”کئی سال قبل عمران خان نے ہارون الرشید کے سامنے یہ بات کس خاتون رہنما کے بارے میں کی تھی ؟“

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔تاریخ کا یہ سبق ہم نے بھلا دیا۔نمود اور فروغ کے لئے کسی بھی قوم کو ایک کم از کم اتفاق رائے درکار ہوتا ہے اور مضبوط سول ادارے۔ حیرت کسی طرح کم نہیں ہوتی۔اعظم سواتی کو کیا سوجھی کہ الیکشن کمیشن کو نذر آتش کرنے کی بات

 

 

 

 

 

کی۔اس قدر غیظ و غضب‘اس قدر غیظ و غضب! ایسی ہی ایک حرکت کا نتیجہ وہ بھگت چکے‘جب اپنے محل سے متصل ایک غریب خاندان پہ چڑھ دوڑے تھے۔ان کی وزارت جاتی رہی اور ایک مدت کے بعد بحال ہوئی۔ کیا وہ اپنی انا کو آسودہ کرنے کے آرزو مند تھے یا اپنے لیڈر کو؟سوال یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کے سربراہ اور ارکان کا انتخاب کس نے کیا تھا۔حکومت اور اپوزیشن کے اتفاق رائے سے یہ مرحلہ طے پاتا ہے۔سب جانتے ہیں کہ سربراہ کا نام خود عمران خان نے تجویز کیا۔ شہباز شریف نے‘جس پہ رضا مندی ظاہر کی۔ضروری نہیں کہ الیکشن کمیشن کا ہر فیصلہ درست ہو مگر ان سے بات کی جا سکتی ہے۔اعلان لڑائی کا مطلب کیا ہے؟ حکومت کا کام معاملات کو سلجھانا ہے‘الجھانا نہیں۔وزیر اعظم کا مسئلہ یہ ہے کہ ذہنی ریاضت سے گریز کرتے ہیں۔اپنے کسی وفادار کو ذمہ داری سونپ دیتے ہیں۔ چھائونیوں کے بلدیاتی الیکشن ایک حالیہ مثال ہیں۔کراچی سے قومی اسمبلی کی دو تہائی سیٹیں جیتنے والی تحریک انصاف صرف 19483ووٹ حاصل کر سکی۔پیپلز پارٹی کے کونسلروں کی تعداد اگرچہ کم ہے مگر اس نے 22135ووٹ لئے۔ جماعت اسلامی کی کارکردگی حیرت انگیز ہے؛ اگرچہ چھ کونسلر ہی اس کے جیت سکے مگر 16422ووٹ ملے ۔وہ جماعت 2018ء کے الیکشن میںجس کا صفایا ہو گیا تھا۔ ملتان کا سانحہ اور بھی بڑا ہے۔دس کی دس سیٹیں حکمران جماعت نے ہار دیں۔نہایت تفصیل سے خالد مسعود خان نے اسباب و عوامل کا ذکر کیا ہے۔ملتان شہر کو جو اپنے ہاتھ کی لکیروں کی طرح

 

 

 

 

 

پہنچانتے ہیں۔تعجب خیز صرف یہ نہیں کہ پی ٹی آئی نے شکست کھائی بلکہ یہ کہ جیتنے والے آزاد امیدواروں نے دو سے پانچ گنا تک ووٹ لئے۔ آخر کیوں؟اس لئے کہ ٹکٹ بانٹنے کی ذمہ داری عامر ڈوگر کو سونپ دی گئی۔اس علاقے سے‘جن کا کوئی تعلق نہ تھا۔اہلیت اور مقبولیت کی بجائے ذاتی وفاداروں کو ترجیح دی۔شاہ محمود قریشی مددگار ہوتے لیکن دور بیٹھے تماشا دیکھتے رہے۔یہی کچھ شیخ رشید نے راولپنڈی میں کیا۔اپنے آپ سے فرصت نہ پانے والا آدمی انتخابی مہم سے لاتعلق رہا‘حالانکہ وہ راولپنڈی شہر کو کسی بھی دوسرے شخص سے زیادہ سمجھتا ہے۔ لاہور میں نون لیگ کی فتح قابل فہم ہے اور سیالکوٹ میں بھی‘اگرچہ آخری وقت پر دولت کا دریا بہا کر پانچ میں سے دو نشستیں پی ٹی آئی نے حاصل کر لیں۔الزام ہے کہ ایک ایک ووٹ کے لئے دس ہزار روپے ادا کئے گئے۔ 2013ء کے عام انتخابات میں عمران خان نے چار سیٹوں سے الیکشن لڑااور تین سے جیت گئے۔پشاور اور میانوالی میں دو سیٹیں خالی کیں تو ایسے امیدواروں کو چنا جو بری طرح ہارے۔میانوالی کے بارے میں تو کچھ نہ پوچھا ۔ امیدوار کا حال معلوم تھا‘پشاور کے بارے میں سوال کیا تو خان صاحب نے کہا:پرویز خٹک نے سفارش کی تھی۔ اتفاق سے اس روز ان سے بات ہوئی‘ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان جب پارٹی میں شامل ہوئیں۔کسی اور موضوع پر بات کرنا تھی لیکن وہ یہ سمجھے کہ اس پر ٹوکنے کی جسارت کروں گا۔چھوٹتے ہی بولے:اب تو ہم الیکشن جیت ہی جائیں گے کہ

 

 

 

 

 

ڈاکٹر صاحبہ بھی آن ملیں۔سامنے کا نکتہ یہ تھا کہ جیت بھی جا تو پورے ملک‘بالخصوص گوجرانوالہ ڈویژن پہ کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ انہی دنوں علیم خان کے ہاں‘ان سے ملنے گیا تو عرض کیا:ایسے لوگ آپ نے پارٹی میں شامل کر لئے ‘تاثر جن کا خراب ہے۔کچھ نیک نام لوگوں مثلاً فخر امام سے رابطہ کیجیے۔ان کا احترام بہت ہے۔جواب ملا‘وہ بوڑھے آدمی ہیں۔حیرت ہوئی کہ کیا ان سے ٹریکٹر چلوانا ہے۔ذہنی طور پر وہ بالکل بیدار ہیں اور مرتب آدمی۔1947ء میں پاکستان وجود میں آیا تو قائد اعظم کی عمر کیا تھی؟ڈونلڈ ٹرمپ اور جوبائیڈن امریکہ کے صدر بنے تو ان کے سن و سال ؟ 2013ء کے الیکشن سے ایک سال پہلے تین سروے ہوئے۔دو کا نتیجہ یہ تھا کہ نوے سیٹیں پی ٹی آئی جیت لے گی۔تیسرے کا اہتمام ہارون خواجہ نے کیا۔وہ اس فن کے آدمی ہیں‘نہایت باخبر۔پاکستان بزنس فورم کے سربراہ کی حیثیت سے ایسے کئی اداروں سے گہرے مراسم رکھتے تھے‘اس مہم میں جو مددگار ہوئے۔نہایت مسرت کے ساتھ انہوں نے بتایا۔اگر وہ کچھ بھی نہ کرتے تو 91سیٹیں لے مرے گا۔ خان صاحب نے کچھ بھی نہ کیا۔حاسدین کرام نے ہارون خواجہ کا راستہ روکا تو وہ تماشائی رہے۔لاہور میں ایک سنٹرل سیکرٹریٹ کی تجویز انہوں نے دی تھی۔مقصد یہ تھا کہ ایک ایک حلقے کا سروے کر کے امیدواروں کا انتخاب کیا جائے۔ سیکرٹریٹ کی سربراہی ظاہر ہے کہ انہی کو سونپنی چاہیے تھی۔خان صاحب نے مگر ایک صاحبِ زر کا نام تجویز کیا۔وہ خاموش ہو گئے۔خان صاحب نے بار بار ان سے رابطہ کیا

 

 

 

 

 

لیکن لاتعلقی میں انہوں نے عافیت سمجھی۔ اسی ہنگام ایک دن بنی گالہ میں خان صاحب سے ملنے گئے تو ان کے ایک قریبی ساتھی نے ریستوران میں کھانا کھلانے کی فرمائش کی۔ہارون خواجہ کو حیرت ہوئی مگر وہ انہیں ساتھ لے گئے ۔وہاں پہنچتے ہی غیبت کا پھاٹک کُھلا۔ اپنے لیڈر کے بارے میں ایسی گفتگو کی کہ بعد میں چھپنے والی ریحام خان کی کتاب بھی اس قدر ترش نہ ہو گی۔شریف آدمی ہیں۔چپ کا روزہ رکھ چھوڑا۔وزیر اعظم اب بلدیاتی الیکشن پر تلے ہیں۔معاملہ فہمی اور مردم شناسی میں‘جس آدمی کا حال یہ ہو‘آخر کار اس کی سیاست کا انجام کیا ہو گا؟یاد رہے کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار ہیں۔ اپنے ایک قریبی دوست سے ایک بار خان صاحب نے کہا تھا۔اتنے لوگ مجھ سے محبت نہیں کرتے جتنے کہ وہ نواز شریف اور آصف علی زرداری سے متنفر ہیں۔ خان صاحب کا ذہنی مسئلہ یہ ہے کہ خود کو وہ اوتار سمجھنے لگے ہیں۔کوئی اوتار نہیں ہوتا۔جتنا کوئی زیادہ ہمدرد‘صاحب ادراک اور حقیقت پسند ہو۔جتنی ریاضت اور مشاورت کر سکے‘کامیابی کا امکان اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے۔ تحریک انصاف کیا ہے؟بھان متی کا کنبہ۔مختلف پارٹیوںکے لوگ۔ اپنی جماعت کی نامقبولیت سے پریشان ہو کر پی ٹی آئی کا رخ کرنے والے پیپلز پارٹی کے بعض امیدوار۔نون لیگ سے ناراض چند لیڈر۔ اسٹیبلشمنٹ نواز شریف کی بھارت نوازی سے نالاں تھی۔امریکہ بہادر علاقے کا تھانیدار جسے بنانے پر تلا ہے۔سب سے بڑھ کر وہ لاکھوں نوجوان تبدیلی کے نعروں نے‘جن کا لہو گرمایا۔شخصیت پرستی نے جسے صیقل کیا اور اقتدار کی پری تک وہ جا پہنچے۔ کوئی سیاسی جماعت نہیں۔ملک میں کوئی سیاسی پارٹی

 

 

 

 

 

نہیں‘جس کی تشکیل جمہوری ہو۔بادشاہت ہے اور ایسی بادشاہت کہ کھلے عام پاکستان کو غلیظ ترین مغلطات دینے والے حمد اللہ محب سے نواز شریف ملاقات کرتے ہیں تو ان کے کسی حامی کو قلق نہیں ہوتا۔جاوید لطیف فرماتے ہیں:ان کی قیادت کے خلاف کارروائی ہوئی تو ’’کھپے پاکستان‘‘ کا نعرہ بلند نہیں کریں گے۔آزاد کشمیر الیکشن میں گوجرانوالہ میں ان کی پارٹی کے اسمٰعیل گجر نے کہا:وہ بھارت سے امداد کی درخواست کر سکتے ہیں۔ زرداری خاندان کی لوٹ مار پر رضا ربانی کا دل دکھتا ہے اور نہ شیری رحمن کا۔ پاکستان پہ اللہ مہربان ہے۔افغانستان سے بھارت کا کانٹا قدرت نے نکال دیا۔امریکہ بہادر کی نوازش یہ ہے کہ وہ خود پاکستان کو چین کی طرف‘آزاد خارجہ پالیسی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ایٹمی پروگرام اور بیس سالہ تجربے کے طفیل بھارت اب پاکستان پہ دھاوا نہیں بول سکتا۔اس کا مگر کیا علاج کہ ہم خود اپنی تباہی کے درپے ہیں۔تمام تر توانائی ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کے لیے کھپانے پر تلے رہتے ہیں۔ تاریخ کا یہ سبق ہم نے بھلا دیا۔نمود اور فروغ کے لئے کسی بھی قوم کو ایک کم از کم اتفاق رائے درکار ہوتا ہے اور مضبوط سول ادارے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *