میں قدم رکھ دیا۔ ایک سوال کے جواب سے اس ارتقا کو سمجھا جا سکتا ہے: پہلے کس علم اور اخلاق کے لوگ ان کے ارد گرد ہوتے تھے اور آج کس درجے کے لوگ ان کے گرد ہیں؟زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ وہ اس نئی صحبت میں آسودہ ہیں۔ گویا ان کیمن پسند دنیایہی ہے۔ اقتدار میں آ کر انہوں نے اخلاقیات کو جس طرح نظر انداز کیا اور انتقام میں قانون کو بازیچہ اطفال بنا دیا، اس سے بھی ان کے بارے میں مایوسی بڑھی ہے۔ کارکردگی اورگورننس کا جو حال ہے، اس کے مظاہر بھی ہمارے چاروں طرف بکھرے ہوئے ہیں۔ ان کی شخصیت کا حقیقی روپ آج ہمارے سامنے ہے۔سیاست کبھی بھی مثالی نہیں ہوتی۔ یہ معاشرے کا پرتو ہوتی ہے اور معاشرہ کبھی مثالی نہیں ہوتا۔ اس میں جتنا خیر ہوتا ہے، سیاست میں بھی اتنا ہی خیر تلاش کیا جا سکتا ہے۔ ہم اگر تدریجاً خیر کی طرف بڑھ رہے ہیں تو یہ بات اطمینان کا باعث ہے۔ اگر ہم خیر سے شر کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں تو یہ بات پریشانی کا باعث ہونی چاہیے۔جو لوگ سیاسی مقدمہ قائم کرتے وقت بات بات پر ماضی کے حوالے دیتے ہیں، ان کو چاہیے کہ فرد کے ارتقا کو جانیں۔ اس سوال کا جواب ہمارے لیے انتخاب کو آسان کر سکتا ہے کہ کون خیر کی طرف بڑھا ہے اور کون شر کی طرف؟

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.